لعظ
Al-Risala, January 2020, pp. 8–14
By Maulana Wahiduddin Khan
ماجہ، حدیث نمبر 3349، مسند احمد، حدیث نمبر 17186 )۔ یعنی مقدام بن معدی کرب سے روایت ہے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا، آپ کہتے ہیں کہ کسی انسان نے پیٹ سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی برتن نہیں بھرا، انسان کے لیے اتنے لقمے کافی ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کو سیدھا کر سکے، اگر اور ضرورت ہے، تو ایک تہائی اس کے کھانے کے لیے ہو، اور ایک تہائی اس کے پانی کے لیے ہو، اور ایک تہائی اس کی سانس کے لیے۔ فرانسیسی ڈائرکٹر نے مذکورہ عرب نوجوان کو یہ حدیث دکھائی، اور کہا کہ میں نے اس حدیث رسول سے دس سے زیادہ طبی اصول اخذ کیے ہیں، اور میری ریسرچ ابھی جاری ہے۔ لہذا جاہل اور گنوار تم ہو، نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور پھر اس طالب علم کو اپنے ادارہ میں لینے سے انکار کر دیا۔ قرآن میں سورہ الذاریات کی ایک آیت یہ ہے: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (51:47)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے آسمان کو بنایا ہاتھ سے اور ہم یقیناً پھیلانے والے ہیں۔ قدیم مترجمین کی سمجھ میں پھیلانے والے کی معنویت نہ آسکی، اس لیے انھوں نے لموسعون کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں ہے:
وہر آئینہ ما توانا ئیم اور ہم کو سب مقدور ہے اور ہم وسیع القدرت ہیں اور بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔
خالص لفظی اعتبار سے یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے ۔ کیوں کہ لفظی ترجمہ یہ ہے کہ " ہم کشادہ کرنے والے ہیں" یا" ہم پھیلانے والے ہیں"۔
ترجمہ کے اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک
پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ انسانی علم کی محدودیت اس کو نہ پاسکی۔ قرآن کے مصنف کو یہ حقیقت اس وقت بھی معلوم تھی کہ جب کہ ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی اس کو نہیں جانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اس حقیقت کی رعایت کرتے ہوئے موسعون (ہم پھیلانے والے ہیں) کے لفظ کا انتخاب فرمایا۔
قرآن میں اس طرح کے کثیر شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن عالم الغیب کا کلام ہے، محدود ذہن رکھنے والا انسان ایسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ مذہب کیا ہے، اس کی تعریف میں علم الانسان کے علماء (anthropologist) کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان کی اکثریت نے عملی ضرورت (working purpose) کے لیے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ مذہب مافوق الفطری قوتوں میں عقیدہ رکھنے کا نام ہے: The belief in power or powers superior to man دنیا کی تاریخ کے بالکل ابتدائی دنوں سے انسان کسی نہ کسی شکل میں ایک مذہبی مخلوق رہا ہے۔ تقریباً بلا اختلاف وہ ایک خدا رکھتا تھا یا کئی خدا۔ جس کی طرف وہ حفاظت اور پناہ کے لیے دیکھ سکے۔ کبھی یہ خدا لکڑی کے بنے ہوئے ہوتے تھے، کبھی پتھر کے، کبھی جانوروں اور سانپوں کو خدا سمجھ مگر بہر حال وہ انسان کی نظر میں خدا تھے۔ اس لیے انسان ضروری سمجھتا تھا کہ وہ ان کی پوجا کیوں کہ مذہب ایک فوق الفطری طاقت کی پرستش کی صورت میں انسانی فطرت کے ڈھانچے میں مکمل طور پر پیوست ہے:
Man has worshipped them, because religion, as represented in the worship of a supernatural power, is interwoven with entire fabric of human nature. (Encyclopaedia Americana 1961, V. XXIII, p. 354)
موجودہ زمانہ میں مفکرین قانون کی بڑی تعداد تشکیک کی شکار ہے۔ مثال کے طور پر گسٹاؤ
ریڈ برش [1878-1949] Gustav Radbruch) اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ مطلق قانون قابل دریافت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قابل مظاہرہ نہیں : Absolute judgments about law are not discoverable, that is to say, not demonstrable. یہ نظریہ قانون کانٹ کے فلسفہ سے نکلا ہے۔ کانٹ نے دکھایا ہے کہ ہم صرف جان سکتے ہیں کہ ”کیا ہے“، ہم ” کیا ہونا چاہیے“ کو دریافت نہیں کراسکتے۔ چنانچہ گسٹاؤ ریڈ برش کا کہنا ہے کہ مطلوبہ قانون بذریعہ اعتراف(confession) اختیار کیا جاسکتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ علمی طور پر معلوم (scientifically known) ہے۔ موجودہ زمانہ میں قانون، زبردست کوشش کے باوجود قانون کے معیار(legal norms) کی تلاش میں ناکام ہو چکا ہے۔
اسلام پر روایتی عقیدہ کافی نہیں۔ اسلامی تعلیمات کو جب آپ روایتی الفاظ میں بیان کرتے ہیں، تو وہ صرف روایتی عقیدہ کے طور پر ذہن میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جب اس کو وقت کی زبان میں بیان کیا جائے تو وہ سننے والے کی نفسیات کا جزء بن جاتا ہے۔ ایک ناقابل فہم منتر آپ کسی کو یاد کر سکتے ہیں، مگر ایسا منتر آدمی کی نفسیات میں شامل نہیں ہوگا۔ وہ بس اوپر اوپر رہے گا، اور کوئی عقیدہ جب تک نفسیات میں شامل نہ ہو، وہ آدمی کے اندرون کو نہیں جگاتا، وہ اس کی قوت محرکہ
اسلامی تعلیمات کو وقت کے اسلوب میں بیان کرنے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مثلاً سورہ عنکبوت (آیت 2) میں ہے کہ خدا صرف آمنا (ہم ایمان لے آئے) کہنے پر آدمی کو نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ وہ اس کی آزمائش کرتا ہے۔ اگر آپ آیت کا صرف ترجمہ کر دیں، تو وہ جدید ذہن کے لیے کافی نہیں مگر جب آپ اس کو ان الفاظ میں بیان کریں کہ آدمی نارمل (normal) حالات میں جو کچھ کرتا ہے، اس پر اللہ کے یہاں فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ اس عمل پر ہوگا جو وہ ابنارمل (abnormal) حالات میں کرتا ہے، تو وہ فوراً جدید انسان کی سمجھ میں آ جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن میں ہے : فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ( 25:70)۔ اُنکی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔ اس کی تشریح آپ ان لفظوں میں کریں کہ خدا آدمی کے ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ تشریح بآسانی جدید ذہن کے لیے قابل فہم ہو جائے اسی طرح عورت اور مرد کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : بَعْضُكُمْ مِنْ یعنی تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ اگر اس کی وضاحت آپ ان الفاظ میں کریں تو آج کا انسان فورا اس کی حقیقت کو پالے گا کہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (supplement) ہیں ، نہ کہ ایک دوسرے کا مثنی (counterpart)۔
مولانا اسعد اسرائیلی سنبھل کے رہنے والے ہیں ۔ ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی ، اور دوران گفتگو ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کا ذکر ہوا۔ وہ الرسالہ کے اس نقطہ نظر سے متفق ہیں کہ یہ فسادات داعی اور مدعو کے رشتہ کو مجروح کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا : ” فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمان نہیں مرتے ، جو چیز مرتی ہے ، وہ دعوت حق کا امکان ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو جھگڑا ہے ، اس میں مسلمان صرف اپنے مادی نقصانات کا رونا روتے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ان جھگڑوں کی وجہ سے دونوں قوموں کے درمیان معتدل فضا ختم ہوگئی ہے، اور معتدل فضا کے بغیر دعوتی عمل ممکن نہیں۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوت کا درد ہو ، تو وہ ہندوؤں سے اپنے تمام مادی جھگڑے یک طرفہ طور پر ختم کر دیں گے۔ وہ اپنے اور ہندوؤں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال کرنے کے لیے ہر قربانی کو آسان سمجھیں گے۔
مسلمان ساری دنیا میں وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ (البقرۃ، 2:61) کا مصداق
آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی۔ کوئی کوشش اور کوئی تدبیر ان کو اس حالت سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ شاید یہ امت اس سنت الہی کی زد میں آگئی ہے، جس میں اس سے پہلے یہود آئے تھے۔ یہود اس لیے مغضوب ہوئے کہ کتاب الہی کے حامل ہونے کے باوجود، انھوں نے حق کی گواہی نہیں دی۔ انھوں نے اس کا کتمان کیا۔ حال بھی اب یہی ہو رہا ہے۔ ان کو خدا کی آخری وحی دی گئی تھی، اور حکم ہوا تھا کہ جس طرح رسول نے اس امانت کو تمھارے پاس پہنچایا ہے، اسی طرح تم قیامت تک اس کو تمام قوموں تک پہنچاتے مگر امت نے صدیوں سے اپنی اس ذمہ داری کو چھوڑ رکھا ہے۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی ذلت اور مسکنت کا سبب یہی ہے۔ ان کو ذلت اور مسکنت سے نکالنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ ان کو دوبارہ داعی گرواحد کی حیثیت سے اٹھایا جائے، اور حق کا پیغام تمام بندگانِ خدا تک ان کی اپنی قابل فہم زبان میں پہنچایا جائے۔ یہی وہ عمل ہے، جو مسلمانوں کو دوبارہ نصرتِ الہی کا مستحق بناسکتا ہے، اور ان کو دنیا اور آخرت میں سرفراز کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ خاص سے آج ہمارے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ پچھلے تمام زمانوں سے زیادہ موثر شکل میں اس مہم کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ ایک طرف پٹرول ڈالر کے خزائن نے مسلمانوں کو اس پوزیشن میں کر دیا ہے کہ وہ اس کام کو اعلیٰ ترین سطح پر کرنے کی بڑی سے بڑی قیمت دے سکیں ۔ دوسری طرف جدید دریافتوں نے حیرت انگیز طور پر اسلام کے ان تمام معتقدات کے لیے خالص سائنسی دلائل فراہم کر دیے ہیں، جن پر پچھلے زمانوں میں صرف قیاسی بحثیں کی جاسکتی اگر ان دونوں امکانات کو دعوتِ حق کی مہم میں استعمال کیا جائے، تو اظہارِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے خواب کو عالمی سطح پر ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
تامل ناڈو کے علاقہ میں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ وہاں کے ایک نومسلم سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے اور عام مسلمانوں کے درمیان کس قسم کا فرق پاتے ہیں۔
نے جواب دیا کہ وہ (پیدائشی) اتفاق کی بنا پر مسلمان ہیں، مگر ہم نے اپنے ارادہ سے اسلام کو اختیار
They are Muslims by chance, but we are Muslims by choice. یہ فرق کوئی معمولی فرق نہیں۔ یہ فرق آدمی کے کردار میں زبردست فرق پیدا کرتا ہے۔ لوگوں کو اسلام محض پیدائشی طور پر مل جائے، ان کے اندر کوئی اسلامی حرارت نہیں ہوتی۔ کے نام پر دوسروں کے خلاف جھوٹے ہنگامے کر سکتے ہیں، مگر خود ان کے اپنے اندر اسلام ایک انقلاب کے طور پر داخل نہیں ہوتا۔
مگر جو شخص اسلام کو خود اپنے انتخاب سے اختیار کرے، اس کے لیے اسلام ایک ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ اس کی اندرونی شخصیت میں بھونچال کے ہم معنی ہوتا ہے۔ افراد دراصل وہ لوگ ہیں، جو تاریخ بناتے ہیں۔
اسلام کی بہت سی خصوصیات ہیں جو مسلمانوں کو معمولی سی لگتی ہیں۔ مگر غیر مسلم ان خصوصیات کو بڑے اچنبھے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
مثلاً اسلام میں ایک شخص بلا واسطہ خدا کی عبادت کر سکتا ہے۔ ہم چوں کہ روزانہ مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں، ہمیں اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک غیر مسلم جب دیکھتا ہے کہ نماز کا وقت آیا، اور مسلمان نے خدا کی طرف رخ کر کے اپنی عبادت شروع کر دی۔ وہ کسی واسطہ کے بغیر براہ راست اپنے خدا سے مربوط ہو گیا، تو اس کو یہ بات بہت زیادہ اسٹرائک (strike) کرتی ہے۔ اسی طرح اسلام میں ہر حکم کے ساتھ رعایتی دفعہ بھی شامل ہے۔ مثلاً وضو نہ کر سکو تو تیمم کر لو۔ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ لو، وغیرہ۔ اسی قسم کی چیز ان لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں جنھوں نے دوسرے مذاہب کے ماحول میں پرورش پائی ہے۔ کیوں کہ دوسرے مذاہب میں صرف ’’عزیمت‘‘ کے احکام ہیں، ان کے ہاں ’’رخصت‘‘ کے احکام نہیں۔
اسی طرح دوسرے مذاہب میں عبادتی مراسم (rituals) کی بھر مار ہے۔ ان مراسم میں معمولی فرق کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی کی عبادت ہی ادا نہیں ہوئی۔ اس قسم کی سادگی جو اسلام میں ہے، وہ اس کے لیے ایک زبردست تبلیغی قوت کی حیثیت رکھتی دورِ اول میں اسلام جو اتنی زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلا، اس کی کم از کم ایک وجہ یہی تھی۔ مذاہب میں لوگ اصراور اغلال کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ اسلام نے ان کو سیدھا سادھا فطری مذہب پیش کیا۔ وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑے۔
بدقسمتی سے بعد کے دور میں مسلمانوں نے بزعمِ خود اسلام کی تعلیمات کو مفصل اور جامع بنانے کے لیے اس میں اضافے شروع کیے۔ فقہی اضافے، کلامی اضافے، اعتقادی اضافے اور متصوفانہ ان اضافوں نے اسلام کے اوپر ایک مصنوعی پردہ ڈال کر اس کو اس کی فطری کشش سے محروم کر دیا۔
عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی شخص کے اندر کوئی خرابی کی بات دیکھتے ہیں، تو وہ غیر جانب دار (indifferent) ہو جاتے ہیں۔ لوگ صرف اپنے بچوں کی خرابیوں کی اصلاح کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں، دوسروں کی خرابیوں کی اصلاح سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ مراد یہاں انفرادی اصلاح سے ہے۔ کیوں کہ میں اجتماعی اصلاح کے نام پر اٹھنے کو لیڈری سمجھتا ہوں، نہ کہ حقیقۃً اصلاحی کام۔
مگر میرا حال یہ ہے کہ میں کسی فرد کے اندر کوئی خرابی دیکھتا ہوں، تو فورا ً دل بے چین ہو جاتا مثلاً 23 ستمبر 1978 کا واقعہ ہے۔ میرے یہاں مسلم اسکالر آئے۔ وہ سگریٹ پر سگریٹ پی میں نے انھیں سمجھا بجھا کر آمادہ کیا کہ وہ سگریٹ چھوڑ دیں۔ چنانچہ انھوں نے سگریٹ پھینک دی، اور میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے :
آج بتاریخ 23 ستمبر 1978 سے میں نے سگریٹ چھوڑ دی۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے