15 اگست 1985
Al-Risala, March 2021, pp. 46–47
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹش ہسٹورین جی ایم ٹریولیان (1876-1962, George Macaulay Trevelyan) نے کہا کہ تعلیم نے ایسے بہت سے لوگ پیدا کر دیے ہیں جو پڑھ سکیں ۔ مگر تعلیم ایسے لوگ پیدا نہ کرسکی، جو یہ فرق کر سکیں کہ کیا چیز پڑھنے کے قابل ہے، اور کیا چیز پڑھنے کے قابل نہیں : Education has produced a vast population able to read, but unable to distinguish what is worth reading. تعلیم ایک وسیلہ ہے، جو آدمی کو پڑھنے کے قابل بناتا ہے۔ مگر آدمی کیا چیز پڑھے، اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔ اگر اس کے مزاج میں سنجیدگی ہے تو وہ سنجیدہ لٹریچر پڑھے گا اور اگر اس کے
مزاج میں سطحیت ہے تو وہ سطحی چیزوں کو پڑھ کر اپنے ذوق کی تسکین حاصل کرے گا۔ انسان کو تعلیم یافتہ بنانا اصل کام نہیں، انسان کو انسان بنانا اصل کام ہے۔ تعلیم یقیناً ایک انسان کو کیا بنا نا اس کا کام ہے انسان کو انسان بنانا اس کا کام ہے ذریعہ ہے، مگر تعلیم بجائے خود مقصد نہیں۔
مری میں رنگوں کے تہوار میں شرکت کرنے کے لیے اگر آپ کے کٹاگ میں میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تجربہ یہ ہے کہ لوگوں کی ڈگریوں اور لوگوں کی معلومات میں تو اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر ان کے فکر و شعور میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ میں جب کسی آدمی سے لمبے عرصہ کے بعد ملتا ہوں تو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مدت میں اس نے کئی مزید ڈگریاں لے مگر جب اس سے گفتگو کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ فکر و شعور کے اعتبار سے اب بھی وہ اسی مقام پر ہے جہاں وہ پہلے تھا۔
اس موضوع پر میں نے بہت سوچا کہ آخر شعوری ارتقانہ ہونے کی وجہ کیا ہے۔ سمجھ میں آیا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ اپنے خلاف نہ سوچنا ہے، جس کو دینی اصطلاح میں احتساب کہا گیا ہے۔ تقریباً ہر ایک کا حال میں یہ پاتا ہوں کہ جیسے ہی کوئی ایسی بات کہی گئی ہو، جو اس کے اپنے خلاف ہو تو وہ فوراً ناراض ہو جاتا ہے۔ جو بات اپنے خلاف ہو، اس پر وہ معتدل انداز سے سوچ میرے اندر خدا کے فضل سے بچپن سے یہ صلاحیت ہے کہ میں اپنے خلاف سوچتا ہوں۔ میرے خلاف کوئی بات کہی جائے تو میں کبھی اس پر برہم نہیں ہوتا۔ اور اگر بالفرض کبھی میرے اندر برہمی پیدا ہو جائے تو چند منٹ یا چند گھنٹوں کے اندر میں دوبارہ معتدل ہو کر اس پر غور کرنے
مگر عجیب بات ہے کہ اپنی پوری زندگی میں مجھے کوئی ایسا شخص یاد نہیں جو اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ہر آدمی جو مجھے ملا وہ اپنے موافق سوچنے کا ماہر ملا۔ اقبال کا مرد مومن ان کی تشریح کے مطابق سلف تھنکر ہوتا ہے۔ مگر میں اس کو سطحی بات سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک زیادہ گہری بات یہ ہے کہ آدمی اینٹی سلف تھنکر (anti-self thinker) ہو ۔