Al-Risala · January 2020

Hitting the nail on the head.

Al-Risala, January 2020, pp. 47–49

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مثل بہت بامعنیٰ ہے۔ اس میں ایک مادی مثال کے ذریعہ انسانی کامیابی کا راز بتایا گیا یہ ایک معلوم بات ہے کہ کیل جب کسی چیز پر ٹھونکی جاتی ہے، تو اس کے ٹھیک سر پرہتھوڑی ماری جاتی ہے۔ اگر ہتھوڑی کی مار ادھر ادھر پڑے، تو وہ صحیح طور پر اندر نہیں داخل ہوگی، بلکہ ٹیڑھی ترچھی ہو کر رہ جائے گی۔ اسی طرح زندگی کے معاملات میں یہ جاننا پڑتا ہے کہ ٹھیک ٹھیک وہ کون سا مقام ہے جہاں ضرب لگانی چاہیے۔ صحیح ضرب کے نتیجہ ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ مثلاً آپ کسی موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں یا کسی شخص سے ایک اختلافی موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ وہ بات کہیں جو ٹھیک ٹھیک موضوع کے اوپر چسپاں ہوتی ہو تو سننے والا آپ کے نقطۂ نظر کو ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ ایسی باتیں کریں جو زیر بحث موضوع پر ٹھیک فٹ نہ بیٹھتی ہو، تو آپ کی بات لوگوں کو بے وزن محسوس ہوگی۔ وہ اپنے آپ کو اندرونی طور پر مجبور نہ پائیں گے کہ آپ کے نقطۂ نظر سے اتفاق کر لیں ۔ ایک انجینئر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ماسکو یونیورسٹی سے انجینئرنگ کیا ہے۔ وہ روسی زبان بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ انھوں نے روس کے بارے میں کئی دلچسپ باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے لینن کا ایک مقولہ روسی زبان میں بتایا، جس کا ترجمہ یہ تھا: " اگر ایک ہاتھ پیچھے کھسکو تو دو ہاتھ آگے بڑھنے کے ارادے سے "۔

یہ مثل بہت بامعنی ہے۔ زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں، جب کہ آدمی کو پیچھے ہٹنا پڑتا مگر وہ پسپائی نہیں ہے، جو منصوبہ بند ہو۔ یعنی آدمی پیچھے ہٹنے کے لیے قدم پیچھے نہ کرے، بلکہ اسی کا پیچھے ہٹنا آگے بڑھنے کی ایک تدبیر ہو۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹے، تو اس لیے پیچھے ہٹے کہ اس کے ذریعہ اس کو دو قدم آگے بڑھنے کا راستہ ملے گا۔

قدیم عرب شعرا کے یہاں ایسے اشعار ملتے ہیں، جن میں بڑی حکمت کی باتیں ہوتی ہیں۔ سبكناه ونحسبه لجينـاً فأبدى الكير عن خبث الحديد یعنی ہم نے اس کو پگھلایا، اور اس کو چاندی سمجھتے تھے، مگر بھٹی نے ظاہر کیا کہ وہ زنگ آلود لوہا ہے۔

اس شعر میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ انسان بظاہر اچھا دکھائی دیتا ہے، مگر جب تجربہ ہوتا ہے، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا ہے، اور کون کیا نہیں ہے۔ اسی طرح ایک شعر یہ ہے:

وكم على الأرض من خضر ويابسة وليس يرجم إلا ماله ثمر یعنی زمین پر کتنی ہی تر اور خشک چیزیں ہیں، مگر پتھر اسی پر مارے جاتے ہیں جس میں پھل ہوں۔

اس شعر میں شاعر زندگی کی اس حقیقت کو بتاتا ہے کہ جس انسان کے پاس کچھ ہو، اس کے اوپر لوگ یورش کرتے ہیں، جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کے اوپر کوئی یورش نہیں کرے گا۔ قدیم عربوں کے نزدیک سب سے بڑی انسانی صفت حماسہ تھی، یعنی بہادری۔ کا اظہار قدیم عرب میں سب سے زیادہ لڑنے بھڑنے میں ہوتا تھا۔ ایک حماسی شاعر کہتا ہے: إذا المهرة الشقراء أركب ظهرها فشب الإله الحرب بين القبائل

یعنی جب میرا گھوڑا سواری کے قابل ہو جائے، تو خدا قبائل میں جنگ بھڑکادے (تاکہ میں اپنی بہادری کے جوہر دکھا سکوں)

عربوں کا یہ لڑنے بھڑنے کا ذہن اتنا بڑھا ہوا تھا کہ اگر دشمن لڑنے کے لیے نہ ملتا تو وہ آپس ہی میں لڑنے لگتے۔ ایک شاعر کہتا ہے:

Printed page