Al-Risala · February 2020

بنیادی غفلت

Al-Risala, February 2020, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کی تعلیم میں مسلمانوں کے پیچھے ہونے کا سبب ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ یہ مسلمان انگریز اور انگریزی میں فرق نہ کر سکے۔ انھوں نے استعماری قوموں اور استعماری قوموں کے ذریعے آنے والے علوم کو ایک سمجھا۔ اول الذکر سے سیاسی اسباب کے تحت انھیں نفرت اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ثانی الذکر سے بھی نفرت کرنے لگے۔ اگر وہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر سکتے، تو یقینی طور پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سائنسی تاریخ دوسری ہوتی۔ ہر قوم کے کچھ اپنے قومی علوم ہوتے ہیں۔ ان قومی علوم سے دوسری قوموں کو دلچسپی نہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ مزید یہ کہ دوسری قومیں اگر ان قومی علوم سے دلچسپی نہ لیں تو اس سے انھیں کوئی حقیقی نقصان نہیں ہوتا۔ مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم ایک علم کو لے کر اٹھتی ہے لیکن حقیقة وہ اس کا قومی علم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت ایک آفاقی علم کی ہوتی ہے۔ یہ علم اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام قوموں کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک قوم کے لیے۔ وہ انسانیت کا مشترک سرمایہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی قوم کا انفرادی ورثہ۔

قدیم صلیبی جنگوں کے بعد یہی صورت حال مغربی قوموں کے ساتھ پیش آئی تھی۔ مسلمان سائنسی علوم کے حامل تھے، اور اسی بنا پر وہ مغربی قوموں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے، اس وقت مغرب کی حیثیت مفتوح کی تھی، اور مسلمانوں کی حیثیت فاتح کی۔ اگرچہ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ مفتوح کے دل میں فاتح کے لیے نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ فاتح کی ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ مگر مغربی قوموں نے یہ نادانی نہیں کی۔ انھوں نے مسلمانوں کو اور مسلمانوں کے

علوم کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا۔ انھوں نے مسلمانوں سے نفرت کی، مگر مسلمانوں کے علوم کو انھوں نے آگے بڑھ کر لیا۔ نیز اپنی کوششوں سے اس میں اتنے اضافے کیے کہ بعد کی صدیوں میں وہ ان علوم کے امام بن گئے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ وہ دوبارہ تاریخ کو اپنے حق میں بدلنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہی صورت حال موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی۔ مغربی قو میں ان کے لیے فاتح کی حیثیت رکھتی تھیں۔ اس لیے مغربی قوموں سے بیزاری ان کے لیے ایک فطری بات تھی۔ یہاں مسلمان اس ہوش مندی کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ مغرب اور مغربی علوم کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں۔ مغربی قو میں جن علوم کو لے کر آگے بڑھی تھیں، وہ ان کے قومی علوم نہ تھے، بلکہ وہ کا ئناتٰی علوم تھے۔ ان کی حیثیت قوت و طاقت کی تھی۔ دورِ جدید کے مسلم رہنما اگر اس راز کو بروقت جان لیتے، تو وہ مغربی علوم کو مغرب سے الگ کرکے دیکھتے۔ مغربی علوم کو وہ اپنے لیے طاقت سمجھ کر وہ ان کو خود اپنی چیز سمجھتے، نہ کہ غیر کی چیز۔ مگر یہاں دورِ جدید کے مسلم رہنما اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے۔ انھوں نے بیک وقت مغرب سے بھی نفرت کی، اور مغربی علوم سے یہی وہ غلطی ہے، جس نے دورِ جدید میں مسلمانوں کو سائنس میں پیچھے کر دیا۔ مسلم رہنماؤں نے ایک لمحہ کی غلطی کی تھی، مگر اس کا نتیجہ مسلم قوم کو صدیوں کی شکل میں بھگتنا پڑا: یک لحظہ غافل گشتم وصد سالہ راہم دور شد زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت شعور کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، مسلمانوں نے جب صلیبی جنگوں میں مغربی اقوام پر فتح حاصل کی، تو وہ فتح کے جوش میں مبتلا ہوگئے ۔ اس جوش نے انھیں سائنس کی تحقیق سے غافل کر دیا۔ اس کے بعد موجودہ زمانہ میں یہی واقعہ ایک اور شکل میں پیش مسلمان مغربی قوموں کے مقابلہ میں مفتوح ہوئے، تو ان کے اندر مغربی اقوام کے خلاف نفرت وہ نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہو کر مغربی سائنس کی طرف سے بے رغبت ہو گئے۔ اپنی بے شعوری کے نتیجہ میں فاتح کی حیثیت سے بھی نقصان میں رہے، اور مفتوح کی حیثیت سے بھی۔

Printed page