Its advent changed the course of human history.
Al-Risala, February 2020, pp. 36–41
By Maulana Wahiduddin Khan
مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹانے کا نتیجہ ہوا کہ وہ فوراً انسان کے لیے تحقیق اور تسخیر کا موضوع بن گئے۔ مظاہر فطرت کی تحقیق و تسخیر کے فکر کی ابتدا بالواسطہ انداز میں مدینہ میں شروع پھر دمشق اور بغداد اس تحقیق و تسخیر کے عملی مرکز بنے۔ اس کے بعد یہ لہر سمندر پار کر کے اسپین اور سسلی میں داخل ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہنچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا نقطۂ انتہا ہے۔ وہ توحید کے انقلاب کا سیکولر نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہو گئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہل
مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ سیاسی طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں تھا، مگر سائنس کی ترقی کا کام صلیبی جنگوں کے بعد مغربی یورپ کے ذریعہ انجام پا تا رہا۔ مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور میں سائنس کے میدان میں جو ترقیاں کی تھیں، اس کا پہلا سب سے بڑا فائدہ ان کو دوسو سالہ صلیبی جنگوں (1270-1095) میں ہوا۔ اس جنگ میں تقریباً سارا یورپ متحدہ طاقت سے مسلم دنیا پر حملہ آور ہوا، تاکہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں کے قبضہ سے مگر انھیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ ان مہموں میں کروروں جانیں اور بے پناہ دولت قربان کردی گئی، اور جب یہ سب ختم ہوا تو یروشلم بدستور‘ بددینوں‘ کے قبضہ میں تھا: Millions of lives and an enormous amount of treasure were sacrificed in these enterprises. And when all was done, Jerusalem remained in the possession of the “infidels”. (Pears' Cyclopeadia, 1953-1954, p. 539)
صلیبی جنگوں کا خاتمہ مسلمانوں کی کامل فتح اور مسیحی یورپ کی کامل شکست پر ہوا۔ فتح ان کے لیے الٹی پڑی۔ اس کے برعکس عیسائیوں کو ان کی شکست کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ مسلمان اپنی سیاسی فتح پر قانع ہو کر رہ گئے۔ کامیابی کے احساس نے ان کی عملی قوتوں کو ٹھنڈا کر دیا۔ اس کے برعکس مسیحی یورپ کو اپنی ناکامی کا یہ فائدہ ملا کہ اس کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ اپنی کمزوریوں کو معلوم کر کے ان کی تلافی کرے۔ چنانچہ اس کے اندر ایسے لوگ پیدا ہوئے، جنھوں نے زور وشور کے ساتھ یہ تبلیغ کی کہ مسلمانوں کی زبان عربی سیکھو، اور ان کی کتابوں کا اپنی زبان میں ترجمہ یہ رجحان یورپ میں تیزی سے پھیلا۔ مسلمانوں کی اکثر کتابیں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئیں، جو اس وقت یورپ کی علمی زبان تھی۔ یہ عمل کئی سو سال تک جاری رہا۔ ایک طرف مسلمان اپنی سیاسی کامیابی میں گم تھے، دوسری طرف یورپ علمی میدان میں مسلسل ترقی کر رہا تھا۔ یورپ کا یہ علمی سفر جاری رہا۔ یہاں تک کہ 18 ویں صدی آ گئی جب کہ یورپ واضح طور پر مسلم دنیا سے آگے بڑھ گیا۔ مغربی یورپ نے سائنس کو جدید ٹکنالوجی تک پہنچایا۔ اس نے دستکاری
کی جگہ مشینی صنعت ایجاد کی۔ اس نے دستی ہتھیاروں کی جگہ دور مار ہتھیار بنا لیے۔ وہ بڑی طاقت سے آگے بڑھا، اور ابتداءً بحری طاقت، اور اس کے بعد فضائی طاقت پر قابو حاصل کر لیا۔ مغرب بالآخر ایسی طاقت بن گیا، جس کا مقابلہ مسلمان اپنے موجودہ ساز و سامان کے ساتھ نہیں کر سکتے چنانچہ مغرب جدید قوتوں سے مسلح ہو کر دوبارہ جب مسلم دنیا کی طرف بڑھا تو مسلمان قومیں ان کو روکنے میں ناکام رہیں۔ مغربی قوموں نے مختصر عرصہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا پر براہِ راست یا بالواسطہ کنٹرول حاصل کر لیا۔
صلیبی جنگوں کے بعد مسلمان اپنی سیاسی فتح کے جوش میں سائنس سے دور ہو گئے تھے۔ موجودہ زمانہ میں یہی بات ایک اور شکل میں پیش آئی۔ مغربی قوموں کے مقابلہ میں سیاسی شکست نے موجودہ مسلمانوں کے اندر منفی رد عمل پیدا کیا۔ مغربی قوموں نے ان سے ان کا سیاسی فخر (political pride) چھینا تھا۔ چنانچہ وہ مغربی قوموں سے سخت متنفر ہو کر رہ گئے۔ اپنی ردعمل کی نفسیات کی وجہ سے انھوں نے نہ صرف مغربی قوموں کو برا سمجھا، بلکہ مغربی قوموں کی زبان، اور مغربی قوموں کے ذریعہ آنے والے علوم کو بھی وہ نفرت کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایک صدی کی پوری مدت اسی حال میں گزر گئی۔ مسلمان مغربی قوموں سے نفرت کرتے رہے، یا ان سے ایسی لڑائیاں لڑتے رہے، جو مسلمانوں کی کمتریاری کی وجہ سے صرف شکست پر ختم ہونے والی تھی۔ دوسری طرف دنیا کی دوسری قو میں مغربی زبان اور مغربی علم کو سیکھ کر تیزی سے آگے بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ دونوں کے درمیان وہ بعید فاصلہ پیدا ہو گیا، جس کی ایک مثال ہم کو ہندوستان میں نظر آتی ہے۔ مسٹر کلدیپ نائر (2018-1923) نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان تعلیم میں دوسوسال پیچھے ہیں۔ اگر اس کو گھٹایا جائے تب بھی یہ فاصلہ ایک سوسال کے بقدر ماننا ہو گا۔
مغربی قومیں جن علوم کو لے کر آگے بڑھیں، وہ سادہ معنوں میں محض علوم نہ تھے، بلکہ وہ دور جدید میں ہر قسم کی ترقی کی بنیاد تھے ۔ چنانچہ جن قوموں نے ان علوم کو سیکھا، وہ دنیوی اعتبار سے
دوسروں سے آگے بڑھ گئیں۔ مغربی قومیں اور ان کے پیروی کرنے والے تہذیب و تمدن میں مسلمانوں سے بدرجہا زیادہ فائق ہوگئے۔ یہی وقت ہے جب کہ مسلمانوں میں سرسید (1817-1898) اور اس قسم کے دوسرے مصلحین پیدا ہوئے۔ مگر یہاں پہنچ کر مسلم مصلحین سے تیسری غلطی ہوئی۔ وہ مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہو گئے۔ وہ مغربی تہذیب کی جڑوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہ دیکھ سکے۔ وہ مغرب کی طرف بڑھے۔ مگر ان کا بڑھنا مغرب کی تہذیب سے مرعوبیت کی بنا پر تھا، نہ کہ مغرب کی قوت کے اصل سر چشمہ (سائنس) کو سمجھ کر اس کو اختیار کرنے کے لیے تھا۔ چنانچہ اس قسم کے مصلحین کی ساری توجہ مغرب کی زبان، مغرب کے لٹریچر، مغرب کے تمدنی مظاہر پر رہی۔ یہ مغرب سے قریب ہونے والے بھی مغرب کی سائنس سے اسی طرح محروم رہے، جس طرح مغرب سے دور رہنے والے اس کی سائنس سے محروم تھے۔ انگلستان کا سفر کیا تو وہاں کی خاص چیز جو وہ اپنے ساتھ لائے وہ ایک صوفہ سیٹ تھا۔ اس کے بجائے اگر وہ سائنس کی کتابیں یا کوئی مشین اپنے ساتھ لاتے تو یقیناً وہ ہندستانی مسلمانوں کے لیے زیادہ بہتر آخر وقت میں جب مسلمان مغربی تعلیم کی طرف مائل ہوئے، اس وقت بھی ان کے ذہن میں ساری اہمیت مغربی تہذیب کی تھی۔ مغربی سائنس سے وہ بدستور دور پڑے رہے۔ سائنس کے میدان میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کی وجہ اگر مختصر طور پر بتانی ہو تو وہ صرف مسلمانوں میں سائنسی شعور نہ ہونا۔ ہندوستان کا زمین دار طبقہ جدید تجارت میں پیچھے کیوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر تجارتی شعور موجود نہ تھا۔ یہی واقعہ سائنس کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ ایک یا ایک سے زیادہ اسباب کی بنا پر مسلمانوں کے اندر جدید دور میں سائنسی شعور پیدا نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سائنس کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی، اور اگر توجہ دی بھی تو ادھوری شکل میں۔
اس کی ایک واضح مثال وہ فرق ہے جو مسلمانوں کے درمیان دینی تعلیم اور سائنسی تعلیم کے
بارے میں پایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر دینی تعلیم کی اہمیت کا شعور موجود تھا، اس لیے انھوں نے اس کا پورا اہتمام کیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سائنسی تعلیم کا شعور موجود نہ تھا، اس لیے وہ اس کا وہ اہتمام نہ کر سکے جس کے بغیر کسی قوم میں سائنسی تعلیم نہیں آسکتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم رہنماؤں کو جب جدید علوم کی طرف توجہ ہوئی تو انھوں نے کالج اور یونیورسٹیاں تو بنائیں مگر انھوں نے جدید علوم کی ابتدائی تعلیم کا نظام قائم نہیں کیا، جو کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو خوراک فراہم کرتے ہیں۔ جب کہ انھیں مسلمانوں میں دینی مدارس کی مثال اس سے بالکل مختلف نمونہ پیش کرتی ہے۔
مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بڑے بڑے دینی مدرسے قائم کیے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ صرف بڑے بڑے مدرسے قائم کر کے بیٹھ جائیں۔ اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کیا کہ پورے ملک میں ابتدائی تعلیم کا مکتب کا نظام قائم کیا۔ یہی ابتدائی مکاتب دراصل وہ ادارے ہیں جو بڑے بڑے دینی مدرسوں کو غذا فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی مکاتب نہ ہوں تو تمام بڑے بڑے دینی مدرسے غیر آباد نظر آئیں۔
یہی بات جدید سائنس کی تعلیم کے سلسلہ میں بھی ملحوظ رکھنے کی تھی۔ مسلم رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو خوراک پہنچانے والے ابتدائی اسکول نہ ہوں، تو کالجوں اور یونیورسٹیوں کو طلبہ کہاں سے ملیں گے۔ ہندوستان میں مثال کے طور پر ہندو اور عیسائی بہت بڑے پیمانے پر ابتدائی تعلیم کا نظام قائم کر رہے تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس مثال سے کوئی سبق نہیں انھوں نے کالج اور یونیورسٹیاں بنانے کے لیے زبردست کوشش کی، مگر ابتدائی اسکول قائم کرنے کی طرف اتنا کم دھیان دیا کہ وہ نہیں کے برابر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ مسلم کالج اور اسلامی یونیورسٹی تو ہمارے پاس موجود ہیں مگر اس کے اندر مسلم طلبہ موجود نہیں۔ کیوں کہ ان بڑے اداروں کو غذا پہنچانے والے چھوٹے مسلمانوں نے اپنے بچوں کو مذہبی جذبے کے تحت ہندو اور عیسائی یا گورنمنٹ
کے ابتدائی اسکولوں میں بھیجنا پسند نہیں کیا، اور خود ان کے اپنے ابتدائی اسکول موجود نہ تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قوم کے بچوں کی ابتدائی تعلیم اس انداز پر نہ ہوسکی کہ وہ آگے بڑھ کر سائنس کے شعبوں میں داخلہ مسلم رہنماؤں کی اس غفلت کی وجہ جو بھی ہو، مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ عملی طور پر یہ ایک بڑا سبب ہے، جس نے مسلم قوم کو سائنسی تعلیم میں پیچھے کر دیا۔