Al-Risala · February 2020

حدیث کی تدوین

Al-Risala, February 2020, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

جیسا کہ معلوم ہے، حدیثیں رسول اللہ کے زمانے میں باقاعدہ طور پر جمع نہیں کی گئیں۔ اسی زمانے میں قرآن کو باقاعدہ طور پر جمع کیا جا رہا تھا۔ ایسا خود رسول اللہ کی ہدایت کے مطابق آپ نے کہا تھا : لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا غَيْرَ الْقُرْآنِ ( مسند احمد، حدیث نمبر 11536)۔ سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھو۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ وہی پیغمبر جس نے قرآن کے بارے میں کہا: تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5033)۔ یعنی قرآن کی نگہبانی کرتے رہو۔ نے حدیث کی حفاظت کی اتنی حوصلہ افزائی نہیں کی۔

اس پر کافی غور کرنے کے بعد میں یہ سمجھا ہوں کہ یہ ایک خدائی منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ کہ یہ بات طے شدہ تھی کہ لوگ ہر حال میں اقوالِ رسول کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھیں گے۔ حفاظت، کتابت کے ذریعہ ہوتی رہی، اور حدیث کی حفاظت حافظے کے ذریعہ۔ اس فرق کا ایک بہت بڑا فائدہ تھا۔ اگر قرآن ہی کی طرح حدیث، آپ کی زندگی میں لکھ کر محفوظ ہو جاتی، تو بعد کی نسلوں کے لیے کوئی کام باقی نہ رہتا۔ حدیثوں کی جمع و تدوین کا کام زیادہ تر عباسی خلافت کے زمانے میں ہوا یعنی اُس زمانے میں جب کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی بگاڑ آچکا تھا۔ ایسی حالت میں یہ ہوتا کہ تمام لوگ سیاسی اصلاح کے نام پر حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیتے۔ اس طرح پوری امت، ابن زبیر اور معاویہ جیسے لوگوں سے بھر جاتی۔ حدیث کا غیر مدوّن ہونا لوگوں کے لیے اس بات کا ذریعہ بن گیا کہ وہ سیاسی بگاڑ کے اِشو کو نظر انداز کر کے حدیث رسول کی تدوین میں لگ جائیں۔ اس طرح حدیث رسول کی تدوین کا کام بعد کے لوگوں کے لیے ایک چیک بن گیا، یعنی سیاسی بگاڑ یا حکمرانوں کے ساتھ لڑائی سے روکنے والا عمل۔ حدیث کے کام نے لوگوں کو ایک معلوم میدان دے دیا، جہاں وہ اپنی کوششوں کو صرف کریں۔ جو صلاحیتیں منفی جھگڑے میں ضائع ہوتیں، وہ صلاحیتیں مثبت کام میں مشغول ہو گئیں۔

Printed page