وأحياناً على بكرأخينا إذا ما لم نجد إلا أخانا
Al-Risala, January 2020, pp. 49–50
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی اور کبھی ہم اپنے بھائی قبیلہ بکر پر (حملہ کر دیتے ہیں)، جب کہ ہم کو (لڑنے کے لیے) اپنے بھائی کے سوا کوئی اور نہیں ملتا۔
عربوں کی یہ بہادری (حماسہ) ان کا بہت بڑا جوہر تھی۔ اسلام سے پہلے ان کی اس بہادری کا کوئی بلند نشانہ انھیں معلوم نہ تھا۔ اسلام نے انھیں ایک بلند نشانہ دے دیا۔ چنانچہ انھوں نے عالم میں انقلاب برپا کر دیا۔
عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ تجربہ کرنے والے سے معلوم کرو، عقل مند سے نہ پوچھو: سل المجرب ولا تسئل الحكيم یہاں حکیم (عقل مند) سے مراد وہ انسان ہے، جس کو صرف نظریاتی جانکاری حاصل ہو۔ ایک حقیقت ہے کہ باتوں کو وہی شخص جانتا ہے جس پر تجربہ گزرا ہو۔ جو شخص صرف نظریاتی واقفیت رکھتا ہو، وہ اصل حقیقتوں سے اسی طرح بے خبر رہتا ہے، جس طرح کاغذ کی کوئی کتاب زندگی کے عملی معاملات سے بے خبر ہو۔
مگر اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ تجربہ کار کے بتانے کے باوجود آدمی باتوں کو سمجھ آدمی کسی بات کی حقیقت صرف اس وقت سمجھتا ہے، جب کہ اس پر خود ذاتی تجربہ گزرے۔ جب کہ وہ تجربہ کر کے نقصان اٹھا چکا ہو۔ ذاتی طور پر تجربہ کی چکی میں پسنے سے پہلے بمشکل ہی کوئی شخص باتوں کی حقیقت کو سمجھ پاتا ہے۔ چاہے لفظی طور پر اس کو کتنا ہی زیادہ سمجھایا جائے۔
کسی شخص کا قول ہے کہ غم پیچھے کی طرف دیکھتا ہے، پریشانی ادھر اُدھر دیکھتی ہے، اور عقیدہ اوپر کی طرف دیکھتا ہے:
انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ شخصیت پرست، اور حقیقت پرست۔
شخصیت پرست وہ ہے ، جو باتوں کو شخصیت کے اعتبار سے دیکھے۔ جس بات سے اس کی محبوب شخصیت کی تائید نکلے ، اس کو وہ ٹھیک سمجھ لے ، اور جس بات سے اس کی محبوب شخصیت کی تردید ہو رہی ہو ، اس کا وہ مخالف بن جائے۔
حقیقت پرست وہ ہے ، جو باتوں کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھے۔ جو بات دلائل سے درست ثابت ہو ، اس کو مانے ، اور جو بات دلائل سے درست ثابت نہ ہو ، اس کو رد کر دے۔ یہی دوسری قسم کے لوگ ہیں ، جو خدا کو پاتے ہیں ، جو آخری اعلیٰ حقیقت ہے۔ پہلی قسم کے لوگ ساری عمر شخصیت کے خول میں بند رہتے ہیں ، اور اسی میں مرجاتے ہیں۔ وہ اس لذتِ معرفت سے محروم رہتے ہیں ، جو حقیقت اعلیٰ کو پا کر کسی بندہ خدا کو حاصل ہوتی ہے۔ اہل ایجنسی اور سبسکرائبرس حضرات توجہ دیں براہِ کرم اپنے پتہ کو چیک کر لیں اگر تصحیح کرنی ہو تو لفافہ پر پتہ کے مطابق مناسب نوٹ لکھ کر یا فون یا خط کے ذریعے اطلاع دیں ورنہ پرچہ ملنے میں رکاوٹ کا اندیشہ ہے۔ اگر کسی تصحیح کی ضرورت ہو تو الرسالہ آفس کو مطلع فرمائیں، تاکہ آپ کے پتہ کو درست کیا جاسکے۔ اطلاع دیتے وقت اپنا سبسکرپشن نمبر ضرور بتائیں۔