Al-Risala · February 2020

زبان کے میں ب۔ ۔ور

Al-Risala, February 2020, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

جنوبی ہند سے ایک عالم دین کا مکتوب موصول ہوا ہے، اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: تمل ناڈو اور دوسرے علاقوں میں علمائے کرام مختلف اداروں، مثلاً مدرسہ یا مسجد، وغیرہ، سے منسلک ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ جب ان کو ادارے کی انتظامیہ (management) سے کوئی شکایت ہو جاتی ہے، اس وقت وہ منفی رویہ اپنا کر اس ادارے سے نکل کر کسی دوسرے ادارے میں چلے جاتے ہیں، یا ایک نیا ادارہ قائم کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پریشان بھی رہتے ہیں، اور ان کا علمی سفر بھی رک جاتا ہے۔ کیوں کہ ادارہ کی ذمے داریاں سنبھالنے میں ان کا وقت گذر جاتا ہے۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ علمائے کو صرف خروج علی الحاکم کے مسائل معلوم ہیں، خروج علی مینجمنٹ کے مسائل ان کو معلوم نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خروج ہر جگہ غیر مطلوب ہے، اس کا انھیں علم نہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ علماء اپنی علمی ذمے داریاں ادا کریں، اور ادارے کی انتظامیہ، وغیرہ اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں تو معاملہ اس معاملے میں علماء کے لیے وہ حدیث رسول واحد راستہ ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ یعنی ان کو حق ان کا دو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبار نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔

اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور دینی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظر انداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ آج علماء کرام دلوں میں شکایت پالنے کی وجہ سے اپنے لیے مسائل میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں، مگر کوئی بڑا علمی ذخیرہ یا کارنامہ نہیں ادا کر رہے ہیں۔ تقریباً ہر عالم اپنی انتظامیہ اور متولیانِ مساجد کے خلاف شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے،

یہاں تک کہ پوری زندگی شکایت کی نذر ہو جاتی ہے۔

آج علماء صرف جلسوں یا کانفرنسوں میں نظر آتے ہیں، مگر ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو کوئی علمی تحقیق یا علمی یادگار نہیں دے پاتے۔ اس کے بغیر ہی وہ دنیا سے شاکی ہو کر رخصت ہو جاتے میرا خیال یہ ہے کہ علماء اپنی اس سوچ کی اصلاح کریں، وہ اپنی لاعلمی کو جانیں ۔ وہ ادارے کی انتظامیہ کی نیتوں پر حملے ترک کریں، اس کے بجائے ان کو چاہیے کہ جو مواقع ان کو حاصل ہیں، ان پر وہ فوکس کریں، اور امت مسلمہ کو فائدہ پہنچائیں۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) مکتوب نگار نے جو بات لکھی ہے، وہ بلاشبہ درست ہے۔ لیکن راقم الحروف کے نزدیک اس کا سبب ماضی کی تاریخ تک جاتا ہے۔ فقہائے متقدمین اس معاملے میں میرے نزدیک ٹرینڈ سیٹر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فقہائے متقدمین کے زمانے میں مسائل میں اختلافات پیدا ہوئے۔ فقہائے متقدمین نے مسائل پر لامتناہی بحثیں چھیڑ دیں۔ یہ بلاشبہ ایک غلو تھا، جس کے نتیجے میں غیر ضروری طور پر فقہی مسالک بنے، اور بڑھتے بڑھتے ان مسائل کی بنیاد پر مختلف قسم کے فقہی گروپ فقہ صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے، جو صحابہ کرام کے زمانے میں عملاً موجود تھی۔ زمانے میں فقہی بنیاد پر مختلف گروہ بن گئے، مثلاً حنفی فقہ، مالکی فقہ، شافعی فقہ، حنبلی فقہ، جعفری فقہ، وہ وہی چیز تھی جس کو قرآن میں تفرق في الدین (البقرة : 103 (2) کہا گیا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشترک امور میں تو حد کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور اختلافی امور میں توسع کا طریقہ۔ علمائے فقہ کو اس معاملے میں توسع کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، جس کی طرف ابن عبدالبر نے اپنی کتاب جامع بیان العلم و فضله (جلد 1، صفحہ (345) میں اشارہ کیا ہے۔ مسائل میں غلو کے نتیجے میں ایک مبتدعانہ اصول پیدا ہوا، جس کو ترجیح کہتے ہیں۔ ترجیح کا طریقہ، جو علمائے فقہ کے درمیان رایج ہوا، وہ بلاشبہ ایک مبتدعانہ اصول تھا۔ صحیح اصول توسع ہے، نہ کہ ترجیح ۔ عبادات میں اصل زور روح یعنی اسپرٹ پر دینا چاہیے، مگر ترجیح کی اس بحث نے یہ کیا کہ عبادات میں روح عبادت کا مسئلہ عملاً غیر اہم بن گیا، اور ساری بحث مسائل پر ہونے لگی۔ مسائل بالفاظ دیگر فارم

پر ہونے لگی۔ اسی کا نتیجہ آخر کار وہ نکلا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنْ الْهُدَى (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی ان کی مسجدیں آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔ یہی معاملہ اداروں کے ذمہ داران سے اختلاف کا ہے۔ اس قسم کے معاملے کا آپ تجزیہ کیجئے تو آپ پائیں گے کہ یہ سارے اختلافات فروعی چیزوں میں ہیں، نہ کہ اصولی چیزوں میں۔ جب کہ اتحاد صرف اصولی مسائل میں ممکن ہے، فروعی مسائل میں ممکن ہی نہیں۔ اس معاملے پر شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اسلام کے دور اول میں جب خروج علی الحاکم کا مسئلہ پیدا ہوا، تو علمائے اسلام نے اس پر کیا رویہ اختیار کیا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اس پر علما کا یہ اجماع ہو گیا کہ حاکم کے خلاف خروج کرنا، جائز نہیں ہے۔ چنانچہ امام نووی نے لکھا ہے: وَأَمَّا الْخُرُوجُ عَلَيْهِمْ وَقِتَالُهُمْ فَحَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانُوا فَسَقَةً ظَالِمِينَ (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد نمبر 12، صفحہ (229)۔ یعنی حاکم کے خلاف خروج کرنا، مسلمانوں کے اجماع سے حرام ہے، اگرچہ حاکم فاسق و ظالم ہو۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ حاکم کے خلاف خروج نہ کرنا، مطلقاً مطلوب ہے۔ کوئی بھی عذر (excuse) اس معاملے میں خروج کو جائز نہیں کرتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خروج ایک اور چیز سے جڑا ہوا ہے، اور وہ ہے، استحکام (stability)۔ سماجی زندگی میں استحکام مطلق طور پر مطلوب ہے۔ کوئی بھی چیز جو استحکام کو نقصان پہنچائے، وہ بطور اصول قابل ترک ہے۔

قدیم زمانے میں یہ عمل سیاسی حاکم کے مقابلے میں اختیار کیا گیا تھا، موجودہ زمانے میں یہی اصول اس معاملے میں اپلائی ہوتا ہے، جب کہ ادارے کے ذمے دار کے خلاف خروج کا معاملہ ہو۔ کسی کے لیے یہ تو جائز ہے کہ وہ کسی عذر کو لے کر خاموشی کے ساتھ ادارے سے الگ ہو جائے۔ الگ ہونے سے پہلے بھی اس معاملے میں خاموش رہے، اور ادارے سے الگ ہونے کے بعد بھی ادارے کے خلاف یا ادارے کے ذمے داران کے خلاف شکایتیں کرنا، اور منفی باتیں کر کے لوگوں کے اندر شکایتی ماحول پیدا کرنا، ہر گز جائز نہیں ہے۔

Printed page