White House is the loneliest place in the world.
Al-Risala, March 2021, pp. 31–46
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ آدمی کی ایک ضرورت ہے کہ وہ پرائیویسی (privacy) حاصل کر سکے۔ وہ محسوس کرے کہ وہ اپنی دنیا میں ہے جہاں دوسروں کا دخل شامل نہیں۔ مگر بڑے لوگ‘‘ اس سے محروم ہوتے ہیں۔ فطرت انسانی کی اس طلب کا ان کے یہاں کوئی خانہ نہیں ہوتا۔
یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں ان بڑے لوگوں کو مستقل طور پر اضطراب میں رکھتی ہیں۔ اپنے ماحول سے کبھی مطمئن نہیں ہوپاتے۔ مگر اقتدار کا نشہ ایسی چیز ہے جو ہر چیز پر غالب آجاتا ہے۔ آدمی ہر حال میں اقتدار کے منصب پر بیٹھنا چاہتا ہے، خواہ اس کی وجہ سے اسے خود اپنی شخصیت کو قتل کی ہار مان میں زبردست چابی پر دینا پڑتی ہے ربط پر کردینا پڑتا ہے۔
یہاں درہ گرگ کرتا کے ساتھ ایک متبرک شخص کا ذکر ہے، غلط۔
میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تجربہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف نہیں خواہ اس کی غلطی کو کتنے ہی زیادہ قوی دلائل کے ساتھ واضح کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں میرے بہت سے تجربات ہیں۔ ایک دل چسپ واقعہ وہ ہے، جو مولانا عامر عثمانی (وفات 1975) سے متعلق ہے۔ 1963 میں میری کتاب ”تعبیر کی غلطی‘‘ چھپی تو لوگوں نے عامر عثمانی صاحب سے کہا کہ وہ اس کا جواب لکھیں۔ عامر عثمانی صاحب اکثر جماعت اسلامی کا دفاع
کیا کرتے تھے، اور اپنے تفریحی انداز کی وجہ سے کافی پڑھے جاتے تھے۔ میری معلومات کے مطابق ابتدا میں انھوں نے گریز کیا۔ مگر جب لوگوں کا اصرار بڑھا تو انھوں نے ایک لمبا مضمون لکھا جو 1965 کے آغاز میں ان کے رسالہ تجلی (فروری- مارچ 1965، صفحہ 124-99) میں شائع ہوا۔ کا عنوان تھا: مولا نا وحیدالدین خانصاحب کی تعبیر کی غلطی۔
یہ مضمون واضح طور پر اس کا ثبوت تھا کہ عامر عثمانی صاحب اپنے آپ کو علم کے میدان میں عاجز پا رہے ہیں۔ چنانچہ اس میں اصل نقطہ نظر کی علمی تردید کی کوشش نہیں کی گئی۔ البتہ مختلف انداز سے اس کا مذاق اُڑایا گیا۔ اس کے جواب میں میں نے ایک مفصل مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’’تنقید یا مسخرہ پن‘ یہ مضمون اولاً ماہ نامہ نظام (کانپور) میں دسمبر 1965 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد دوسرے جرائد میں نقل کیا گیا۔ میرے اس مضمون کی اشاعت کے بعد جناب عامر عثمانی مزید دس سال تک زندہ رہے۔ مگر وہ اس موضوع پر بالکل خاموش ہو گئے ۔ پھر انھوں نے کبھی تعبیر کی غلطی کا رد کرنے کی کوشش نہیں کی۔
البتہ اس کے بعد انھوں نے تجلی کا حاصل مطالعہ نمبر نکالا۔ یہ نمبر جولائی۔ اگست 1966 پر اس میں انھوں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سمیت متعدد شخصیتوں کی منتخب تحریریں شائع کیں اور ان پر تبصرے لکھے۔ مگر انھوں نے سب سے زیادہ شاندار ذکر راقم الحروف کا کیا۔ کتاب کا پہلا مضمون راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ سے متعلق تھا اس کے اعتراف میں انھوں نے اپنے وہ آخری الفاظ صرف کر دئے جو ان کے پاس موجود تھے۔
جناب عامر عثمانی صاحب کا یہ مضمون ’’پچاس فی صداعتراف‘‘ کا ثبوت ہے۔ مگر افسوس کہ دوسروں میں اتنے اعتراف کی بھی جرات نہیں۔
میں جن لوگوں سے اپنی زندگی میں غیر معمولی طور پر متاثر ہوا ان میں سے سے ایک مولانا عبدالباری ندوی (1976-1886) ہیں۔ ان سے نہ صرف میری ملاقاتیں ہوئی ہیں بلکہ ایک مختصر
عرصہ تک میں ان کی رہائش گاہ پر مقیم بھی رہا ہوں۔
موصوف مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ مولاناتھانوی نے ان کو رسمی بیعت کے بغیر مرید کیا تھا، یعنی مولانا اشرف علی تھانوی نے ان سے مجازی بیعت لی تھی۔ جن دنوں میں ان کے یہاں مقیم تھا (غالباً یہ 1967 کے اوائل کی بات ہے)، میں نے ایک روز ان سے کہا کہ آپ مجھے بیعت کر لیجیے۔ وہ مجھ سے بہت زیادہ خوش رہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ پیدائشی صوفی آپ کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ کو اسی طرح اپنے حلقہ بیعت میں لیتا ہوں جس طرح مولانا تھانوی نے مجھ کو اپنے حلقہ بیعت میں لیا تھا۔ مولاناعبدالباری ندوی میرے کام کے سلسلہ میں میری بہت حوصلہ افزائی فرمایا کرتے مولاناعبدالباری ندوی میرے کام کے سلسلہ میں میری بہت حوصلہ افزائی فرمایا ایک بار انھوں نے مجھ کو ایک خط لکھا جس کا ایک جملہ یہ تھا : باقی میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ جدید طبقہ کی طرف مبعوث ہیں ۔
مولانا عبدالباری ندوی کے بارے میں ایک مفصل مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ہو، وہ بڑے بڑوں کے ہاتھ میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔
یہ الجمعیۃ ویکلی 7 مارچ اور 14 مارچ 1969 میں دو قسطوں میں چھپا تھا۔ میں 1948ء میں جماعتِ اسلامی سے متاثر ہوا اور جاری ہی 31 کارکن بنالیا گیا اس ز میں 1948 میں جماعت اسلامی سے متاثر ہوا اور جلد ہی اس کارکن بنا لیا گیا۔ میں میرا قیام اعظم گڑھ میں تھا۔ میں وہاں کی مقامی جماعت سے وابستہ تھا، جس کے امیر اس وقت ماسٹر عبد الحکیم انصاری تھے۔ 1950 کے لگ بھگ زمانہ میں میرا یہ خیال ہوا کہ میں پاکستان چلا جاؤں، اور وہاں پر کوئی کام کروں۔ رکن جماعت کی حیثیت سے میرے لیے ضروری تھا کہ میں امیر جماعت اسلامی ہند سے اس کی اجازت حاصل کروں۔ اس وقت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی جماعت اسلامی ہند کے امیر تھے۔ میں نے ان کو اجازت کے لیے خط لکھا تو انھوں نے اجازت نہ ان کو یہ تردد تھا کہ میں پاکستان جا کر کوئی کام نہ کر سکوں گا، اور وہاں مشکلات میں پھنس جاؤں گا۔ اس خط و کتابت کا ذکر میں نے مقامی امیر ماسٹر عبد الحکیم انصاری صاحب سے کیا۔ اس کو ہرا رکھا ہے محبت میں میرا دل |
تجویز سے متفق ہو گئے، اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ آپ پاکستان چلے جائیں۔ وہاں آپ کو کام کے زیادہ مواقع ملیں گے۔
چوں کہ مولانا ابو اللیث صاحب (امیر جماعت اسلامی ہند) مجھے منتقل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اس لیے انھوں نے مولانا ابو اللیث صاحب کے نام ایک سفارشی خط لکھا۔ میں میری تجویز کی پر زور تائید کرتے ہوئے انھوں نے جو کچھ لکھا اس میں سے ایک جملہ یہ تھا: میں وحید الدین خاں کو عرصہ سے جانتا ہوں ۔ میرا یقین ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایک بار طے کر لیں تو ہمالیہ پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے کھسکا دیں“۔ ماسٹر عبد الحکیم صاحب کا یہ خط مولانا ابو اللیث صاحب کو بھیج دیا گیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے مجھے اجازت دے دی۔ اگر چہ بعد کو خود میری رائے بدل گئی، اور میں پاکستان نہ جا سکا۔ 15 جولائی 1985 دورِ اول کے مسلمانوں کی اٹھان تواضع (modesty) پر ہوئی تھی، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اٹھان فخر (pride) پر ہوئی ہے۔ ایک لفظ میں یہی وہ فرق ہے جس نے دورِ اول کے مسلمانوں اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے درمیان وہ فرق پیدا کر دیا ہے، جس کو آج ہم دیکھ دورِ اول کے مسلمانوں کا آغاز خدا کی دریافت سے ہوا تھا۔ انھوں نے خدا کی عظمت وکبریائی کو اپنے دل و دماغ میں اتارا تھا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سراپا تواضع بن گئے تھے۔ ان کا سینہ ذاتی بڑائی کے احساس سے آخری حد تک خالی تھا۔
اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں دو بیماری اپنے’شاندار‘ ماضی کی دریافت سے ایک، شبلی نے انھیں ”ہیروآنِ اسلام“ کا تعارف کرایا۔ دوسرا، اقبال نے ان کو ماضی کی عظمت کے حصول کے لیے آفاقی بلند پروازی کا درس دیا۔ اسی طرح ہر ایک ماضی کی عظمتوں کو یاد دلا کر ان کے اندر جوش ابھارنے کی کوشش کرتا رہا۔ دورِ اول کے مسلمان ”خدا کی عظمت“ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ”اپنی تاریخ کی عظمت“ کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں۔
سمندر اور اس کی تہہ میں بھی زندگی کے آثار ہیں، زمین کے علاوہ سمندر کی تہہ میں بھی فرقہ وارانہ کشمکش، یہی وہ بنیادی بات ہے جس نے دونوں گروہوں کی سوچ میں فرق پیدا کر دیا ہے۔ کے لوگوں کو خدا کی عظمت کے احساس نے تواضع کا ذہن دیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو تاریخ کی عظمت کے احساس نے فخر کا ذہن دیا ہے۔ تواضع کا ذہن تمام خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کے مقابلہ میں جھوٹا فخر (false pride) تمام خرابیوں کا سر چشمہ۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصلاح کا مقام آغاز یہی ہے کہ ان کے اندر سے جھوٹے فخر کا مزاج ختم کیا جائے اور دوبارہ ان کے اندر تواضع کا مزاج پیدا کیا جائے۔ ہندستان کی وزارت خوراک کے فیصلہ کے تحت یہاں 10 ملین ٹن غلہ بطور بفر خوراک (buffer stock) رکھا جاتا ہے۔ مگر ہندوستان کے اس 10 ملین غلہ کو حفاظت کے ساتھ رکھنے کا چنانچہ غلہ چوری ہوتا ہے، چوہے کھاجاتے ہیں، کیڑے لگتے ہیں، برسات میں سڑ کر بے کار ہو جاتا ہے ، وغیرہ ۔ اس کے خلاف ایک انگریزی اخبار نے مضمون لکھا جس کا عنوان تھا : Cut the system to size یعنی باتوں میں بڑا رکھ کر جتنے انتظام کو سکیں۔ اصل زندگی کے تمام احکام کو کے یعنی اتنا ہی غلہ رکھو جتنا انتظام کر سکتے ہو۔ یہ اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ لفظ بدل کر اس طرح کہا جائے تو وہ اصول ہے—اپنے آپ کو حد واقعی کے اندر رکھو: Cut yourself to size ان دونوں کا مصدروہ ہے اس کا کانتہ توہیں۔ آپ کے منہ کا رخ کم انسان کی اکثر مصیبتیں صرف اس کا نتیجہ ہوتی ہیں کہ آدمی اپنے آپ کو حد واقعی کے اندر نہیں اگر لوگ اس اصول پر عمل کرنے لگیں تو زندگی کے اکثر مسائل اپنے آپ ختم ہوجائیں۔ شاہ محمد اسماعیل دہلوی (1831-1779) نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں لکھا تھا : ’’اس شہنشاہ (باری تعالیٰ) کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو نہیں ہے ، نہ اور بندوں میں ، نہ اور نبیوں میں ، نہ اور ولیوں میں سے ، وہ اتنی شان میں ہے ۔ اتنی بڑائی میں ہے ، اس کا رتبہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے مقابلے میں ، دنیا کی کل مخلوق ، کروڑوں نبی و جن و فرشتے ، جبریل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پیدا کر ڈالے۔
یہ کتاب چھپی تو علما کی ایک فوج اس کے رَدّ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ علامہ فضل حق خیر آبادی (1797-1861) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا امتناع نظر۔ اس میں انھوں نے بتایا کہ مثل محمد ممتنع الوجود (ناممکن) ہے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے بلکہ خاتم الانبیا تھے، اور خاتم الانبیا کا مرتبہ کسی ایک ہی شخص کو مل سکتا ہے۔ اس لیے مثل محمد مقدر حق سبحانہ نہیں ہے۔ لفظوں میں یہ کہ خاتم الانبیا کا مماثل (مانند) پیدا کرنے پر خدا قادر نہیں۔ اس پر مولانا حیدر علی رام پوری نے لکھا کہ ابن عباس کا ایک اثر ہے جس کے مطابق اللہ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں الگ الگ انبیاء ہیں (سَبْعَ أَرْضِيْنَ فِي كُلِّ أَرْضٍ نَبِيٌّ كَنَبِيِّكُمْ) مستدرک الحاکم، اثر نمبر 3822۔ اس اثر سے استناد کر کے انھوں نے کہا کہ اللہ مثل خاتم الانبیا پیدا کرنے پر قادر ہے۔ کیوں کہ جب سات زمینیں ہیں تو سات خاتم الانبیا کی ضرورت ہوئی۔ مرزا غالب (1869-1797) نے ایک اور نکتہ نکالا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ عالم میں تو ایک خاتم الانبیا کے سوادو سر اخاتم الانبیا پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن خدا اس پر قادر ہے کہ ایسا ہی ایک اور عالم پیدا کرے اور اس میں موجودہ عالم کے خاتم الانبیا کی طرح ایک اور خاتم الانبیا مبعوث فرمائے۔ اس طرح کی بحثیں برسہا برس تک جاری رہیں۔ دونوں طرف سے عجیب عجیب دلائل دیے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ زوال میں مسلمانوں کے ذہنی افلاس (intellectual dwarfism) کا حال کیا ہو گیا تھا۔ بے معنی موشگافیوں کو وہ علم سمجھتے تھے اور بے فائدہ بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کو یہ سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں۔ دانیال لطیفی صاحب (پیدائش 1917) سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ (بیرسٹر)ہیں۔ ان کی تعلیم زیادہ تر انگلینڈ میں ہوئی ہے۔ وہ 1928 سے 1939 تک تعلیم کے سلسلہ میں انگلستان میں انھوں نے انگلینڈ سے قانون کی ڈگری لی۔
انھوں نے تعلیم کے زمانے کا ایک واقعہ بتایا۔ ان کے ساتھ ایک انگریز نوجوان تھا، جس
نے آکسفورڈ یونی و رسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔ اس زمانہ میں نیروبی کے لیے اعلیٰ تقررات لندن سے ہوا کرتے تھے۔ نیروبی میں ایک جج کی جگہ خالی ہوئی۔ اس کے لیے مذکورہ نوجوان مسٹر بر سفورڈ نے درخواست دی۔ اس کے بعد لارڈ چانسلر نے اس کو انٹرویو کے لیے بلایا۔ نے مسٹر بر سفورڈ سے صرف ایک سوال کیا اور اس کے بعد ان کا تقرر کر دیا۔ لارڈ چانسلر کے کمرے میں ایک بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس نے نوجوان سے پوچھا، کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس کی تصویر ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ انھوں نے کہا کہ بتاؤ۔ نوجوان نے کہا کہ لار ڈ کک کی۔ لارڈ چانسلر نے کہا کہ تم نے صحیح بتایا۔ اب مجھے امید ہے کہ تم نیروبی میں جسٹس کی حیثیت سے اپنے فرائض کامیابی کے ساتھ انجام دے سکو گے۔
سرارڈ ورڈکک (1634-1552) برطانیہ کی مشہور قانونی شخصیت ہیں۔ ان کا نام انگریزی میں (Coke) لکھا جاتا ہے۔ بظاہر عام آدمی اس کو کوک پڑھے گا۔ مگر انگریز اس کا تلفظ کُک کرتے لارڈ چانسلر نے یہی جاننے کے لیے مذکورہ سوال کیا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ نوجوان لار ڈکک کا صحیح تلفظ کر رہا ہے تو اس نے اس کی بقیہ استعداد کا قیاس کر لیا اور اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس کا تقرر کر دیا۔
بعض چیزیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں۔ مگر وہ کسی بڑی چیز کی علامت ہوتی ہیں۔ اس بنا پر چھوٹی ہونے کے باوجود ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہی اصول تمام معاملات میں ہے۔ خواہ وہ دنیا کا معاملہ ہو یا دین کا معاملہ۔ (83 سال کی عمر میں دانیال لطیفی صاحب کا انتقال 2000 میں ہوا)۔ 19 جولائی 1985 امریکی نژاد برٹش رائٹر اور نقاد لگان پیر سال استھ (Logan Pearsall Smith 1865-1946) کا قول ہے کہ دو چیزیں ہیں جن کو زندگی کا مقصد بنانا چاہیے۔ اول، اس چیز کو حاصل کرنا جس کو تم چاہتے ہو، اس کے بعد اس سے فائدہ اٹھانا۔ انسانوں میں صرف انتہائی عقل مند لوگ ہی دوسری چیز کو حاصل کر پاتے ہیں:
There are two things to aim at in life: first to get what you want; after that to enjoy it. Only the wisest of mankind achieve the second. یہ صورتِ حال کے عین مطابق ہے۔ بیشتر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ رات دن محنت کر کے کسی کسی طرح وہ چیز حاصل کر لیتے ہیں، جو وہ چاہتے ہیں۔ مگر جب اس سے فائدہ اٹھانے (enjoy) کا وقت آتا ہے تو ناکام ثابت ہوتے ہیں۔
طاقت ملنے کے بعد اس سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر غرور نہ دولت ملنے کے بعد اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر سرکشی کا مزاج پیدا نہ ہو۔ علم حاصل کرنے کے بعد اس سے واقعی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر برتری کا مزاج نہ آئے۔ چوں کہ آدمی طاقت اور دولت اور علم کے بعد ان نفسیاتی خرابیوں سے اپنے آپ کو بچا نہیں پاتا، اس لیے وہ ملی ہوئی نعمت کو اپنے لیے حقیقی طور پر مفید نہیں بنا پاتا۔ 20 جولائی 1985 انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کی 30 جلدیں میرے پاس ہیں۔ اس میں ایک دلچسپ چیز یہ نظر آئی کہ متعدد جگہوں پر کسی اندراج کو مٹایا گیا ہے۔ مثلاً جلد 5 صفحہ 557 پر جبریل (Jibril) کا یہاں ایک کالم کا تقریباً نصف حصہ کالے رنگ سے مٹایا گیا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت جبریل کی تصویر تھی جو چھاپنے کے وقت چھاپ دی گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں (عربوں) کے اعتراض کی بنیاد پر مٹا دی گئی۔ مگر ضروری نہیں کہ تمام نسخوں میں اس کو مٹایا گیا ہو۔ عین ممکن ہے کہ صرف ان نسخوں میں مٹایا گیا ہو جو مشرقی ممالک کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا میں اس طرح کے بہت سے صفحات ہیں۔
ایک زندہ اور طاقتور خدا پر یقین کرنا اتنا عجیب ہے کہ ماننے والے بھی اس کو نہیں مانتے اور جاننے والے بھی اس کو نہیں جانتے۔ خدا مکمل طور پر ظاہر نہ ہونے کے باوجود مکمل طور پر چھپا ہوا ہے۔
مدارجِ تخلیق میں یکسر طور پر نمایاں نہ ہو۔ بدیگر الفاظ میں وہ یکسر طور پر پوشیدہ ہے۔ براہِ راست طورپر اس کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں آخری حد تک ناممکن ہے۔ مگر بالواسطہ طور پر اس کا مشاہدہ آخری حد تک یہی واحد وجہ ہے، جس کی بنا پر لوگ شخصیتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ خدا ان کو دکھائی نہیں دیتا، اور شخصیتیں ان کو دکھائی دیتی ہیں۔ مگر انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ شخصیتوں دھاتی ہیں دیتا، اور میں ان کو دھاتی دیتی ہیں۔ مرا انسان کا اصل امتحان یہ ہے وہ کے تقدس کا پردہ پھاڑ کر خدا کو دیکھے۔
مسلم اہل علم نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تقابل پر جو کتابیں لکھی ہیں، ان میں مشترک طور پر چند غلطیاں پائی جاتی ہیں :
(1) انھوں نے مغربی سماج کے چند واقعات کو لے کر اسے generalize کر دیا ہے۔ طرح انھوں نے خاص کو عام بنانے کی غلطی کی ہے۔ اس قسم کی تحریروں کو پڑھ کر مسلمان خوش ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں یہ تسکین ملتی ہے کہ اُن کے دشمن‘‘ کا سماج بہت بُرا سماج مگر ان تحریروں سے خود مغرب کے لوگ کوئی اچھا اثر نہیں لے سکتے۔ (2) دوسری چیز یہ کہ ان تحریروں میں آڈیالوجی کا تقابل پریکٹس (عمل) سے کیا گیا ہے۔ اسلام سے تو نظریات واقدار لی گئی ہیں اور جدید سماج سے ان کا عمل ۔ یہ تقابل درست نہیں۔ تقابل ہمیشہ دو برابر کی چیزوں میں ہوتا ہے۔ یعنی تقابل یا تو آئڈیالوجی سے آئڈیالوجی کا ہونا چاہیے یا پریکٹس سے پریکٹس کا۔
اس قسم کا غیر علمی لٹریچر دعوت کے لیے کبھی مفید نہیں ہوسکتا۔ وہ مسلمانوں میں جھوٹا فخر پیدا کر سکتا ہے۔ مگر وہ دعوتِ عام کے لیے کار آمد نہیں۔
قرآن میں بہت سے پیغمبروں کا ذکر ہے۔ اس کا مقصد اہلِ ایمان کی زندگی کو۔ مثلاً سلیمان علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ ہو سکتا ہے کہ یہاں یہ بات ایک ایسی راہیں برتیں اس واسطے یہ
جنات کو ان کے لیے مسخر کر دیا (الانبیاء، 81-82)۔ یہ چیز بعد کو یہود کے لیے فتنہ بن گئی۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ حضرت سلیمان جو کچھ کرتے تھے، جادو اور عملیات کے زور پر کرتے تھے۔ چنانچہ یہود نے جادو اور عملیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کر دی۔ انھوں نے خدا کے دین کو جادو اور عملیات کا دین بنا کر رکھ دیا (البقرۃ، 2: 102)۔
حضرت مسیح کا اصل کام دعوت تھا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی یک طرفہ طور پر حسن اخلاق کا طریقہ اختیار کرے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو رافت اور رحمت اور اعراض کی زبردست تاکید کی ۔ بعد کو حضرت مسیح کے پیروکار رافت، رحمت اور اعراض کی دعوتی مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس کو اصل مطلوب سمجھ لیا اور اس میں مزید مبالغہ کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اعراض دنیا برائے اخلاق ودعوت کو انھوں نے ترک دنیا بمعنی رہبانیت بنا دیا (الحدید، 57: 27)۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ اپنی زندگی کا ابتدائی نصف سے زیادہ حصہ دعوت پر زور دینے میں صرف کر دیا۔ اس زمانہ میں آپ نے بھی صبر اور اعراض اور ایک طرفہ حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ مگر ہجرت کے بعد قریش کی جارحیت نے آپ کو دفاع پر مجبور کیا۔ اس وقت آپ کے اوپر قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ مدنی زندگی کا بیشتر حصہ جارحانہ کارروائیوں کا دفاع کرنے میں گزرا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اندیشہ تھا کہ آپ کی امت بھی اس معاملہ میں فتنے میں مبتلا جو چیز مشرکین اور کافروں کی جارحیت کے خلاف بطور دفاع فرض کی گئی تھی، اس کو مسلمان خود اپنی جنگ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔ آپ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4403)۔ یعنی میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض، بعض کی گردن مارنے لگے۔ اس طرح کی کثیر حدیثیں ہیں جن میں مسلمانوں کو مطلق طور پر جنگ سے منع کیا گیا ہے۔ خلیفہ سوم کے زمانہ ہی میں مسلمان اس فتنے میں پڑ گئے۔ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین انتباہ کے باوجود آپس میں لڑنا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ جہاد ہے۔ مگر یہ جہاد نہیں بلکہ
بدعت تھی اور یہ بدعت آج تک مسلمانوں میں جاری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی میں اس کو چار سو ہاتھیوں کا یہ چار سو ہاتھی دو ہد (گجرات) کے گھنے جنگلوں سے حاصل کیے گئے تھے۔ مگر آج گجرات کے اس علاقہ میں نہ کہیں گھنے جنگل نظر آتے ہیں، اور نہ ہاتھی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتا رہتا ہے۔ جگہ جہاں آج ”جنگل“ نظر آتا ہے وہاں کل ”میدان“ نظر آنے لگتا ہے۔ جہاں آج ہاتھیوں کے غول گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہاں جب کل سورج نکلتا ہے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ وہاں انسان چل پھر رہے ہیں۔ زمانہ کے اس بدلتے ہوئے روپ میں بے شمار نشانیاں ہیں۔ سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو ان کی گہرائیوں میں جھانکنے کی بصیرت رکھتے ہوں۔ 26 جولائی 1985 ایک صاحب قرآن کا درس دے رہے تھے۔ درمیان میں یہ آیت آئی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ (5:101) ۔ یعنی اے ایمان والو، ایسی باتوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار گزریں۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے پوچھا: جناب، اس آیت میں لفظ اَشْيَاءَ حرف جار (عَنْ) کے بعد آیا ہے۔ عربی قاعدہ کے مطابق یہاں اشیاء پر زیر ہونا چاہیے تھا۔ پھر اُس پر زبر کیوں ہے۔ یعنی وہ مکسور کے بجائے مفتوح کیوں ہے۔ مفسر صاحب نے فوراً جواب دیا: میرے بھائی، یہی تو وہ بات ہے جس سے آیت میں پوچھنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر خود آیت جس سوال سے منع کر رہی ہے وہی سوال آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔
یہ بظاہر ایک جواب ہے۔ مگر جو لوگ عربی زبان اور عربی نحو سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی جواب نہیں۔ اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سے ایک سوال پوچھا جاتا ہے، اور وہ اس
کا ایک جواب دیتا ہے، اور اپنی لا علمی سے وہ سمجھتا ہے کہ جواب ہو گیا۔ حالاں کہ جاننے والوں کے نزدیک وہ جواب نہیں ہوتا۔
ہنری پرین (Henri Pirenne) ایک مغربی مورخ ہے۔ وہ 1862 میں پیدا ہوا، اور 1935 میں اس کی وفات ہوئی۔ ہنری پرین نے باقاعدہ طور پر یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ قدیم دنیا اور جدید دنیا کے درمیان انفصال (essential break) در حقیقت عرب فتوحات کے ذریعہ پیش آیا۔ Encyclopaedia Britannica (1984) Vol. 13, p. 155 ہنری پرین نے اپنی کتاب ہسٹری آف یورپ میں لکھا ہے کہ اسلام نے کرہ ارض کے رخ کو بدل دیا۔ قدیم روایتی نظام کا خاتمہ کر دیا گیا:
It (Islam) had sufficed to change the face of the globe...the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne: A History of Europe, London, 1939, p. 46). 29 جولائی 1985 امریکی صحافی مسٹر نجم من اسٹو لبرگ (1951-1891) کا قول ہے ۔ ایکسپرٹ وہ شخص ہے جو بڑی غلطی کی اصلاح کے لیے چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کر دے: An expert is a man who avoids the small errors as he sweeps on to the grand fallacy. (Benjamin Stolberg)
بینجمن اسٹو لبرگ نے یہ بات ٹیکنیکل ایکسپرٹ کے لیے کہی ہے۔ مگر یہی بات ہر میدانِ عمل کے لیے صحیح ہے۔ آپ خواہ جس شعبہ میں بھی کام کر رہے ہوں، اور جس مقصد کی تکمیل میں بھی لگے ہوئے ہوں، آپ کو یہ اصول اختیار کرنا ہوگا۔ زیادہ بڑے پہلوؤں پر نظر رکھنے کے لیے چھوٹے پہلوؤں کو نظر انداز کرنا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی یہ نہیں کر سکتا کہ وہ بیک وقت چھوٹے پہلوؤں اور بڑے پہلوؤں پر یکساں نظر رکھے۔ آدمی مجبور ہے کہ وہ ایک کی خاطر دوسرے کا نقصان گوارہ کرے۔ وہ بڑا فائدہ
حاصل کرنے کے خاطر چھوٹے فائدوں کو نظر انداز کردے۔ جو شخص چھوٹی چھوٹی چیزوں کا نقصان برداشت نہ کرے، وہ اپنی زندگی میں کسی بڑی چیز کو حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ ایک عربی میگزین میں یہ عبارت نظر سے گزری: دخل اعرابی علی بخیل فوجده يأكل خبزاً وعسلاً فأخفى الخبز في حجره ولم يدعه لتناول الطعام معه، فما كان من الاعرابي الا ان تقدم الى اناء العسل وأخذ يأكل بلا خبز - فقال له البخيل : ان العسل وحده يحرق القلب فأجابه الأعرابي : نعم، ولكن قلبك لا قلبی۔ یعنی ایک دیہاتی آدمی ایک بخیل کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا کہ بخیل روٹی اور شہد کھارہا ہے۔ بخیل نے روٹی کو اپنی گود میں چھپا لیا اور دیہاتی کے لیے نہیں چھوڑا کہ وہ اس کے ساتھ کھاسکے۔ دیہاتی نے یہ کیا کہ وہ شہد کے برتن کی طرف بڑھا اور اس کو روٹی کے بغیر کھانے لگا۔ یہ دیکھ کر بخیل نے اس سے کہا کہ خالی شہد کھانا دل کو دیہاتی نے جواب دیا، ہاں وہ جلاتا ہے، مگر وہ تمھارے دل کو جلاتا ہے، نہ کہ میرے دل کو۔ ممکن ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو بلکہ محض لطیفہ ہو، قدیم زمانہ تمثیلات کا زمانہ تھا۔ لوگ اپنی باتوں کو کہانی کے روپ میں بیان کیا کرتے تھے۔ گمان غالب یہ ہے کہ کسی شخص نے ”بخیل‘‘ کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے یہ قصہ گھڑا اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلا دیا۔
اخلاقی درس کی حد تک یہ بناوٹی قصے درست تھے۔ مگر اس کے بعد اپنے بڑوں کی بڑائی اور بزرگی ظاہر کرنے کے لیے طلسماتی قصے کہانیاں گھڑے جانے لگے۔ یہاں آکر یہ طریقہ سراسر غلط کیوں کہ ان جھوٹے قصوں نے یہ تصور دیا کہ بزرگ ایسے ہوتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان ایسا ہوتا ہی نہیں، اور نہ کوئی بزرگ کسی قسم کی بزرگی اور کرامات کے ساتھ پیدا مگر فرضی تصویر لوگوں کے لیے حقیقی تصویر بن گئی۔
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا
یعنی ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے ، پھر کیا تم سمجھتے نہیں۔ بعض بزرگوں کے متعلق مشہور ہے کہ انھوں نے یہ آیت پڑھی تو ان کے ذہن میں آیا کہ قرآن میں جب اس کا ذکر ہے تو ہمارا بھی ذکر ہونا چاہیے۔ چنانچہ انھوں نے قرآن میں اپنا ذکر تلاش کرنا شروع کیا، اور اپنے حسب حال کوئی آیت ڈھونڈ نکالی۔
اسی اصول کے تحت مجھے بھی یہ خیال ہوا کہ میں قرآن میں اپنا ذکر‘ تلاش کروں۔ کرنے کے بعد قرآن کی جس آیت پر میرا ذہن رُکا وہ یہ تھی: وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (9:102)۔ یعنی کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ امید ہے کہ اللہ ان پر توجہ کرے ۔ بیشک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ قرآن کے نزدیک ہدایت یافتہ گروہ کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ جنھوںنے واقعۃً پورے معنی میں عمل صالح کا ثبوت دیا ہو اور اپنے عمل صالح کی بنا پر وہ نجات کے مستحق قرار پائیں۔ قرآن کے مطابق دوسرے لوگ وہ ہیں، جو پورے معنوں میں عمل صالح کا ثبوت نہ دے البتہ انھوں نے اپنی حیثیت واقعی کا اعتراف کیا ہو۔ جنھوں نے کامل شعور کے ساتھ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو جانا اور کسی تحفظ کے بغیر کھلے طور پر اللہ کے سامنے اس کا اقرار کیا۔ دوسرے لوگ بھی اپنے اقرار و اعتراف کی بنیاد پر اللہ کے یہاں قابل نجات قرار پائیں گے۔ میں اللہ سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے دوسرے گروہ میں شامل کرے۔ میرے پاس عمل‘ کا سرمایہ نہیں ، مگر غالباً میرے پاس اعتراف‘ کا سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا آخری حد تک اعتراف کروں۔ یہی میرا سرمایہ ہے اس کے سوا میرے پاس اور کوئی سرمایہ نہیں۔
انسان کی گمراہی ہر دور میں ایک ہی رہی ہے۔ جو چیز خدا کی قدرت سے ہورہی ہے اس کو
آلودگی، مچھروں کی افزائش، پانی کی قلت اور مختلف بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ غیر خدا کی طرف منسوب کرنا۔ جب بھی انسان ایسا کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس واقعہ کو دیکھ کر انسان پر خدا کی عظمت طاری ہونی چاہیے تھی، اس سے وہ غیر خدا کی عظمت میں گم ہو جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں انسان سورج کو پوجتاتھا۔ اس کی کیا تھی ۔ اس کی یہ وجہ تھی کہ انسان نے سورج سے روشنی اور حرارت نکلتے ہوئے دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ یہ خود سورج ہے جو اپنی طاقت سے روشنی اور حرارت نکال رہا ہے۔ آدمی اگر روشنی اور حرارت کو خدا کی قدرت سے نکلنے والی چیز سمجھا تو وہ خدا کے آگے جھک جاتا۔ مگر جب اس نے روشنی اور حرارت کو خود سورج سے نکلنے والی چیز سمجھتا تو وہ سورج کے آگے جھک گیا۔
اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے معجزے دکھائے۔ یہ معجزے خدا کی قدرت سے تھے مگر بعد کے مسیحیوں نے اس کو خود حضرت مسیح کا اپنا کرشمہ سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جذبات سب سے زیادہ حضرت مسیح سے وابستہ ہو گئے۔ انھوں نے حضرت مسیح کو خدا سمجھ کر ان کی پرستش شروع کر دی۔ یہی معاملہ ایک اور شکل میں پیغمبر اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو فتوحات ہوئیں، وہ پوری انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ انوکھا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ بھی یقینی طور پر خدائی قدرت سے پیش آیا، جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے (التوبہ، 26-9:25)۔ مگر بعد کے مسلمانوں نے اس کو خود اپنے پیغمبر کا کرشمہ سمجھ لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں میں خدا کی بڑائی کا احساس گھٹ گیا اور اپنے پیغمبر کی بڑائی کا احساس ہر چیز سے زیادہ چھا گیا۔ ہزار سال کے اندر مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کی عظمت پر بے شمار کتابیں نظم و نثر میں لکھی ہیں، مگر خدا کی بارہا ماں کے دودھ کی برتری پر کتاب چھپ نہ سکی۔
عظمت پر ایک ہزار سال کے اندر وہ ایک بھی قابل ذکر کتاب تیار نہ کر سکے ۔
فرنچ رائٹر اور فلاسفر ژاں پال سارترے(1905-1980 Jean-Paul Sartre) کا ایک قول ہے کہ تشدد صرف ان لوگوں کے لیے موزوں ہے، جو کھونے کے لیے کچھ نہ رکھتے ہوں :
یہ ایک نہایت حکیمانہ بات ہے۔ جب بھی ایک شخص تشدد کرتا ہے تو لازماً اس کو نقصان اٹھانا حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ اس نے اپنے حریف کے مقابلہ میں لڑائی جیت لی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص پر تشدد کیا گیا ہے، وہ کوئی پتھر نہیں ہے، بلکہ انسان ہے، اور انسان ہمیشہ رد عمل (reaction) ظاہر کرتا ہے۔ زیر تشدد آدمی تشدد کے جواب میں وہ سب کچھ کرتا ہے، جو اس کے بس میں ہو۔ اگر وہ طاقت ور ہے تو وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں براہ راست وار کرتا ہے، اور اگر وہ طاقت ور نہیں ہے تب بھی کمینہ پن کا راستہ ہر ایک کے لیے کھلا ہوا طاقت ور آدمی جو کچھ کھلے طور پر کر سکتا ہے وہی کمزور آدمی بھی کر سکتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ وہ جو کچھ کرتا ہے چھپے طور پر کرتا ہے۔
ایسی حالت میں تشدد صرف اس شخص کے لیے مفید ہے، جس کے پاس پھوس کا چھپر بھی نہ ہو، جس میں اس کا حریف رات کے وقت آکر آگ لگا سکے۔ اس کی جیب میں چند روپے بھی نہ ہوں، جس کو کوئی اس سے چھین سکے۔ زندگی کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی فریق ثانی سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی تعمیر کرے۔ حتیٰ کہ فریق ثانی شرارت کرے تب بھی وہ اس کو نظر انداز کرے۔ تشدد کے نقصانات سے وہی شخص بچ سکتا ہے، جو اعراض کی حکمت کو جانتا ہو۔