Heaven and Hell are states, not localities.
Al-Risala, March 2021, pp. 11–15
By Maulana Wahiduddin Khan
دوزخ جنت اور جہنم کوئی مقام نہیں ہے۔ ان سے مراد انسان کی کیفیت ہے۔ یعنی جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں۔ اس طرح کی اور کئی باتیں ہیں، جو ظاہر کرتی ہیں کہ شاعرانہ تک بندیوں میں تو ضرور انھوں نے تہذیب حاضر کی مذمت کی، مگر ان کا حقیقی شعور تہذیب حاضر سے بلند ہو کر نہ سوچ سکا۔ وہ خود بھی تہذیب حاضر کی ظاہری چمک میں گم ہو کر رہ گئے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو (1979-1928) کا نعرہ یہ تھا: اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست، سوشلزم ہماری معیشت ہے مسٹر بھٹو کے اس نعرہ پر پاکستان کے مذہبی طبقہ کو سخت اعتراض تھا۔ وہ کہتے تھے کہ مسٹر بھٹو نے اسلام کو تین حصہ میں بانٹ دیا ہے۔ ایک اسلام، دوسرے جمہوریت، تیسرے سوشلزم۔ ( ) (
جب کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ اس کا تعلق ہر شعبہ زندگی سے ہے۔ اس میں کسی قسم کی تقسیم نہیں مسٹر بھٹوایک بدنام شخص تھے۔ ان کی تقسیم فورا لوگوں کو نظر آگئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خود مذہبی طبقہ اس طرح تین تقسیم پر اپنے کو راضی کیے ہوئے ہے۔ اگر چہ اس کے الفاظ اس سے مختلف ہیں، جو مسٹر بھٹو نے استعمال کیے تھے۔
مذہبی افراد کی تقسیم کو اگر ہم لفظوں میں ظاہر کرنا چاہیں تو اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے: اسلام ہمارا دین ہے، خودنمائی ہماری سیاست، ذاتی مفاد ہماری معیشت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ہر شخص کا نظریہ حیات ایک ہی ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر ایک آدمی اور دوسرے آدمی میں جو فرق ہے وہ الفاظ کا ہے، نہ کہ حقیقت کا۔ ہر آدمی اپنے حسب حال الفاظ بولتا ہے۔ ہر لیڈر اس نعرہ کو اختیار کرلیتا ہے جو اس کے لیے مفید مطلب اگر کئی الفاظ کو ایک لفظ میں سمیٹنا چاہیں تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج کی دنیا میں ہر شخص کا دین صرف ایک ہے، اور وہ ہے استحصال (exploitation)۔ بولے ہوئے الفاظ میں لوگوں کے دین ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
صحابہ کرام نے جو حدیثیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی نہیں ہیں۔ ان میں ایسی حدیثیں بھی ہیں جن کو ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے سنا اور صحابی کا نام لیے بغیر حدیث کو بیان کر دیا۔ براء بن عازب (وفات 72ھ) کہتے ہیں: مَا كُلُّ مَا نُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْنَاهُ مِنْهُ، مِنْهُ مَا سَمِعْنَاهُ، وَمِنْهُ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَنَحْنُ لَا نَكْذِبُ (فوائد الفریابی، اثر نمبر 34)۔ یعنی جو کچھ ہم تمھارے
کر کسی طرح کی پابندی نہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں حاصل نہیں کہ ہم کسی معاملے پر سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، وہ ہم نے آپ سے نہیں سنا۔ کچھ ہم نے آپ سے سنا ہے، اور کچھ اصحابِ رسول نے ( آپ سے سن کر ) بیان کیا ہے، اور ہم جھوٹ نہیں
اس قسم کی روایت کو اصطلاحِ حدیث میں مرسل حدیث کہتے ہیں اور علما کا اتفاق ہے کہ صحابی کی مراسیل قابل اعتبار ہیں۔ امام موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامی المقدسی کہتے ہیں: مراسیل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم مقبولة عند الجمهور ( روضة الناظر وجنة المناظر، صفحہ 125) ۔ یعنی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمہور کے نزدیک مقبول ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی (1914-1837) اور ڈاکٹر محمد اقبال (1938-1877) دونوں تقریباً ہم زمانہ ہیں۔ دونوں نے اشعار کے ذریعے قوم کو پیغام دیا۔ مگر اقبال کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ حالی کو حاصل نہ ہوسکی۔
حالی کی مسدس حالی‘ بلاشبہ ایک بہترین نظم ہے۔ میرے نزدیک وہ اقبال کے اشعار سے زیادہ اہم ہے۔ اس کے باوجود کیوں حالی کو وہ مقبولیت نہیں ملی جو اقبال کو ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالی کا کلام احتساب خویش (self-introspection) ہے، اور اقبال کا کلام احتساب غیر۔ کلام درسِ عمل ہے، اور اقبال کا کلام درسِ فخر۔ حالی کے کلام میں کر کے پانے کا سبق ہے، اور اقبال کے یہاں کیے بغیر شاعرانہ ترنگوں (جذبات) میں سب کچھ مل رہا ہے۔ حالی بتاتے ہیں کہ تم دوسروں سے پیچھے ہو گئے ہو۔ اقبال یہ شراب پلاتے ہیں کہ تم سب سے آگے ہو، حتیٰ کہ تمھارا وہ مقام ہے کہ خدا بھی تمھارے الفاظ کا انتظار کر رہا ہے:
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے حالی نے حقیقت پسندی کا سبق دیتے ہوئے کہا:
صدا ایک ہی رُخ نہیں ناؤ چلتی چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
اس کے برعکس، اقبال نے پر فخر طور پر اعلان کیا:
حدیثِ بے خبراں است کہ بازمانہ بساز زمانہ با تو نہ سازد تو بازمانہ ستیز یعنی بے خبروں کی نصیحت ہے کہ اگر زمانہ تمہارے خلاف ہو تو تم بھی بدل کر زمانے کے ساتھ ہوجاؤ، اگر زمانہ ساتھ نہیں دیتا تو تم زمانے سے لڑ کر زمانہ کو بدل دو۔
امت نے اقبال کی بات کو پکڑ لیا، مگر خلافِ زمانہ حرکت (anachronism) سے صرف امت کے نقصان میں اضافہ ہوا، اس سے امت کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ قوم نے اگر حالی کے پیغام کو پکڑا ہوتا تو آج یقیناً اس کی تاریخ دوسری ہوتی۔ مگر قوم کی اکثریت اقبال کا کلام گنگناتی رہی۔ یہ ہوا کہ نصف صدی کے بعد بھی قوم کے پاس جھوٹے فخر اور خیالی پرواز کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ مسلمانوں نے پچھلے دو سو برس کے اندر کوئی بھی ٹھوس تعمیری کام نہیں کیا۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ عقلی نقطہ نظر کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی نقطہ نظر نے ایک فکری انقلاب پیدا اس انقلاب نے دینی عقائد کو دور جاہلیت کی چیز قرار دے کر ان کو تاریخ کے خانہ میں ڈال یہاں ضرورت تھی کہ مسلمان اٹھیں اور دینی عقائد اور تعلیمات کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم کریں۔ اس پوری مدت میں منفی ہنگاموں کے سوا مسلمان اور کچھ نہ کر سکے۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ زمانے میں تبدیلی واقع ہوئی اور دینی عقائد کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے۔ مگر یہ کام تمام تر عیسائی اور یہودی علماء نے انجام دیا۔ مسلمانوں کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں۔ جدید سائنس نے خدا کو کائنات کے نقشہ سے حذف کر دیا تھا۔ اب دوبارہ خدا کائنات کے نقشہ میں نظر آرہا ہے مگر اس عمل کو انجام دینے والے وہ لوگ ہیں، جن کے نام جیمز جینز اور ڈاگٹن جیسے ہیں۔
یہی معاملہ تمام دینی تعلیمات کا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دنیا میں دوسرے الہامی مذاہب (عیسائیت، یہودیت ) بھی موجود تھے ۔ اسلام اور ان مذاہب کے درمیان تعلیمات اور تاریخی شخصیتوں
کا اشتراک ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنی تعلیمات اور اپنی تاریخ کو عقلی اور سائنسی طور پر معتبر ثابت کرنے کے لیے جو تحقیقات کیں اس کا فائدہ بالواسطہ طور پر اسلام کے حصہ میں بھی آگیا۔ مثلاً علم الآثار کی تحقیق جس نے قرآن میں مذکور اقوام اور شخصیتوں کو تاریخ کی روشنی عطا کی۔ نظریہ ارتقا کی تردید جس نے خالق کے عقیدہ کو دوبارہ بحال کیا۔ عورت اور مرد کے درمیان حیاتیاتی فرق کو ثابت کرنا جس نے خاندان کے بارے میں اسلامی قوانین کو دوبارہ اعتباریت (credibility) عطا کی۔ حتیٰ کہ اسلام کی قدیم عربی کتب کو مخطوطات کے دور سے نکال کر مطبوعات کے دور میں داخل کرنا بھی انھیں عیسائیوں اور یہودیوں کا کارنامہ ہے۔ غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے بعد سب سے زیادہ جس زبان میں اعلیٰ لٹریچر موجود ہے، وہ انگریزی زبان ہے۔ اس سلسلہ کی ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ سیرت کی مستند کتاب، سیرت ابن ہشام کا مکمل ترجمہ پہلے انگریزی میں ہوا اور اس کے بہت دیر بعد کسی مسلم زبان میں۔