1985 جون 8
Al-Risala, March 2021, pp. 9–10
By Maulana Wahiduddin Khan
برطانی قوم کا ایک بڑا عجیب واقعہ ہے، جس میں دوسروں کے لیے زبردست سبق پایا جاتا سیکنڈ ورلڈ وار (45-1939) میں برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹرونسٹن چرچل (1965-1874) انھیں کی قیادت میں برطانیہ نے اس جنگ میں فتح حاصل کی تھی۔ مگر جنگ کے فوراً بعد جب برطانیہ میں الکشن ہوا تو اہل برطانیہ نے مسٹر چرچل کو الکشن میں شکست دے کر مسٹرکلیمنٹ اٹلی (1983-1967) کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔ فاتح کو عین اس کی فتح کے بعد معزول کر دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت برطانیہ عظمی کے نوآبادیاتی علاقوں میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ جنگ کے بعد برطانیہ اس قابل نہ تھا کہ وہ ہندوستان اور دوسرے نو آبادیاتی ممالک میں بزور اپنا اقتدار قائم رکھ سکے۔ برطانیہ کے باشعور طبقہ نے یہ فیصلہ کیا کہ نو آبادیاتی ممالک کو آزاد کر دیا جائے۔ اس عمل کے لیے متشدد چرچل موزوں نہ تھے۔ بلکہ صلح پسند اٹلی موزوں
تری حیات کے نقوش ہم سے مٹا نہ جا سکیں گے ط ع ر چنانچہ اہل برطانیہ نے فاتح ہونے کے باوجود چرچل کو اقتدار سے ہٹا دیا اور مسٹر اٹلی کو ان کی جگہ ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔
مہاتما گاندھی (1948-1869) اور ہندستان کے دوسرے لیڈروں کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا، اور اسی کے نتیجہ میں ملک بآسولت آزاد ہو گیا۔ مگر مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں نے خود اپنے لیے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ ہندوستان میں جنگ آزادی کی قیادت شمالی ہند نے کی اس کے نتیجہ میں شمالی ہند کے لوگوں میں غیر معتدل قسم کا سیاسی مزاج بلکہ تخریبی مزاج پیدا اس کے مقابلہ میں جنوبی ہند کا مزاج بالکل مختلف تھا۔ شمالی ہند میں اگر انتہا پسندانہ سیاست کا مزاج تھا تو جنوبی ہند میں مخصوص اسباب کے تحت حقیقت پسندانہ تعمیر کا مزاج۔ ان حالات میں مہاتما گاندھی کے لیے صحیح ترین بات یہ تھی کہ وہ آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم جنوبی ہند کے کسی شخص کو بنائیں ۔ خوش قسمتی سے اس وقت کے جنوبی ہند میں سی راج گوپال اچاریہ جیسا عظیم لیڈر موجود تھا۔ مگر )Chakravarti Rajagopalachari, 1878-1972( مہاتما گاندھی نے جواہر لال نہرو کو آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دیا۔ جن لوگوں نے جنگ کی قیادت کی تھی انھیں کو مہاتما گاندھی نے تعمیر کی قیادت بھی سونپ دی۔
مہاتما گاندھی نے آزادی ہند کی تحریک نہایت کامیابی کے ساتھ چلائی تھی مگر اسی کامیابی کے ساتھ وہ تعمیر ہند کی تحریک کی رہنمائی نہ کر سکے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر مہاتما گاندھی نے شمالی ہند کے جواہر لال نہرو کے بجائے جنوبی ہند کے راجہ گوپال آچاریہ کو ملک کا وزیر اعظم بنایا ہوتا تو آج ہندوستان کی تاریخ یقینی طور پر بالکل دوسری ہوتی ۔
اقبال نے کہا تھا کہ مارکسزم جمع خدا، برابر اسلام :