Al-Risala · February 2020

زمانے کے مطابق عمل

Al-Risala, February 2020, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانہ دستکاری کا زمانہ تھا۔ ہر آدمی اپنا کام خود کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ انڈسٹری کا زمانہ موجودہ زمانے میں ہر کام میں پورا سماج شامل (involve) ہوتا ہے۔ اس بنا پر موجودہ زمانے میں ایک نیا کلچر وجود میں آیا ہے، جس کو انٹر ڈینڈنٹ کلچر (interdependent culture) کہا جاسکتا ہے، یعنی ہر آدمی دوسرے آدمی پر منحصر (نربھر) ہونا۔ قدیم بادشاہت کے زمانے میں لوگوں کے درمیان جو مساوات (equation) تھی، وہ حاكم اور محکوم کی تھی۔ جدید دور میں دنیا میں جمہوریت کا نظام آیا۔ اب مساوات (equation) کا معاملہ بالکل بدل گیا۔ اس معاملے میں نئی مساوات پوليٹیکل لیڈر اور ووٹر کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ بادشاہوں کو ووٹر کی ضرورت نہیں تھی ۔ وہ صرف ایک بات جانتا تھا، فوج کے ذریعہ لوگوں کو زیر کر کے ان کے اوپر حکومت قائم کرنا۔

نئی مساوات کے زمانے میں حاكم اور محکوم کے درمیان نیا تعلق قائم ہوا۔ (political leader) کو ووٹر کی ضرورت ہے۔ اس نئے دور میں ووٹر کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کرے ۔ اس طرح ایسا ہوا کہ ووٹر کو پوليٹیکل لیڈر کی ضرورت ہو گئی، اور پوليٹیکل لیڈر کو ووٹر کی ضرورت ۔ اس کے بعد دنیا میں پہلی بار وہ نظام آیا، جس کو انٹر ڈپینڈنٹ نظام کہا جاتا ہے۔ اس طرح دنیا میں نئے مواقع پیدا ہو گئے ۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ ہر ایک دوسرے کی ضرورت بن کر اپنا فائدہ حاصل کرے ۔ پوليٹیکل لیڈر اور ووٹر ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کریں۔ تاجر اور خریدار دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں۔ اب نہ کسی کو لڑنے کی ضرورت ہے، اور نہ کسی کو شکایت کی ضرورت ۔ انٹر ڈپینڈنٹ کے نئے نظام میں ہر ایک کو اصولا وہی حیثیت مل گئی ہے، جو اس سے پہلے مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) کے لیے مخصوص سمجھی جاتی تھی۔ کے لیے وہ تمام مواقع یکساں طور پر کھل گئے، جو پہلے کچھ خاص طبقے کو حاصل تھے۔

لٹکا لٹکا کر ماریں گے۔

Printed page