Al-Risala · February 2020

اسلام میں جہاد

Al-Risala, February 2020, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں جہاد بالسیف (مسلح جہاد) کا مقصد صرف ایک تھا ختمِ فتنہ، یعنی مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ۔ دورِ جدید میں مذہبی جبر کا خاتمہ ہو چکا ہے، اس لیے اس زمانے میں مسلح جہاد قابل عمل (applicable) نہیں ہے۔ اس دور میں جہاد کی بات کرنی، یقینی طور پر بے خبری کی بات ہے۔ جہاد بالسیف کا حکم اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: (ترجمہ) ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اس کے بعد سختی نہیں ہے مگر ظالموں پر (2:193)۔ اس آیت میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ جہاد بالسیف صرف ختم فتنہ تک کے لیے ہے۔ جب فتنہ ختم ہو جائے تو جہاد بالسیف کا دور بھی موقوف ہو جائے گا۔ جہاد کے تعلق سے قرآن کی ایک دوسری آیت ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَاَنَّهُمُ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ (61:4)۔ یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اس دوسری آیت کا مطالعہ پہلی آیت کے ذیل میں کیا جائے گا۔ یعنی اس آیت میں جس جہاد کا ذکر ہے، وہ پہلی آیت کی طرح ایک مشروط حکم ہے، نہ کہ غیر مشروط حکم۔ یعنی جب فتنہ کے ختم کے لیے قتال جاری ہو تو اس وقت دوسری آیت (يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا) ایک مطلوب حکم ہوگا۔ جب فتنہ کا زمانہ ختم ہو جائے، تو اس وقت جہاد کرنا بھی موقوف ہو جائے گا۔ ختم فتنہ کے لیے قتال اس لیے ضروری تھا کہ فتنہ کی وجہ سے دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا خاتمہ ہو گیا قدیم زمانے میں بادشاہی نظام نے مذہبی آزادی کو امر ممنوع (forbidden) قرار دے دیا یہ کلچر خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھا۔ اس بنا پر ضروری تھا کہ بادشاہت کی قائم کردہ اجارہ داری کے دور کو ختم کر دیا جائے، تاکہ خالق کے نقشے کے مطابق دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آ جائے۔

Printed page