1 جولائی 1985
Al-Risala, March 2021, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
اقبال نے نصف صدی سے بھی پہلے پر فخر طور پر یہ شعر کہا تھا:
ایک ولولۂ تازہ دِیا میں نے دلوں کو لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمر قند اقبال کی موت (1937) کے تقریباً دس سال بعد ان کا یہ خواب بھی پورا ہوا کہ ایک آزاد مسلم اسٹیٹ (an independent Muslim State) پاکستان کے نام پر قائم ہو گیا۔ اقبال اگر مفکر پاکستان تھے تو جناح معمارِ پاکستان۔ قیامِ پاکستان کے بعد مسٹر محمد علی جناح نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ خدا نے ہم کو ایک سنہرا موقع دیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایک نئی قوم کا معمار ہونے کا اہل ثابت لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ دیجیے کہ ہم اپنے آپ کو اس مہم کا اہل ثابت نہ کر سکے: “God has given us a golden opportunity to prove our worth as architects of a new nation, and let it not be said that we didn’t prove equal to the task.”
پاکستان کے ایک اقبال اور جناح کے مداح لکھتے ہیں ”افسوس کہ علامہ اقبال پاکستان کے قیام سے لگ بھگ دس سال قبل ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ قائد اعظم مرحوم بھی قیامِ پاکستان کے بعد کل ایک سال زندہ رہے۔ ان کے بعد ان کی عظیم تحریک کا ثمرہ دوسروں نے اچک لیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہ معاملہ بھی عجیب ہے کہ وہ خوش قسمتی کے ہجوم میں بدقسمتی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اتنا بڑا مفکرِ اسلام پیدا کیا، جس نے سارے عالمِ اسلام میں نیا ولولہ پیدا کر دیا۔ مگر اس نئے ولولہ کا عملی انجام یہ ہے کہ مفکرِ اسلام کے اپنے وطن (لاہور) میں بھی
غلبہ دل سرے غلبہ دل سرے علقہ دل سرے کوٹ کرشن اِس ترانہ کے غیر اسلام کے علم بردار اسلام کے علم برداروں کو شکست فاش دیے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بطور خود مفکر اعظم اور قائد اعظم پیدا کر لیے۔ مگر ان اعاظم(اکابر) (اکابر) کی کامیاب تحریکوں کا ثمرہ (result) وہ لوگ اچک لے گئے جو بالکل بر عکس ذہن رکھتے تھے۔
Coleridge, 1772-1834) سیموئیل ٹیلر Taylor Coleridge, 1772-1834)
انگریزی شاعر ہے۔ اس کی ایک نظم کا عنوان ہے: