شمس فی القرحتی إذا ما ذكت الشعری فبرد وظل
Al-Risala, January 2020, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا خیال ہے کہ قدیم شرک اور جدید الحاد دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ شرک مظاہر فطرت کو سبب فطرت سمجھ کر اس کو پوجنا ہے۔ اسی طرح الحاد بھی مظاہر فطرت کو سبب فطرت سمجھ کر اس کو برتر قرار دینا ہے۔ فرق یہ ہے کہ شرک نے جن مظاہر کو برتر سمجھا، وہ چاند، سورج، شعری وغیرہ تھے۔ الحاد جس مظہر فطرت کو برتر قرار دے رہا ہے، وہ قانون فطرت (Law of Nature) ہے۔
عرب امارات کے ایک سفر میں میری ملاقات استاذ احمد العبادی (شارجہ) سے ہوئی۔ 21 رجب 1404ھ کا واقعہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فرانس کے ایک اسپتال کے ڈائرکٹر نے اعلان شائع کیا کہ اس کو طبی تحقیق کے سلسلہ میں کچھ ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں نے درخواستیں بھیجیں، ان میں ایک نوجوان عرب بھی تھا۔ یہ مسلمان تھا مگر اسلام سے اس کو زیادہ دلچسپی نہ انٹرویو کے دوران ڈائرکٹر نے پوچھا کہ تم مسلمان ہو، تمھاری رائے محمد کے بارے میں کیا ہے۔ نوجوان عرب نے جواب دیا: وہ قدیم عرب کے ایک بدو تھے، انھوں نے کچھ بدوؤں کو بے وقوف بنا کر اپنے گرد جمع کر لیا۔
نوجوان کا یہ جواب سن کر مذکورہ فرانسیسی ڈائرکٹر اس کو ایک مخصوص کمرے میں لے گیا۔ ایک بورڈ پر یہ حدیث لکھی ہوئی تھی:
عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ . بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلاَتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثُ لِطَعَامِهِ وَثُلُثُ لِشَرَابِهِ وَثُلُثُ لِنَفَسِهِ ( سنن الترمذي ، حدیث نمبر 2380 ، سنن ابن