ٹکٹ کٹ رضاء
Al-Risala, February 2020, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
نئے سماج میں یہ ہوا کہ لیڈر کو ووٹر کی ضرورت ، اور ووٹر کو لیڈر کی ضرورت ۔ ڈاکٹر کو مریض کی ضرورت ، اور مریض کو ڈاکٹر کی ضرورت ۔ دوکاندار کو کسٹمر کی ضرورت ، اور کسٹمر کو دوکاندار کی اس طرح موجودہ زمانے میں ایک نیا سماج بنا، جس میں کسی ایک شخص کو عملاً وہی مواقع حاصل ہوگئے ، جو کسی دوسرے شخص کے لیے مخصوص سمجھے جاتے تھے ۔ اس دو طرفہ سسٹم کی بنا پر موجودہ زمانے میں ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ جو چاہے کرے ، اور جو چاہے حاصل کرے ۔ صرف ایک شرط کے ساتھ ، اور وہ یہ ہے کہ وہ دوسرے کے معاملے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔ وہ دوسرے کے لیے اپنی طرف سے کوئی پرابلم کھڑا نہ کرے ۔ دوسروں کے لیے مکمل طور پر پرابلم فری (problem-free) انسان بن جائے ۔ وہ اگر دوسروں سے کچھ پانا چاہتا ہے ، تو وہ دوسروں کو کچھ دینے والا بن جائے ، نہ کہ صرف لینے والا ۔ یہی وہ کلچر ہے ، کو عام زبان میں گیواینڈ ٹیک (give and take) کلچر کہا جاتا ہے ۔ اس نئے دور نے شکایت کے تصور کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔