بارہ سالہ شاہ شجاع ایک خوش مزاج لڑکا تھا،
Al-Risala, March 2021, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر تقویٰ نے پیدا کیا۔ تقویٰ خود علم ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس کا سینہ علم کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مسروق تابعی نے کہا: کَفَیٰ بِالْمَرْءِ عِلْمًّا أَنْ يَخْشَیٰ اللهَ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 6، صفحہ 142)۔ یعنی آدمی کے علم کے لیے کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔ اس علم خاص کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: مَنْ کَثُرَ ضَحِکُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ ، مَنْ مَزَحَ اسْتُخِفَّ بِهِ بِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، اثر نمبر 2259)۔ یعنی جو آدمی زیادہ ہنسے اس کا رعب کم ہو جائے گا۔ اور جو شخص ہنسی مذاق کرے گا ، وہ لوگوں کی نظر میں ہلکا ہو جائے گا۔ حضرت عمر کے اس قول میں جو حکمت ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔
1976 میں طرابلس (لیبیا) میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس کا عنوان تھا :