Marxism + God = Islam
Al-Risala, March 2021, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی بات کو ایک اور شخص نے زیادہ بھونڈے انداز میں اس طرح کہا ہے :
اسلام لنگڑا تھا، مارکسزم نے اس کو دوسرا پاؤں عطا کیا۔
اس قسم کی باتیں جو لوگ کرتے ہیں، خواہ وہ اقبال ہوں یا غیر اقبال، ان کے متعلق میرا خیال یہی ہے کہ انھوں نے نہ مارکسزم کا گہرا مطالعہ کیا تھا، اور نہ اسلام کا۔ اگر وہ مارکسزم اور اسلام کو گہرائی کے ساتھ جانتے تو ہرگز وہ اس قسم کی بات نہیں کہتے۔
اقبال نے تہذیبِ حاضر کو خارجی مظاہر کی چمک (dazzling exterior) کہا تھا۔ مشہور شعر ہے :
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اسی جھوٹے نگوں کی چمک کا شکار رہے۔ مذکورہ فارمولا اور اسی طرح ان کے دوسرے بہت سے خیالات اس کی مثال ہیں۔ مثلاً جنت اور دوزخ کے بارے میں اقبال نے اپنے خطبات میں لکھا ہے :