لو پر وفائل، ہائی پروفائل
Al-Risala, February 2020, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت میں پیغمبر یعقوب کی اپنے بیٹوں کو نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: وَقَالَ يَا بَنِيَّ لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ (12:67)۔ یعنی اور یعقوب نے کہا کہ اے میرے بیٹو، تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے
قرآن کی اس آیت میں تدبیر کار کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ طریقہ فقہ کی اصطلاح میں غیر جہری طریقہ ہے۔ یعنی اپنا مشن اس انداز میں چلانا کہ فریق ثانی اس کو اپنے لیے خطرہ نہ سمجھے۔ آخر وقت تک کام کرنے والوں کو کام کرنے کا موقع دے۔ اس طریقہ کار کو اگر جدید اسلوب میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا لو پروفائل (low profile) میں کام کرنا۔ یعنی کام کو ایسے انداز میں کرنا کہ فریق ثانی اس کو اپنے لیے چیلنج نہ سمجھے، اور اس طرح کام کرنے والوں کو آخر وقت تک کام کرنے کا موقع ملتا رہے۔ اس کے مقابلے میں جو طریقہ ہے، اس کو ہائی پروفائل کہا جاتا ہے۔ پروفائل میں فریق ثانی فوراً ہی چوکس ہو جاتا ہے، اور جوابی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ لو پروفائل میں فریق ثانی کام کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔ اس بنا پر اس کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ اس طریقہ کار کے لیے حدیث رسول میں ایک حوالہ موجود ہے۔ پیغمبر اسلام نے جب مکہ کی فتح کا ارادہ کیا تو آپ نے اس معاملے میں بہت زیادہ لو پروفائل سے کام لیا۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: وأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجهاز، وأمر أهله أن يجهزوه، فدخل أبو بكر على ابنتہ عائشة رضي الله عنها، وهي تحرك بعض جهاز رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أي بنية : أأمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تجهزوه؟ قالت: نعم، فتجهز، قال: فأين ترينه يريد؟ قالت: (لا) والله ما أدري . ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم الناس أنه سائر إلى مكة، وأمرهم بالجد والتهيؤ ، وقال: اللهم خذ العيون والأخبار عن
قریش حتی نبغتها في بلادها (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 397)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر کی) تیاری کا حکم دیا، اور اپنی اہلیہ کو کہا کہ وہ اس سفر کی تیاری کا کام کرے۔ اپنی بیٹی عائشہ کے پاس آئے ، اس وقت وہ رسول اللہ کے سفر کی بعض تیاری کا کام کر رہی تھیں ۔ کہا: بیٹی، کیا رسول اللہ نے تیاری کا حکم دیا ہے۔ عائشہ نے کہا: ہاں ، سامان سفر تیار کرنے کا۔ نے پوچھا، تمھارے خیال سے کہاں کا ارادہ ہے۔ عائشہ نے کہا، مجھے، اللہ کی قسم، نہیں معلوم۔ رسول اللہ نے لوگوں کو خبر دیا کہ وہ مکہ کی طرف کوچ کرنے والے ہیں، اور ان کو تیاری کا حکم دیا۔ وقت آپ نے یہ دعا کی: اللہ، تو قریش کی آنکھوں اور خبروں کو روک دے۔ یہاں تک کہ تو ان کے شہر میں پہنچادے۔
اسی طرح غزوہ خیبر کا ایک واقعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ محدث البخاری کے مطابق، ابوموسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں جارہے تھے، (راستے میں) ہم یہ کرنے لگے کہ جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے یا بلندی پر پہنچ جاتے یا کسی نشیبی علاقہ میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے قریب آئے تو آپ نے کہا: اے لوگو، اپنے آپ پر رحم کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکارتے ہو، بلکہ تم اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے (يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 6610۔
ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے کام کرنے کا طریقہ کیا تھا۔ انبیاء ہمیشہ لو پروفائل (low profile) میں کام کرنا پسند کرتے تھے۔ ہائی پروفائل میں کام کرنا، نبیوں کا مطلوب طریقہ نہ لو پروفائل کا مطلب ہے، غیر نمایاں انداز میں کام کرنا۔ ایسے انداز میں کام کرنا، جب کہ آپ کا حریف آپ کے کام کو اپنے لیے چیلنج نہ سمجھے۔ فریق ثانی آپ کے کام میں اپنے لیے خطرہ محسوس نہ فریق ثانی آپ کے معاملے کو اپنے لیے غیر اہم سمجھ کر نظرانداز کردے :
یہ طریقہ بہت بڑی حکمت پر مبنی ہے۔ اس طریقہ کار کی حکمت یہ ہے کہ لو پروفائل میں کام کیا جائے، تو اس سے ری ایکشن کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ شروع سے آخر تک اپنا کام معتدل انداز میں جاری رکھے، اور اپنے حسب منشا اپنے منصوبے کو تکمیل تک پہنچائے۔ لو پروفائل میں کام کرنے کی صورت میں ایسا ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو آپ کے کام کی خبر نہیں وہ آپ کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کا منصوبہ نہیں بناتا، وہ آپ سے ٹکراؤ کی کوشش نہیں اس طرح آپ کو موقع مل جاتا ہے کہ آپ معتدل انداز میں اپنے منصوبوں کو مکمل کر سکیں۔ آپ کی پوری انرجی صرف اپنے منصوبے کی تکمیل میں استعمال ہو۔ غیر ضروری چیزوں میں ضائع ہونے سے بچ جائے۔ اس کے مقابلے میں ہائی پروفائل کا طریقہ ہے۔ اس کا مطلب ہے، نمایاں انداز میں کام کرنا :
ہائی پروفائل (high profile) میں کام کرنا، ہمیشہ مسئلہ پیدا کرنے کا سبب بن جاتا فریق ثانی بہت جلد آپ کے عمل سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ وہ ضروری سمجھتا ہے کہ آپ کے مقابلے میں جوابی منصوبہ بندی شروع کر دے۔ اس طرح بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ آپ اور فریق ثانی کے درمیان چین ری ایکشن (chain reaction) شروع ہو جاتا ہے۔ لو پروفائل میں کام کرنے کی صورت میں یہ ہوتا ہے کہ آپ کا وقت اور آپ کی انرجی (energy) صرف اپنے منصوبہ کی تکمیل میں استعمال ہوتی ہے۔ جب کہ ہائی پروفائل میں کام کرنے کی صورت میں آپ کے وقت اور آپ کی انرجی کا بڑا حصہ جوابی کارروائی میں گزر جاتا ہے۔