1985 جون 17
Al-Risala, March 2021, pp. 15–20
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائمس میں ایک ہندو کا خط چھپا ہے۔ یہ خط ہندوستان کے مسلمانوں کے معاملات سے متعلق ہے۔ مسلمان اس خط کو پسند نہیں کریں گے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ خط صد فی صد (100%) درست ہے، وہ مسلمانوں کی حالت کی صحیح ترین ترجمانی ہے۔ ہند و مکتوب نگار نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی زبوں حالی کا الزام ہندوؤں کو دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار تمام تر خود اس نے مسلمانوں کی لیڈر شپ کو مسلمانوں کی بدحالی کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مکتوب نگار کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی بدحالی کا سبب یہ ہے کہ ان کے لیڈروں میں خود نمائی (self-glorification) کا جذبہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لیڈر خود نمائی (self glory) کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ انھیں چیزوں میں دوڑتے ہیں جس میں نیوز و یلو ہو، جس میں ان کی ذات کو شہرت اور بڑائی حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی لیڈر (سر سید کے واحد استثنا کے سوا) اس پورے دور میں کوئی حقیقی تعمیری کام (constructive) نہ کرسکا۔ ایسی حالت میں
مسلمانوں کو اپنی بدحالی کا ذمہ دار اپنے آپ کو قرار دینا چاہیے، دوسروں کی شکایت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔
مجھے مذکورہ ہندو مکتوب نگار کی رائے سے صد فی صد (100) اتفاق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اصل دشمن خود ان کے اپنے لیڈر ہیں۔ ان لیڈروں نے اپنی شخصی لیڈری کی خاطر قوم کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ مسلمان جب تک اس اصل سبب کا اعتراف آپ کی پیروی نہ کرے تو وہ موجودہ زمانے میں اپنی جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔ قدیم عرب کے لوگ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے حیرت انگیز تھے۔ ان کی مختلف صلاحیتوں میں سے ایک اعلیٰ صلاحیت یہ تھی کہ وہ کم الفاظ میں نہایت با معنی بات کہنا جانتے تھے۔ جنگ جمل کے زمانہ میں حضرت علی نے دو آدمیوں کو کوفہ بھیجا کہ وہ ان کو تعاون پر آمادہ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ ، خَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ بِهَا ، لِيَنْظُرَ إِيَّاهُ تَتَّبِعُونَ أَوْ إِيَّاهَا (السنن الکبری للبیہقی ، اثر نمبر 16717)۔ یعنی جب علی ابن ابی طالب نے عمار اور حسن کو کوفہ بھیجا تا کہ وہ انھیں جنگ میں نکلنے کے لیے ابھاریں تو عمار نے تقریر کرتے ہوئے کہا : میں جانتا ہوں کہ عائشہ دنیا اور آخرت میں تمھارے پیغمبر کی بیوی ہیں۔ مگر اللہ نے اس کے ذریعہ سے تم کو آزمایا ہے تا کہ دیکھے کہ تم علی کا ساتھ دیتے ہو یا عائشہ کا اتنی نازک بات کو اس سے زیادہ کم الفاظ میں ہ ہما رویت ہے، اسی طرح تر تیب دیا گیا ہے۔ اس بات با۔
شاید نہیں کہا جاسکتا۔
ہر دو آدمی کے درمیان کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ خدا ہر وقت ہر آدمی کی بات سن رہا ہے تا کہ اس کے مطابق لوگوں کے درمیان انصاف کرے۔
اگر آدمی کو اس واقعے کا احساس ہو تو اس کا وہی حال ہوگا، جو ایک آدمی کا عدالت میں ہوتا عدالت میں ہر آدمی بالکل ناپ تول کر بولتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی بات خلاف قاعدہ منہ سے نکل گئی تو وہ فوراً عدالت کی پکڑ میں آجائے گا۔ اسی طرح اللہ پر عقیدہ رکھنے والا جو کچھ بولتا ہے، اس احساس کے تحت بولتا ہے کہ خدا اس کو سن رہا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کوئی غلط بات اپنے منہ سے نہ نکالے۔
انسان سے اگر غلطی ہو جائے اور وہ فوراً اس کا اعتراف کرلے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اعتراف کیا۔ اور اگر وہ غلطی کا اعتراف نہ کرے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ لوگ معاملات کو انسان کا معاملہ یہی وجہ ہے کہ وہ سرکشی اور بے انصافی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غلطی کر کے بھی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔
میرا مزاج یہ ہے کہ اگر میں کوئی خلاف حق بات کہہ دوں اور اس کے بعد مجھے معلوم ہو کہ یہ بات حق کے خلاف تھی تو میں اس کو افورڈ (afford) نہیں کر سکتا کہ میں اس کا اعتراف نہ کروں۔ میں حق کے آگے جھک نہ جاؤں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا خود ظاہر ہو کر میرے سامنے آیا اور کہا کہ میرے سامنے جھک جا اس کے باوجود میں خدا کے سامنے نہیں جھکا۔ کے سامنے نہ جھکنا ایسا ہی ہے گویا کسی کے سامنے خدا آیا، اور وہ اس کے سامنے نہیں جھکا۔ 20 جون 1985 ایک شخص نے اپنا دل چسپ تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہے:
"A fast way of becoming a millionaire", read the ad in the newspapers. "For further particulars send a self-addressed stamped envelope along with Rs. 1". Intrigued, I sent off the money and received the following reply: “Start a scheme just like this one.” (Dilip Rendalkar, Secunderabad)
جلد کروڑ پتی بننے کا طریقہ‘ اس عنوان سے میں نے اخبارات میں ایک اشتہار پڑھا۔
کے ساتھ اشتہار میں یہ درج تھا کہ مزید تفصیدلات کے لیے اپنا پتہ لکھے ہوئے لفافہ کے ساتھ ایک میرا اشتیاق بڑھا۔ میں نے مطلوبہ رقم بھیج دی۔ اس کے بعد مجھے ایک جواب ملا، جس میں یہ لکھا تھا— اسی طرح کی ایک اسکیم آپ بھی شروع کر دیجیے۔
تجارت کے دو طریقے ہیں۔ ایک معروف تجارت، اور دوسری وہ جس کو چھوٹی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کہا جا سکتا ہے۔ مذکورہ واقعہ "جھوٹی امیدوں کی تجارت" کی ایک دلچسپ مثال ہے۔
جھوٹی امیدوں کے بزنس کے سب سے بڑے تاجر موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈر ہیں۔ ایک بڑی سی امید لا کر قوم کو اکسائیں گے۔ قوم ان کے الفاظ سے متاثر ہو کر دوڑ پڑے گی۔ چندہ دے گی۔ ان کے جلسوں میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر ان کی امیج (image) بڑھائے گی۔ کہ بے شمار لوگ ان کے الفاظ کے فریب میں آ کر گولیاں کھائیں گے، اور اپنے کو برباد کریں گے۔ اس کے نتیجہ میں لیڈر کی لیڈری چمک اٹھے گی۔ اس کی قیادت کا شان دار مینار کھڑا ہو جائے مگر قوم کے حصہ میں کچھ بھی نہ آئے گا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے مذکورہ مثال میں لاکھوں آدمیوں نے اپنی جیب کی رقم کھو کر ایک شخص کو دولت مند بنا دیا، مگر خود کھونے والوں کے حصہ میں کچھ بھی نہ آ سکا۔ 21 جون 1985 جھوٹی انسائیکلو پیڈیا (ایک جلد والی) میں سے ایک وہ ہے جس کا نام ہے : Pears' Cyclopaedia (London)
اس انسائیکلو پیڈیا میں مونوتھیزم کے آگے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں— توحید اس اصول کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا کا وجود ہے۔ خاص توحیدی مذہب عیسائیت ہے : Monotheism, the doctrine that there exists but one God. The chief monotheistic religion is Christianity. یہ انسائیکلو پیڈیا کا وہ ایڈیشن ہے جو 1948 میں چھپا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے مغربی
دنیا میں جو لٹریچر تیار ہوا، اس میں اسی طرح اسلام کو حذف کر دیا گیا تھا۔ اپنی اصل کے اعتبار سے بلا شبہ تمام مذاہب توحید کے مذاہب تھے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آج خالص توحیدی مذہب کیوں کہ دوسرے مذاہب اپنی ابتدائی حالت میں باقی نہیں ہیں۔
مغربی علما نے اب اپنی اس روش پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ چنانچہ 1977 میں شائع ہونے والی ایک انسائیکلوپیڈیا (Collins Concise Encyclopedia (Glasgow میں اس سلسلہ میں حسب ذیل الفاظ لکھے گئے ہیں کہ توحید اس عقیدہ کا نام ہے کہ یہاں صرف ایک خدا ہے جیسا کہ یہودیت اور عیسائیت اور اسلام میں مانا جاتا ہے:
Monotheism, belief that there is only one God, as in Judaism, Christianity and Islam. 22 جون 1985 اخبار ملاپ (نئی دہلی) آریہ سماجی حضرات کا اخبار ہے۔ اس میں ایک بار ایک لطیفہ چھپا۔ وہ یہ تھا— ایک ہندو ایک بار اپنے ایک ہندو دوست کے یہاں گیا جو کٹر مذہبی تھا۔ کافی دیر تک کھانا پکوایا۔ مہمان مہمان کا بھوک سے برا حال ہو رہا تھا۔ آخر کار کئی گھنٹہ کے بعد میزبان نے کہا کہ اندر چلیے ۔ وہ ان کے ساتھ اندر کی طرف چلے۔ یہاں تک کہ دونوں اس کمرے کے سامنے پہنچے جس کے اندر کھانا رکھا ہوا تھا۔ مہمان حسب عادت چلتا ہوا اس طرح کمرہ میں داخل ہوا کہ پہلے چوکھٹ کو پار کر کے ایک پاؤں کمرے میں رکھا اور پھر اس کے بعد دوسرا پاؤں۔ یہ دیکھ کر میزبان بگڑ اس نے کہا کہ تم نے سارا کھانا بھر سٹ کر دیا۔ مہمان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس نے کیا غلطی کی میزبان نے کہا کہ تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ تم نے سارا کھانا خراب کر دیا۔ اب اس کو نہ تم کھا سکتے نہ میں کھا سکتا۔ مہمان جو بھوک سے بے تاب تھا، اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا کہ آخر مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ہے۔ میزبان نے کہا کہ تم رسوئی گھر میں ایک پاؤں آگے ایک پاؤں پیچھے کر کے داخل ہو گئے۔ تم کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ دونوں پاؤں برابر کر کے ملاتے اس کے بعد چوکھٹ
کے اوپر سے کود کر کمرے میں داخل ہوتے۔
مشرکانہ مذاہب میں اس قسم کی ظاہری رسموں کی بے حد اہمیت ہوتی ہے۔ مذہب سارا کا سارا رسوم و رواج ہی کے اوپر قائم ہوتا ہے۔