زمانہ سے آگے
Al-Risala, February 2020, pp. 32–36
By Maulana Wahiduddin Khan
قرون وسطی میں مسلمانوں نے طب اور سائنس کے میدان میں جو کارنامے انجام دیے ہیں، وہ تعجب خیز حد تک عظیم ہیں۔ الرازی (932-865) اور ابن سینا (1037-980) اپنے وقت کے سب سے بڑے ماہرین طب تھے، جن کا کوئی ثانی اس وقت کی دنیا میں موجود نہ تھا۔ ابن سینا کی کتاب القانون في الطب علم طب پر ایک بنیادی کتاب ہے۔ وہ دنیا کے اکثر طبی اداروں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی ہے۔ حتی کہ فرانس میں وہ 1650ء تک داخل نصاب تھی: Al-Qanun became a classic and was used at many medical schools, at Montpellier, France, as late as 1650 (11/828). مسلمانوں کے یہ کارنامے عام طور پر مشہور اور معلوم ہیں۔ ان پر بے شمار کتابیں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ تاہم اس سلسلہ میں ایک سوال ہے، اور یہ سوال اس کی توجیہہ کے بارے میں ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانکا (1984) کے مقالہ نگار نے اس کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: The greatest contribution of Arabian Medicine was Chemistry and in the knowledge and preparation of medicines; many drugs now in use are of Arab origin, as also are such processes as distillation and sublimation. Often the chemistry of that time was mainly as search for the philosopher's stone, which supposedly would turn all common metals to gold. Astronomers were astrologers and chemists were alchemists. It is, therefore, surprising that, despite all this, the physicians of the Muslim empire did make a noteworthy contribution to medical progress. (11/828)
طب عربی کی سب سے بڑی خدمت کیمسٹری اور دواؤں کے علم اور ان کی تیاری کے بارے میں تھی۔ اکثر دوائیں جو آج استعمال ہوتی ہیں، ان کی اصل عرب ہی ہے۔ اسی طرح تقطیر اور تصعید جیسے عمل بھی۔ اس زمانہ کی کیمسٹری اکثر بیشتر پارس پتھر کی تلاش کا نام تھی، جس کے متعلق یہ گمان کر لیا گیا تھا کہ وہ تمام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس زمانہ کے فلکیات داں محض نجومی ہوتے تھے، اور کیمسٹری کے علماء صرف کیمیا گری کرتے تھے۔ اس لیے یہ تعجب خیز بات ہے کہ ان سب کے باوجود مسلم عہد کے اطباء نے طب کی ترقی میں قیمتی اضافے کیے ۔ اسلام سائنس کا خالق یہ باتیں وہ ہیں، جن کا عام طور پر مورخین نے اعتراف کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے بھی آگے ہے۔ جدید سائنس خود اسلام کی پیدا کردہ ہے۔ اسلام بلاشبہ سائنس کے لیے نہیں مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سائنسی انقلاب خود اسلامی انقلاب کی ضمنی پیداوار ہے۔ اور سائنس کے اس تعلق کو بر یفالٹ نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ہماری سائنس پر عربوں کا قرضہ صرف یہ نہیں ہے کہ انھوں نے حیران کن نظریات دیے۔ سائنس اس سے زیادہ عربوں کی مقروض یہ خود اپنے وجود کے لیے ان کی احسان مند ہے :
"The debt of our science to that of the Arabs does not consist in startling discoveries or revolutionary theories, science owes a great deal more to Arab culture, it owes its existence. The Astronomy and Mathematics of the Greeks were a foreign importation never thoroughly acclimatized in Greek culture. The Greeks systematized, generalized and theorized, but the patient ways of investigation, the accumulation of positive knowledge, the minute method of science, detailed and prolonged observation and experimental inquiry were altogether alien to the Greek temperament. Only in Hellenistic Alexandria was any approach to scientific work conducted in the ancient classical world. What we call science arose in Europe as a result of new spirit of enquiry, of new methods of
experiment, observation, measurement, of the development of mathematics, in a form unknown to the Greeks. That spirit and those methods were introduced into the European world by the Arabs. (Robert Briffault, Making of Humanity, p. 34)
یہ ایک علمی اور تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام سائنس کا خالق ہے۔ سائنس سادہ طورپر مطالعۂ فطرت (study of nature) کا نام ہے۔ انسان جب سے زمین پر آباد ہے اسی وقت سے فطرت اس کے سامنے موجود ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ فطرت کے مطالعہ اور تسخیر میں انسان کو اتنی زیادہ دیر سائنس کی تمام ترقیاں پچھلے ہزار برس کے اندر ظہور میں آئی ہیں۔ جب کہ اصولاً انھیں لاکھوں سال پہلے ظاہر ہو جانا چاہیے تھا۔ اس کی وجہ قدیم زمانہ میں شرک کا غلبہ ہے۔ شرک اس میں مانع تھا کہ آدمی فطرت کا مطالعہ کرے، اور اس کی قوتوں کو دریافت کر کے انھیں اپنے کام میں لائے۔ شرک نام ہے فطرت کو پوجنے کا۔ قدیم زمانہ میں یہی شرک تمام اقوام کا مذہب تھا۔ For the ancient man, Nature was not just a treasure-trove of natural resources, but a goddess, Mother Earth. And the vegetation that sprang from the earth, the animals that roamed the earth's surface, and the minerals hiding in the earth's bowels, all partook of nature's divinity, so did all natural phenomena - springs and rivers and the sea; mountains, earthquakes and lightening and thunder. غرض زمین سے آسمان تک جو چیز بھی انسان کو نمایاں نظر آئی، اس کو اس نے اپنا خدا فرض کر لیا، اسی کا نام شرک ہے اور یہ شرک اسلام سے پہلے تمام معلوم زمانوں میں دنیا کا غالب فکر رہا اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم انسان کے لیے فطرت پرستش کا موضوع (object of worship) بنی ہوئی تھی۔ پھر عین اسی وقت وہ تحقیق کا موضوع (object of investigation) یہی اصل وجہ ہے، جس کی بنا پر قدیم انسان اس طرف راغب نہ ہو سکا کہ وہ فطرت کا مطالعہ تمام قدیم زمانوں میں انسان فطرت کو خدا سمجھ کر اس کے سامنے جھکتا رہا ہے۔ مقدس نظر سے دیکھنا، انسان کے لیے اس میں روک بنا رہا کہ وہ فطرت کی تحقیق کرے، اور اس کو اپنے
تمدن کی تعمیر کے لیے استعمال کرے۔
آرنلڈ ٹائن بی نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ فطرت پرستی (شرک) کے اس دور کو سب سے پہلے جس نے ختم کیا وہ توحید (Monotheism) ہے۔ توحید کے عقیدے نے پہلی بار انسان کو یہ ذہن دیا کہ فطرت خالق نہیں، بلکہ مخلوق ہے۔ وہ پوجنے کی چیز نہیں، بلکہ استعمال کی چیز ہے۔ کے آگے جھکنا نہیں ہے، بلکہ اس کو تسخیر کرنا ہے۔ تاہم جب اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ توحید کے نظریہ کو پہلی بار اسلام نے عملی طور پر رائج کیا، تو یہ انقلاب براہ راست اسلام کا کارنامہ قرار پا تا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کے تمام پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے۔ ہر دور میں خدا کے جن بندوں نے سچائی کی تبلیغ کی انھوں نے خالص توحید ہی کی تبلیغ کی۔ مگر اسلام سے پہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سے آشنا نہ ہوسکا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کر سکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کر دی۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظام شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہو گئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کر رکھا تھا، اس لیے ناقابل فہم ہو گیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظام شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کر دیا۔ دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروں کا مشن صرف اعلان کی حد تک جا سکا، وہ عملی انقلاب تک یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں
جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طور پر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریبًا تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کر دیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہل اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیا گیا۔ خدائے واحد انسان کا معبود قرار اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن کر رہ گئیں۔ انسانی تاریخ میں اسلام کے ظہور سے جو عظیم تبدیلی آئی، اس کا اعتراف ایک امریکی انسائیکلو پیڈیا میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا :