Al-Risala · March 2021

The Rhyme of the Ancient Mariner

Al-Risala, March 2021, pp. 25–28

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح نے کسی گناہ کے سب (Sun) ایک ہاتھ ہر سمندر میں پھنس رکھا اس نظم میں شاعر نے دکھایا ہے کہ ایک ملاح اپنے کسی گناہ کے سبب سمندر میں پھنس گیا اس کے پاس پینے کے لیے میٹھا پانی نہیں ہے۔ کشتی کے چاروں طرف سمندر کا پانی پھیلا ہوا مگر کھاری ہونے کی وجہ سے وہ اس کو پی نہیں سکتا۔ وہ پیاس سے بے تاب ہو کر کہتا ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی مگر ایک قطرہ نہیں جس کو پیا جاسکے:

Water, water, everywhere / Nor any drop to drink. جو حال کولرج کے خیالی ملاح کا ہوا وہی حال امکانی طور پر اس دنیا میں تمام انسانوں کا ہے۔ انسان پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر پانی کا تمام ذخیرہ سمندروں کی صورت میں ہے جن میں 1/10 حصہ نمک ملا ہوا ہے۔ اس بنا پر سمندر کا پانی اتنا زیادہ کھاری ہے کہ کوئی آدمی اس کو پی نہیں سکتا۔ اس کا حل قدرت نے بارش کی صورت میں نکالا ہے۔ سورج کی گرمی کے اثر سے سمندروں میں تبخیر (evaporation) کا عمل ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضا کی طرف اٹھتا ہے، مگر مخصوص قانونِ قدرت کے تحت اس کا نمک کا جزء سمندر میں رہ جاتا ہے، اور صرف میٹھے پانی کا جزء اوپر جاتا ہے۔ یہی صاف کیا ہوا پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برستا ہے اور انسان کو میٹھا پانی عطا کرتا ہے جس کی اسے سخت ترین ضرورت ہے۔ بارش کا عمل ازالہ نمک (desalination) کا ایک عظیم آفاقی عمل ہے۔ آدمی اگر صرف اس ایک واقعہ پر غور کرے تو اس پر ایسی کیفیت طاری

ہو کہ وہ خدا کے کرشموں کے احساس سے رقص کرنے لگے ۔

قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت ایک آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ آپس میں نہیں ملتے۔

یہ ایک انتہائی حیرت ناک بیان ہے۔ نزول قرآن کے وقت ساری دنیا میں کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ پانی دو قسم کے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے ملے بغیر بہتے ہیں۔ ایسے زمانہ میں قرآن میں اس قسم کی آیت کا ہونا واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدائی کتاب ہے۔ کوئی انسان اس راز سے واقف ہی نہ تھا کہ وہ اس کو بیان کرے ۔ موجودہ زمانہ میں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بات پانی کے کھاری پن میں فرق سے پیدا انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں (Salinity Current) کے تحت درج ہے : Saline water is denser than fresher water; when two water bodies converge, the more saline of the two flows beneath the less saline. Thus, a river flowing into the sea flows on the surface, sometimes for great distances; the Mississippi, for example, appears as a brown, freshwater stream in the blue waters of the Gulf of Mexico. (EB. VIII, p. 811) کھاری پانی میٹھے پانی سے زیادہ کثیف (dense) ہوتا ہے۔ جب دو پانی ملتے ہیں تو جو دونوں میں سے زیادہ کھاری ہوتا ہے وہ کم کھاری کے نیچے بہتا ہے۔ اس طرح سمندر میں بہنے والا ایک دریا سمندر کی سطح پر بہتا ہے۔ بعض اوقات بہت دور تک مثلاً مسیپی گلف کے نیلے پانی کے اوپر بادامی پانی کی شکل میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کتا کرتا ہوا کالا سمندر آفس کے تندر گڑ کا کُھلتا ہوا نظر آتا ہے اکثر باتیں بالکل سادہ اور فطری ہوتی ہیں مگر ان کو غیر ضروری طور پر پراسرار بنا دیا جاتا ہے۔ مثلاً روایات میں آتا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے جب مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ

لوگوں کو پکارو، تا کہ وہ یہاں حج کے لیے آئیں۔ حضرت ابراہیم کو اندیشہ ہوا کہ میری آواز ہر جگہ کیسے خدا نے کہا کہ تم پکارو اور پہنچانا ہمارا کام ہے (يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أُبْلِغُ النَّاسَ وَصَوْتِي لَا فَقِیلَ: نَادِ وَعَلَيْنَا الْبَلَاغُ)۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے پکار کر کہا کہ لوگو! بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے آؤ۔ پھر پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ہر جگہ پہنچ گئی (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، اس واقعے کی اصل قرآن میں موجود ہے: وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ (22:27)۔ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔

پیغمبر ابراہیم کی یہ بات اگر بالکل لفظی معنوں میں ہوتی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر دوبارہ یہ اعلان کرنے کی ضرورت نہ ہوتی: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا (مسند احمد، حدیث نمبر 10607)۔ یعنی اے لوگو، بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر حج فرض کیا ہے تو حج کرو۔

حضرت ابراہیم کا اعلان دراصل بات کو کہنے کا ایک اسلوب ہے۔ حضرت ابراہیم کا اعلان پر اس کی تکمیل اعلان نہیں تھا بلکہ وہ پر اس کے آغاز اعلان تھا۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ اس اہم اعلان کا آغاز کیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان فرمایا۔ بعد آپ کی امت کے لوگ نسل درنسل اعلان کر رہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔ اکثر غلط فہمی اسی لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ ایک پر اس کے تحت جاری واقعات کو ایک دوسرے سے ملا کر نہیں دیکھتے۔ مثلاً اس معاملہ میں وہ حضرت ابراہیم کے اعلان کو الگ واقعے کی حیثیت سے دیکھیں گے، اور پھر رسول اللہ کے اعلان کو الگ واقعہ سمجھیں گے۔ پھر ان دونوں کو الگ الگ واقعہ سمجھ کر لکھنا اور بولنا شروع کر دیں گے۔ یہ غیر علمی نقطہ نظر ہے، اور اکثر حالات میں یہی غیر علمی نقطہ نظر لوگوں کے لیے اصل بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو حدیثیں وضع کی گئیں اس کے بہت سے محرکات تھے۔

ان میں سے ایک محرک دین کا مذاق اڑانا تھا۔ مثلاً یہود و نصاریٰ نے بعض چیزوں کو خود ساختہ طور پر اپنا مذہبی شعار بنا لیا تھا۔ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ تم ان معاملات میں یہود و نصاریٰ کا انداز اختیار نہ کرو بلکہ اس سے مختلف طریقہ اختیار کرو ( خَالِفُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ) صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 2186۔

ایک شخص نے اس تعلیم کا مذاق اڑانے کے لیے ایک حدیث گھڑی اور کہا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 3778)۔ یعنی گوشت کو چھری سے نہ کاٹو، کیوں کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے۔ اسلام نے مذہبی شعار میں تشبہ سے منع کیا تھا۔ مگر کہنے والے نے ایک خود ساختہ مثال کے ذریعے اس کو مضحکہ خیز بنا دیا۔ اس قسم کی لاکھوں حدیثیں وضع کر کے لوگوں کے اندر پھیلا دی گئیں۔ تاہم اس سے دین محفوظ کو کوئی خطرہ نہیں۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید (148-193ھ) کا واقعہ ہے۔ اس نے ایک حدیث وضع کرنے والے کو موت کی سزا دی تو اس نے کہا تھا: فأين أنت من ألف حديث وضعتها على نبيك ؟ فقال له : أين أنت يا عدوَّ الله من أبي إسحاق الفزاري وابن المبارك ؟ فیُخرجانہا حرفًا حرفًا ( مرآۃ الزمان فی تواریخ الأعیان، جلد 13 ، صفحہ 117)۔ یعنی تم کیسے ایک ہزار حدیثوں کو نکالو گے، جو میں نے تمھارے نبی پر گڑھی ہے۔ تو ہارون رشید نے کہا: اللہ کے دشمن تم ابو اسحاق الفزاری، اور ابن المبارک سے بچ نہیں سکتے، وہ دونوں اس کو غور سے دیکھیں گے، اور اس کو ایک ایک حرف کر کے نکال دیں گے۔ یہ معاملہ صرف دو محدثین تک محدود نہیں ہے، ہارون رشید نے اس زمانے میں جاری ایک پر اس کی خبر دی، جس کو کثیر تعداد میں محدثین انجام دے رہے تھے۔ صحابہ کرام کے اقوال جو کتابوں میں آئے ہیں، وہ حد درجہ حکمت کی باتیں ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ کسی صحابی نے بھی کسی یونیورسٹی میں تعلیم نہیں پائی تھی۔ پھر یہ علم ان کے اندر کہاں سے آیا۔ یہ علم ان

Printed page