هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
Al-Risala, January 2021, pp. 16–37
By Maulana Wahiduddin Khan
اس نے اس پتھر کو مسجد کے پاس زمین میں گاڑ دیا۔ اس کے بعد ایک روز زور شور کے ساتھ اعلان کیا کہ یہاں ایک پتھر گڑا ہوا ملا ہے۔ ہندو جمع ہوئے۔ انھوں نے دیکھا کہ واقعی زمین سے ایک پتھر برآمد ہوا ہے، اور اس پر مذکورہ عبارت لکھی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہندو خاموش ہوگئے
اور مسلمانوں نے وہاں باقاعدہ مسجد تعمیر کرلی۔
ہند و جب کہیں مندر بنانے والے ہوتے ہیں تو وہاں ان کا ایک بھگوان پر کٹ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی اپنی مسجد کے حق میں ایک پتھر کو پرکٹ کرلیا۔ مذکورہ حالات میں اس تدبیر کو درست سمجھتا ہوں۔ مگر مسلمان جس تدبیر کو خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں، وہی تدبیر اگر دوسرے لوگ کریں تو انھیں اس پر شور وغل نہیں کرنا چاہیے۔
1981 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ہنگامے ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے اندر پولیس بلائی گئی۔ اس وقت ہندوستان کی مسلم قیادت نے زبردست جوش وخروش کا مظاہرہ کیا۔ 29 اگست 1981 کو ایک معروف مسلم ادارے کی جانب سے مسلم یونیورسٹی کنونشن ہوا۔ بچوں کا گھر دہلی میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ادارے کی ترجمان میگزین نے لکھا: ”یونیورسٹی کے ذمہ داران یونیورسٹی کے مسائل کو جیل اور گولی اور رسوا کن بیانات سے کیوں طے کرنا چاہتے ہیں۔ معقولیت اور گفتگو کا طریقہ کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ ادارے نے مسلم یونیورسٹی کنونشن اس لیے بلایا ہے تا کہ یونیورسٹی کے معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا جائے اور یونیورسٹی کی فضا خوش گوار ہو سکے“ (28 اگست، 1981)۔ جب دوسروں کا احتساب کرنا ہو تو تمام مسلم لیڈر یہی زبان بولتے ہیں، مگر خود اپنا احتساب کرنا ہو تو وہ اس کے بالکل خلاف عمل کرتے ہیں۔ آج ہر مسلم ادارے کا یہ حال ہے کہ اس کو جس سے اختلاف ہو جائے اس کے بارے میں بقدراستطاعت وہ ”گولی“ اور ”رسوا کن بیانات“ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مگر دوسروں سے اپنے لیے وہ اس سے مختلف رویے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس قسم کے مطالبات بلاشبہ جھوٹے مطالبات ہیں، اور جھوٹے مطالبات کی موجودہ دنیا میں کوئی قیمت نہیں۔ ٹھیک سات سال پہلے 6 فروری 1979 کو میں نے حسب ذیل سطریں لکھی تھیں: مکہ میں
جب خدا کے دشمنوں نے خدا کے رسول کو گھر سے بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا تو خدا نے اپنے رسول کے لیے دوسرا زیادہ بڑا دروازہ کھول دیا۔ اس نے مدینہ کو اسلامی دعوت کا مرکز بنا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص سنت ہے۔ وہ ایک کو حق کا راستہ روکنے کا مجرم ثابت کر کے دوسرے کو حق کا استقبال کرنے کا اعزاز دیتا ہے۔ وہ ایک کو ڈسکریڈٹ (discredit) کرکے دوسرے کو کریڈٹ (credit) عطا فرماتا ہے (6 فروری، 1979)۔
یہ سطریں میں نے ایک مسلم ادارے میں رہتے ہوئے لکھی تھیں، جب کہ ادارے والے مجھ کو بے گھر کرنے اور میرے مشن کو برباد کرنے کے لیے اپنی آخری کوشش کر رہے تھے، اور میں بظاہر بے بس ہوا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے راستہ کھولا۔ آج میں دوبارہ یہ سطریں نظام الدین کے اسلامی مرکز میں لکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا معجزہ دکھایا۔ الرسالہ بھی خدا کے فضل سے زندہ رہا اور میں بھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کی شخصیت اپنے ماحول سے سراسر غیر متاثر نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے زمانے میں عرب میں شاعری کا بہت زور تھا۔ شعر گوئی کو اس وقت سب سے بڑا کمال سمجھا جاتا تھا۔ وہی شخص قوم میں نمایاں ہوتا تھا جو شعر کی زبان میں اپنی بات کہہ سکے۔
مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں شعر و شاعری کا مطلق کوئی اثر نہیں۔ زمانے کے ادبی رواج سے اس قدر غیر متاثر رہنے کی کوئی دوسری مثال غالباً تاریخ میں نہیں ملے آپ کی زندگی کا یہ غیر معمولی پہلو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ ایک غیر معمولی انسان تھے، آپ خدا کے پیغمبر تھے۔
ایک مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بہت دنوں سے صابن بنانے کا تجربہ کر رہے
انھوں نے بتایا کہ صابن کا اصل جزء تیل ہے۔ صابن میں پوسٹک سوڈا بھی استعمال ہوتا ہے۔ مگر اس کا خاص کام یہ ہے کہ وہ تیل کو جما دے۔ کسی بھی نباتاتی تیل سے صابن تیار ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمان اپنے گھر میں صابن نہیں حالاں کہ صابن بنانا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ شب برات کا حلوہ بنانا۔ اس کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے گھر میں صابن بناتے ہیں۔ کہا کہ نہیں۔ انھوں نے کچھ عذر بیان کیے جس کی وجہ سے وہ اپنے گھر میں صابن بنانے کا کام نہیں مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ مسلمان اپنے گھر میں صابن نہیں بناتے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اپنے گھروں میں صابن بنانے کا مشورہ وہ لوگ دے رہے ہیں، جو خود اپنے گھروں میں صابن بنانے کا کام نہیں کرتے۔
مولانا محمد شا کر صاحب (دہلی) نے بتایا کہ ایک شخص پر کسی جرم میں مقدمہ چلا اور اس کو قید کی سزا ہو گئی۔ اس نے جیل خانے سے ایک بزرگ کے یہاں پیغام بھیجا کہ میں جیل میں بند ہو گیا کوئی ایسا عمل بتائیے کہ اس سے رہائی ہو جائے۔ بزرگ نے اس کو بتایا کہ تم یہ پڑھا کرو: آج کل پرسوں ہزار بار بگوید قفل در زنداں بکشاید اس نے اس جملہ کا ورد شروع کیا اور اسی کے بعد اس کو جیل خانے سے رہائی مل گئی۔ مسلمان بہت بڑی تعداد میں اسی قسم کے طلسماتی اعمال کے فریب میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ دین جو توہمات کو ختم کرنے کے لیے آیا تھا، اس کے ماننے والے خود توہمات میں مبتلا ہو کر رہ مزید یہ کہ انھوں نے تو ہمات کو اسلامائز (Islamize) کر لیا۔ انھوں نے کچھ اسلامی الفاظ بول کر اس کو اسلامی بنا لیا۔
بشیر احمد راشد الامینی (پیدائش 1942) 1970 میں حج کرنے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ
مدینہ میں انھوں نے ایک نقشہ خریدا، جس میں مسجد وغیرہ کی تصویریں تھیں۔ انھوں نے اس کو پھیری والے سے لیا تھا۔ پھیری والے نے بتایا تھا کہ اس میں دس تصویریں ہیں۔ مگر انھوں نے گھر پر جاکر دیکھا تو صرف آٹھ تصویریں تھی ۔ وہ دوبارہ پھیری والے کے پاس شکایت کرنے کے پھیری والے نے کہا ہم کیا کریں ہم تو ہول سیلر سے خریدتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھ کو ہول سیلر کے پاس لے چلو ۔ کافی جھگڑا کے بعد وہ راضی ہوا۔ ہول سیلر کے پاس پہنچے تو وہ بھی جھگڑا بشیر صاحب نے اس کے سامنے ایک آیت پڑھی: فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ (4:59) - یعنی پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔ آیت سن کر عرب دکان دار فوراً چپ ہو گیا۔
اسلام ایک ایسے برتر خدا کا تصور دیتا ہے جو سب سے بلند ہے۔ کسی سماج میں خدا کا تصور زندہ ہو تو یہ اس سماج کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے بعد ایک شخص کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر کسی کو چپ کر سکے۔ وہ خدا کا واسطہ دے کر کسی ظالم کو ظلم سے باز رکھے۔ بزرگیوں کی بزرگی ثابت کرنے کے لیے کس طرح جھوٹے قصے گھڑے جاتے ہیں، اس کی ایک دلچسپ مثال ذیل کا قصہ ہے:
مولانا قاسم نانوتوی کے بارے میں یہ قصہ مشہور ہے کہ مولانا نانوتوی دار العلوم دیوبند میں دار العلوم کی طرف سے ان کو دس روپیہ ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔ نواب صدیق حسن خاں (بھوپال) نے ان کو لکھا کہ آپ دیو بند سے بھوپال آجائیں ۔ یہاں آپ کو 300روپئے ماہوار پیش کیے جائیں گے ۔ مولانا نانوتوی نے ان کو جواب میں لکھا : ”میں یہاں مدرسہ میں دس روپیے ماہوار تنخواہ پاتا ہوں ۔ 5روپیے میں بچوں کا خرچ چل جاتا ہے، اور بقیہ پانچ روپیہ کا مصرف ہر ماہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں بھوپال آجاؤں تو مجھ کو ہر ماہ 295 روپیہ کا مصرف تلاش کرنا ہوگا۔ زحمت اٹھانا میرے لیے مشکل ہے“۔
اس سلسلے میں مولانا محمد عبد الحق (انچارج دفتر دار العلوم دیو بند) کا ایک مضمون الجمعیۃ4 جنوری 1975 میں چھپا ہے۔ انھوں نے اس قصہ کو سراسر بے بنیاد بتایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی نے اپنی ساری عمر کبھی دار العلوم دیو بند سے کوئی تنخواہ ہی نہیں لی (ملاحظہ ہو، سوانح قاسمی جلد اول، صفحہ 536)۔
جب مولانا نانوتوی دار العلوم دیو بند سے سرے سے کچھ تنخواہ ہی نہیں لیتے تھے تو ان کے بارے میں مذکورہ قصہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔
میں نے ایک خانقاہ میں چند دن گزارے۔ یہاں میں نے دیکھا کہ لوگ زور و شور کے ساتھ ذکر بالجہر کر رہے ہیں۔ میں نے وہاں کے ایک عالم دین سے کہا یہ ذکر بالجہر جس کی گونج ہر خانقاہ میں سنائی دیتی ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قرآن کے نص صریح کے خلاف ہے۔ قرآن میں آیا ہے: وَاذْكُرُ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ (7:205)_ یعنی اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں، عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے یہاں اس قسم کے ذکر کی کوئی مثال اس زمانے میں مطلق اس کا رواج نہیں تھا کہ لوگ بیٹھ کر بلند آواز سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار کر رہے ہوں۔
انھوں نے جواب دیا۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی روحانیت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ جو آپ کو دیکھتا تھا وہ ایمان کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیتا تھا۔ مگر بعد کے دور میں جب یہ چیز باقی نہ رہی تو بزرگوں نے ذکر بالجہر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس سے دل پر ضرب لگائی جاتی ہے اور دل کو پاک صاف کیا جاتا ہے۔ ’’ بزرگوں‘‘ کی طرف سے اس قسم کا جواب دیا جانا اور مریدوں کا نہایت وفاداری کے ساتھ اس کو محفوظ کر لینا ظاہر کرتا ہے کہ مسلم قوم میں دینی فکر کی سطح آج کتنی پست ہو چکی ہے۔ کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ عبادت کے لیے یہ امر مسلم ہے کہ یہ اجتہاد کے دائرے سے
باہر کی چیز ہے۔ یعنی اس کا تعین صرف خدا کر سکتا ہے۔ انسان اس کی صورت متعین نہیں کر سکتا۔ مذکورہ بالا سوال پر غور کیجیے تو منطقی طور پر یہ جواب پہنچاتا ہے وہ یہ کہ ”ہم پیغمبر نہیں بن سکتے تھے، اس لیے ہم نے خدا کی نشست پر قبضہ کر لیا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام بلا شبہ خدا کے پیغمبر تھے مگر آپ کا تذکرہ عیسائیوں کی مقدس کتاب کے باہر کہیں موجود نہیں۔ اس بنا پر بہت سے اہل علم حضرات، مسیح کو غیر تاریخی شخصیت قرار دیتے ہیں۔ شخص کے تاریخی شخص ہونے کا ایک معیار یہ ہے کہ اس کا ذکر معاصر تاریخ (contemporary history) میں موجود ہو۔ چنانچہ عیسائی علما نے بے شمار کوشش کی کہ وہ حضرت مسیح کی معاصر تاریخ میں آپ کا تذکرہ حاصل کر سکیں مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت مسیح کے بارے میں غیر مذہبی ریکارڈ (secular records) پیغمبر عیسیٰ کے زمانے کی غیر مسیحی تحریروں میں براہِ راست ان کا کوئی ذکر نہیں۔ بے پناہ تلاش کے بعد موجودہ زمانے میں بعض بالواسطہ حوالے معلوم کیے گئے ہیں۔ مثلاً بعد کے کچھ یہودی ربی کی تحریروں میں اس قسم کے جملے دریافت کیے گئے ہیں___ فلسطین میں ایک جادوگر کا ظہور ہوا تھا تاہم یہ تحریر بھی پہلی صدی عیسوی کی ہے یعنی حضرت مسیح کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد کی۔ ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون مصافحہ کے شرعی طریقہ کے بارے میں ہے۔ ”احادیث نبوی“ کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا تاہم ایک ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ ایک حنفی عالم کا مضمون دوسری طرف اہل حدیث علما یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا افضل ہے، اور ان کے پاس بھی حدیث موجود ہے۔
اس طرح کے امور میں افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑنا سراسر خلاف سنت ہے۔
معاملے میں بھی ایک سے زیادہ طریقہ حدیثوں میں موجود ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں یعنی یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست ہے۔ ایسے تمام امور میں دونوں ثابت شدہ طریقوں کو درست قرار دینا چاہیے، نہ کہ ایک کو افضل اور دوسرے کو غیر افضل ثابت کیا جائے۔ اسی لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ میں یہ پسند نہیں کرتا ہوں کہ اصحابِ رسول اختلاف نہ کرتے۔ کیوں کہ اگر صرف ایک قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ وہ لوگ نمونہ تھے۔ کی اقتدا کی جاتی ہے، اگر کوئی آدمی ان میں سے کسی کے بھی قول کو اختیار کر لے تو وہ آسانی میں ہے (مَا أُحِبُّ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْتَلِفُوا؛ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ قَوْلًا وَاحِدًا كَانَ النَّاسُ فِي ضِيقٍ وَإِنَّهُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِهِمْ وَلَوْ أَخَذَ رَجُلٌ بِقَوْلِ أَحَدِهِمْ كَانَ فِي سَعَة) جامع بیان العلم وفضلہ، اثر نمبر 1689۔
بعد کے لوگوں میں جو فقہی اختلافات ہوئے ان سب کا ابتدائی سبب صحابہ کے یہاں موجود تھا۔ مگر فرق یہ ہے کہ صحابہ کا ذہن ان اختلافات میں یہ تھا کہ یہ بھی درست ہے اور وہ بھی درست۔ مگر بعد کے لوگوں نے یہ بدعت کی کہ ان اختلافات میں افضل اور غیر افضل تلاش کرنے لگے۔ بس یہیں سے شدت پیدا ہوئی، اور اختلاف آخر کار نا اتفاقی بن گیا۔ اختلافی امور میں توسع کا ذہن ہو تو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ مگر جب افضل اور غیر افضل کی بحث چھیڑ دی جائے تو وہیں سے تباہ کن اختلاف کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے سابق وزیرِ اعظم مسٹر مرار جی ڈیسائی یورپ اور امریکا کے بارہ روزہ سرکاری دورہ کے بعد 17 جون 1978 کو نئی دہلی واپس آئے۔ پالَم ائرپورٹ پر جب وہ اپنے ہوائی جہاز سے باہر آئے تو مرکزی وزیر صحت مسٹر راج نرائن نے وزیرِ اعظم کا استقبال کرتے ہوئے ان کو عطر لگایا۔ مرار جی نے کہا: ’’یہاں تو آپ مجھے عطر کی خوشبو سنگھار ہے ہیں لیکن میری غیر حاضری میں آپ کی کرتوتوں کی بدبو آتی تھی۔ مسٹر راج نرائن نے جواب دیا ’’نہیں نہیں مرار جی بھائی، یہ غلط ہے۔ ہندستان ٹائمس18 جون 1978، صفحہ 1
یہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے جس میں ان لوگوں کی تصویر نظر آتی ہے، جوجنتا پارٹی کے نام سے حکومت میں آئے تھے۔ 1977 میں جنتا پارٹی کا حکومت میں آنا بالکل جوار بھاٹا کا معاملہ تھا۔ تیزی سے گورنمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئی اور پھر دو سال بعد تیزی سے باہر نکل گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنتا پارٹی دراصل مخالف کانگریس عناصر کا دوسرا نام تھی۔ جو لوگ کسی مخالفانہ نعرے کی بند پر اکٹھا ہوں ان کے اجتماع و اتحاد پر ایک نادان آدمی ہی خوش ہو سکتا ہے۔ اس طرح اکٹھا ہونے والے لوگ ہمیشہ نہایت سطحی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اگر اقتدار پر قبضہ پالیں تب بھی کوئی مثبت کام نہیں کر سکتے۔ وہ جتنی تیزی سے جمع ہوتے ہیں اتنی ہی تیزی سے دوبارہ منتشر ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کے جھوٹے اتحاد کا تماشہ مسلمانوں میں بھی کثرت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر الکس کیرل (1943-1873) نے لکھا ہے کہ گیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جا سکتی ہے، ان ثانوی صفات سے الگ کر دیا جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ کیفیت سے جدا کر دیا گیا:
Galileo, as is well known, distinguished the primary qualities of things, dimensions and weight, which are easily measurable, from their secondary qualities, form, colour, odour, which cannot be measured. The quantitative was separated from the qualitative. The quantitative, expressed in mathematical language, brought science to humanity. The qualitative was neglected. (Man, the Unknown, New York, 1939, p. 278)
قرآن میں سورہ الذاریات کی ایک آیت یہ ہے: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے آسمان کو بنایا یا ہاتھ سے اور ہم
یقینا پھیلانے والے ہیں۔
قدیم مترجمین کی سمجھ میں پھیلانے والے کی معنویت نہ آسکی، اس لیے انھوں نے لَمُوسِعُونَ کا ترجمہ حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے: وہر آئینہ ما تو انائیم۔
اور ہم کو سب مقدور ہے۔
اور ہم وسیع القدرت ہیں۔
اور بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔ اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور ہم یقیناً بڑی طاقت والے ہیں۔ اور ہم ہی صاحب قدرت ہیں۔ خالص لفظی اعتبار سے یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ لفظی ترجمہ یہ ہے: "ہم کشادہ کرنے والے ہیں" یا "ہم پھیلانے والے ہیں۔ ترجمہ کے اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانے میں لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ انسانی علم کی محدودیت اس کو نہ پاسکی۔ مگر قرآن کے مصنف کو یہ حقیقت اس وقت بھی معلوم تھی کہ جب کہ ساری دنیا میں کوئی ایک شخص بھی اس کو نہیں جانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اس حقیقت کی رعایت کرتے ہوئے موسعون (ہم پھیلانے والے ہیں) کے لفظ کا انتخاب فرمایا۔ قرآن میں اس طرح کے کثیر شواهد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن عالم الغیب کا کلام ہے، محدود ذہن رکھنے والا انسان ایسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔
لوگوں نے وہی ترجمہ کیا ہے، جو میں اس سے پہلے نقل کر چکا ہوں۔ میرے علم کے مطابق، اس میں صرف کچھ مترجمین کا استثنا ہے۔
شاہ رفیع الدین صاحب (1818-1750) کے متعلق معلوم ہے کہ وہ خالص لفظی ترجمہ حتی کہ وہ اس کا بھی لحاظ نہیں کرتے کہ ان کے الفاظ پڑھنے والا سمجھ سکے گا یا نہیں۔ کے لفظی ترجمہ پر کچھ لوگ ہنستے ہیں، مگر حقیقت ہے کہ اس لفظی ترجمہ کی وجہ سے اکثر وہ ایسی غلطی سے بچ جاتے ہیں، جو دوسرے مترجمین سے ہوئیں۔ شاہ رفیع الدین صاحب نے مذکورہ آیت کا جو ترجمہ کیا ہے وہ ان کے الفاظ میں یہ ہے:
"اور آسمان کو بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے اور تحقیق ہم البتہ کشادہ کرنے والے ہیں" (مطبوعہ: مجمع البحوث العلمیہ الاسلامیہ، نئی دہلی، صفحات 24-623)
یہ چھوٹی سی مثال ایک بہت بڑی حقیقت کو بتاتی ہے۔ یہ حقیقت کہ خدا کے کلام کی اطاعت خالص تقلیدی انداز سے ہونی چاہیے۔ خدا کے کلام سے اگر ایک حکم واضح طور پر نکل رہا ہو تو ہم کو چاہیے کہ ہم بالکل مقلدانہ انداز میں اس پر چل پڑیں۔ عین ممکن ہے کہ مستقبل یہ بتائے کہ خدا کے اس حکم میں بہت بڑا خیر تھا جو بظاہر ہماری عقل میں نہیں آتا تھا۔
شاہ رفیع الدین صاحب نے یقیناً یہ ترجمہ جدید فلکیاتی فہم کے ساتھ نہیں کیا کیوں کہ توسیع کائنات کا نظریہ (expanding universe theory) ان کے زمانے میں دریافت ہی نہ ہوا یقینی طور پر انھوں نے یہ ترجمہ خالص تقلیدی ذہن کے تحت کیا، مگر ان کی تقلید عظیم الشان اجتہاد جو چیز ماضی میں بظاہر نا قابل فہم تھی، جب مستقبل کے پردے ہٹے تو معلوم ہوا کہ وہی سب سے زیادہ قابل فہم بات ہے۔ آج جدید معلومات سامنے آنے کے بعد شاہ رفیع الدین صاحب ہی کا ترجمہ صحیح نظر آتا ہے جب کہ قدیم زمانے میں وہ غیر صحیح دکھائی دیتا تھا۔ شریتی سہد را جوشی (پیدائش 1919) نے فورمن کرسچین کالج لاہور سے سیاسیات میں ایم
وہ بچپن سے ملکی سیاست میں دلچسپی لیتی رہی ہیں۔ 1947ء کے بعد فرقہ پرستی کے خلاف کام کرنے والوں میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ ماہنامہ شبستان (جون 1972) کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا:
1947ء کے ہنگامہ میں ہم دہلی کے مسلم محلوں میں کام کر رہے تھے۔ دلی کانگریس پر ہمارا گاندھی جی آئے انھوں نے ہم سے پوچھا، کتنے مسلمان مارے گئے۔ ہم نے بتایا کہ دس ہزار سے زیادہ مارے گئے ہیں۔ وہ بہت برہم ہوئے اور کہا کہ تم نے بچانے کی کوشش کیوں نہیں ہم نے کہا ہم تو برابر کوشش کر رہے ہیں، مگر حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ انھوں نے غصے میں پوچھا ان دس ہزار میں تمھارے کانگریس ورکر کتنے مارے گئے۔ ہم نے جواب دیا، ایک بھی اس پر وہ بولے : پھر میں کیسے مان لوں کہ تم نے بچانے کی کوشش کی ہوگی۔ سہد را جوشی کی رپورٹ کے بعد گاندھی جی کا ایک جواب یہ ہوسکتا تھا " کوشش اپنا کام ہے، کامیابی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ تم اپنی کوشش جاری رکھو۔ مگر یہ جواب نہیں۔ جو لوگ اپنے ماتحتوں کو اس قسم کے جواب دیں وہ زندگی کی حقیقتوں سے بالکل ناواقف ہیں۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔ جامع مسجد دہلی میں ایک دن دو جلسے ہوئے۔ دونوں جلسے جامع مسجد کے قریبی پارک میں تھے۔ دونوں کی تاریخ ایک تھی۔ صرف اتنا فرق تھا کہ ایک جلسہ مغرب سے پہلے ہوا، اور دوسرا جلسہ مغرب کے بعد۔
ایک جلسے کو جماعت اسلامی اور مجلس مشاورت وغیرہ کی جانب سے کیا گیا تھا، اور دوسرے جلسے کو جمعیۃ علماء اور قوم پرست مسلمانوں نے۔ ایک حلقے کے لوگ ایک جلسے میں گئے اور دوسرے حلقے کے لوگ دوسرے جلسے میں۔
میں اتفاق سے دونوں جلسوں میں شریک ہوا۔ دونوں جلسوں کا خلاصہ یہ تھا کہ انھوں نے
نئی دہلی کے عرب سفیروں کو دعوت دی۔ کچھ سفیر ایک جلسہ کول گئے، اور کچھ سفیر دوسرے جلسہ کو۔ اس کے بعد دونوں طرف کے مقررین نے پرجوش تقریریں کیں۔ آخر میں دونوں جلسوں میں عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا گیا اے عربو! متحد ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کرو۔ دونوں جلسوں میں شرکت کے بعد جب میں گھر کی طرف واپس ہوا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری زبان سے نکلا ہم متحد ہو کر مشورہ بھی نہیں کر سکتے ہیں، مگر دوسروں کو مشورہ دینے کے لیے جلسے کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر مقابلہ کریں۔
جماعت اسلامی کے لوگوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی پر ایک کتاب چھاپی ہے جس کا نام ہے ”ایک شخص ایک کارواں“۔ اس کے مرتب جناب مجیب الرحمن شامی ہیں۔ اس کتاب میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی صدر ایوب سے ملاقات کا ذکر ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ صدر ایوب نے اپنی ملاقات میں کہا ”مولانا صاحب، آپ کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ واقعی آپ نے دین کی بہت خدمت کی ہے۔ مولانا صاحب میری ایک تجویز آپ جیسی بڑی علمی شخصیت کو اپنی عمدہ صلاحیتیں سیاست میں ضائع کرنے کے بجائے ان سے قومی تعمیر کا کوئی ٹھوس کام لینا چاہیے۔ اس غرض کے لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم ملک کے اندر ایک شاندار اسلامی یونیورسٹی قائم کریں۔ آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ یہ یونیورسٹی میں نے بھاول پور میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے ابتدائی سرمایے کے طور پر رواں بجٹ میں دو کروڑ روپیہ کی رقم مختص کردی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس یونیورسٹی میں بہترین استادوں اور عمدہ انتظامات کے ذریعے خالص دینی علوم اس طرح پڑھائے جائیں کہ اس یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبہ دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سنبھالیں ۔ اس یونیورسٹی کی سربراہی کے لیے آپ کا نام میرے ذہن میں آیا ہے۔ کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ آپ سیاست کے جھنجھٹ سے الگ ہو کر اس کام کا بیڑا اٹھائیں، جو آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کے مطابق آپ کا اصل کام ہے۔ میں یہ بیان کر دوں کہ یونیورسٹی
کے لیے ہم نے دو کروڑ روپیہ کا جو ابتدائی فنڈ مختص کیا ہے، وہ رقم اور حکومت کی طرف سے اس کے بعد ملنے والی تمام گرانٹ سب پر آپ کو اپنی صوابدید کے مطابق مکمل تصرف کا اختیار ہوگا۔ اور آپ کو قانوناً آڈٹ وغیرہ کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا۔ ‘‘ (ایک شخص ایک کارواں، نئی دہلی، 1981ء، صفحہ 100)
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ پاکستان میں ان کی اختیار کردہ سیاست کا قدرتی نتیجہ تھا۔ جو لوگ سیاسی اپوزیشن میں انوالو (involve) ہوں، ان کو مذکورہ قسم کے تعمیری کام کام نہیں لگتے ہیں۔ حالاں کہ اصل کام یہی ہے کہ انسان اپنی کوششوں کو سیاسی ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائے، اور وہ اپنے آپ کو پوری طرح سماجی تعمیر کے کام میں لگا دے۔
ڈاک سے ایک لفافہ موصول ہوا۔ اس میں ایک دینی ادارے کے ہفت روزہ میگزین کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی تھی۔ یہ مضمون ادارے کے بانی کے بارے میں ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: چراغ عالم اسلام تھے اس عنوان کے نیچے جو مضمون ہے وہ گویا نثر میں شاعری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مضمون نگار نے نعت کے تمام شاندار الفاظ بانی ادارے کی قصیدہ خوانی میں صرف کر دیے ہیں۔ اس مضمون کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ میری وفات کے بعد جو لوگ میری تعریف میں اس قسم کے قصیدے لکھیں گے، وہ میرے جھوٹے ماننے والے ہوں گے۔ میرے حقیقی ماننے والے وہ ہیں، جو میرے مشن کو لے کر آگے بڑھیں، جو میرے اس دنیا سے جانے کے بعد اس دینی جدوجہد کے لیے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو جائیں۔
میرا کام اللہ کے سچے دین کا اعلان و اظہار ہے۔ میری ساری دلچسپی صرف اس بات سے ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کی جائے۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت کو آج کے انسانوں تک پہنچایا
جائے، لوگوں کو آنے والے ہولناک دن سے ہوشیار کیا جائے ۔ میرے بعد جو لوگ میرے اس مشن کے لیے سرگرم ہوں وہی میرے سچے ساتھی ہیں۔ اور جو لوگ نظم و نثر میں میری تعریف کریں، ان سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی راہ الگ ہے اور میری راہ الگ۔
علمی حدود کیا ہے۔ اس کو ذیل کے واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ علما کے ایک گروہ کا ماننا ہے کہ فاسق امیر کے ساتھ جہاد کرنا جائز ہے۔ اس کی مختلف دلیلوں میں سے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری (وفات 52 ھ) جو ایک جلیل القدر صحابی تھے، انھوں نے یزید بن معاویہ (وفات 64 ھ) کے ساتھ جہاد کیا۔ اس سلسلے میں فقیہ ابو بکر جصاص (وفات 370 ھ) نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خلفاء راشدین کے بعد فاسق امراء کے ساتھ جنگ کرتے تھے، اور ابو ایوب انصاری نے یزید لعین کے ساتھ جنگ کی (وَقَدْ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْزُونَ بَعْدَ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ مَعَ الْأُمَرَاءِ الْفُسَّاقِ وَغَزَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ مَعَ يَزِيدَ اللَّعِين)۔ احکام القرآن للجصاص، جلد 4، صفحہ 319 یزید کو لعین کہنا بذات خود قابل اعتراض ہے۔ کسی شخص کو ملعون قرار دینے کے لیے شرعی دلیل درکار ہے، اور یقیناً ایسی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں، جو صراحتاً یزید کی ملعونیت کا اعلان کرتی ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ یزید کو جو لوگ بطور خود ملعون کہتے ہیں، وہ اس کی ملعونیت کو کربلا (61ھ) کے واقعے سے اخذ کرتے ہیں۔ مگر حضرت ابو ایوب انصاری نے یزید کی ماتحتی میں جو غزوہ کیا تھا، وہ کربلا سے بہت پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ قسطنطنیہ کا غزوہ تھا، جو امیر معاویہ کے زمانے میں 49ھ میں پیش آیا، جب کہ یزید ابھی خلیفہ بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر کیا وہ خلافت اور کربلا سے پہلے ہی ملعون تھا، کیا وہ ماں کے پیٹ سے ملعون پیدا ہوا تھا۔
ہمارے علما میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو علمی حدود کے پابند رہ کر بولتے ہوں۔ و جدید لٹریچر غیر علمی بیانات سے بھرا ہوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ وہاں آپ تقریباً 13 سال مکہ والوں نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو ہلاکت کے درپے عین اسی وقت مکی دور کے آخری زمانے میں قرآن میں سورہ یوسف اتری۔ اس میں بتایا گیا کہ یوسف کے بھائی یوسف کے دشمن ہو گئے۔ انھوں نے ان کو ختم کرنے کے لیے ایک سنسان مقام پر لے جا کر ان کو اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ یہاں تاجروں نے ان کو کنویں سے نکالا، اور ان کو لے جا کر مصر پہنچا دیا۔ وہاں ان کے لیے اعلیٰ ترقی کی نئی راہیں کھلیں۔ ایک اسوء القصص احسن القصص میں تبدیل ہو گیا۔
مکی دور کے آخر میں اس سورہ کا اترنا اس بات کا اشارہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ خدا کی مدد سے یہی معاملہ پیش آئے گا۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مکہ والوں نے آپ کو ہلاک کرنے کے غار میں ڈالنا چاہا مگر عین اسی وقت مدینہ میں آپ کے قدرداں پیدا ہو گئے۔ آپ ان کی دعوت پر مکہ سے مدینہ پہنچ گئے اور وہاں آپ نے اسلام کی نئی تاریخ بنائی۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا میرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ معاملہ پیش آنے والا ہے۔ 1956 سے 1962 تک جماعت اسلامی کے مرکزی شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ تھا۔ بعد 1963 سے 1966 تک مجلس تحقیقات ونشریات اسلام (ندوة العلماء) لکھنو سے وابستہ رہا۔ دونوں جگہ یہ صورت پیش آئی کہ وہ لوگ میری تنقیدوں سے برہم ہو گئے۔ میرا غیر مصالحانہ انداز ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا۔ چنانچہ دونوں جگہ سے علیحدگی عمل میں آئی۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء کی دعوت پر میں 1967 میں دلی آیا، اور جمعیۃ علما ہند کے ہفت روزہ اخبار الجمعیۃ سے وابستہ رہا۔ یہاں بھی ابتدائی چند سالوں کے بعد اختلافات پیدا ہو گئے۔ یہاں تک کہ 1974 میں انھوں نے مجھ کو الگ کر دیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے دلی کے مرکزی شہر میں ٹھہرانے کا انتظام کیا اور ایسے اسباب
پیدا کیے کہ 1976 میں الرساله جاری ہوا۔ اور اب خدا کے فضل سے اسلامی مرکز کی صورت میں اس نے ایک مستقل ادارے کی شکل اختیار کرلی ہے اور لوگوں کی مخالفتوں کے باوجود وہ دن بدن ترقی شاید تاریخ دوبارہ یہ منظر دیکھنے والی ہے ۔ ایک اُسوءُ الالقصص خدا کی مدد سے احسن قصص میں تبدیل ہوگیا۔
موجودہ زمانے کے مسلم قائدین کا معاملہ نہایت عجیب ہے۔ وہ بیک وقت نہایت کامیاب تھے، اور اسی کے ساتھ نہایت ناکام بھی۔ مثلاً 1952 میں مصر کی اخوان المسلمون جنرل محمد نجیب (1901-1984) اور جمال عبدالناصر حسین (1970-1918) کے ساتھ مل کر مصر سے شاہ فاروق (1920-1965) کو معزول کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوئے۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے مصر کے الیکشن میں حصہ لیا تو وہ بالکل ناکام ہو گئے۔ جماعت اسلامی پاکستان جنرل ایوب خان (1907-1974) اور ذوالفقار علی بھٹو (1979-1928) کی حکومت ختم کرنے میں نہایت مگر جب وہ لوگ الیکشن کے میدان میں آئے تو وہ کامیاب نہ ہو سکے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جب شاہ فاروق یا ایوب اور بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اُٹھتا ہے تو وہ اکیلا نہیں ہوتا۔ پوری اپوزیشن اور تمام مخالف حکومت عناصر اس کے ساتھ شریک حکومت کے خلاف مہم میں آدمی کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین اینٹی حکومت مہم میں کامیاب رہے ۔ اس کے بعد جب یہ لوگ ملک میں خود اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے اُٹھے تو اس وقت وہ تنہا تھے۔ اس دوسری مہم میں انھیں اپنی تنہا قوت سے کامیاب ہونا تھا۔ چوں کہ ان کی تنہا قوت بہت کم تھی اس لیے وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اینٹی حکومت مہم میں جو مقبولیت حاصل ہوتی ہے، وہ بلاشبہ جھوٹی مقبولیت ہے۔ اس قسم کی مہم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض شخصی لیڈری ہے، نہ کہ کوئی واقعی کام۔ اینٹی حکومت مہم میں فوراً مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے، اس لیے لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے مقابلے
میں مثبت مہم میں عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کا میدان سونا پڑا ہوا ہے۔ میں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے یہ شکایت کی کہ الرسالہ میں سلف پر یز (self-praise) ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی مثال دیجیے۔ انھوں نے الرسالہ میں شائع شدہ ایک خط کا ذکر کیا جس میں الرسالہ کے زبان و بیان پر پسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ سلف پر یز کا مطلب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنی تعریف آپ کرنا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جس خط کا حوالہ دیا ہے، وہ دوسرے شخص کا خط ہے پھر یہ اپنی تعریف آپ کرنا کیسے ہوا۔ اسی مجلس میں انھوں نے اپنے گھر کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ گھر کے اخراجات پہلے میں خود کرتا تھا مگر میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ سے زیادہ خرچ ہو جاتا ہے اس لیے میں نے یہ کام اپنی بیوی کے حوالے کر دیا۔ وہ، ماشاء اللہ، نہایت احتیاط سے خرچ کرتی ہیں۔ اب ہمارے گھر کا ماہانہ خرچ پہلے سے کم ہو گیا ہے، اور پس انداز کی جانے والی رقم کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ آدمی بھی کیسا عجیب ہے۔ ایک معاملے میں اس کا رویہ کچھ ہے، اور دوسرے معاملے میں اس کا رویہ کچھ دوسرا۔ وہ اپنے پیسے کو خرچ کرنے کے معاملے میں نہایت کفایت شعار ہے مگر اپنے الفاظ کو خرچ کرنے کے معاملے میں نہایت فیاض۔ مذکورہ بزرگ الرسالہ پر تبصرہ کرنے کے لیے اپنے الفاظ کے ذخیرے کو بے حساب خرچ کر رہے ہیں، مگر وہی بزرگ اپنے جیب کے پیسہ کو خرچ کرنے کے معاملے میں حد درجہ محتاط اور کفایت شعار نے ہوئے ہیں۔ رقم کو سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں، اور اپنے الفاظ کو سوچے بغیر۔
ڈاکٹر انوار احمد (کو ہنڈہ، اعظم گڑھ) کے ایک خط کے جواب میں لکھا:
آپ کا خط مورخہ 27 مارچ ملا۔ حالات سے آگاہی ہوئی۔ مومن اس چیز میں جیتا ہے، جو اس
کے اپنے پاس ہے، نہ کہ اس چیز میں جو دوسروں کے پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کبھی خالی یا محروم نہیں ہوتا۔ اگر دعوت کے مواقع نہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو دعامیں مشغول کرلیتا ہے۔ اس کو نظر انداز کریں تو وہ خدا کو اپنا ولی بنالیتا ہے۔
مومن خود ایک کامل وجود ہے۔ اس لیے اس کے واسطے نہ کبھی محرومی کا سوال پیدا ہوتا ہے، اور نہ کبھی بے کاری کا۔ آپ کے مخالفین آپ کو لاؤڈ اسپیکر پر بولنے نہیں دے رہے ہیں تو آپ دل کے خاموش تاروں پر حق کا نغمہ چھیڑیے۔ آپ کو انسانوں میں اگر ایسے لوگ نہیں مل رہے ہیں، جو آپ کی بات پر دھیان دیں تو آپ خدا کے فرشتوں سے سرگوشی شروع کردیجیے۔ انسانی آبادیوں میں اگر آپ کو اپنے ہم نوا نہیں مل رہے ہیں تو آپ قبرستان کے سناٹے میں اپنا ہم نشین تلاش کرلیجیے۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (1979-1903) کی ایک کتاب ہے جس کا نام تنقیحات ہے۔ موصوف کے مضامین کا مجموعہ ہے، جو پہلی بار 1939 میں شائع کیا گیا تھا۔ اس کتاب کے ایک مضمون کا عنوان ہے لارڈ لو تھین کا خطبہ“۔ لارڈ لو تھین (1940-1882) ایک انگریز تھے۔ 1938 میں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں کانوکیشن ایڈریس دیا۔ مذکورہ مضمون میں اس ایڈریس کے کچھ حصے اردو میں ترجمہ کر کے نقل کیے گئے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار اس مضمون کو پڑھا تو مجھے لارڈ لو تھین کے اس خطبے سے بڑی دلچسپی ہوئی۔ کیوں کہ اس میں بتایا گیا تھا کہ جدید یورپ میں اسلام کی تبلیغ کے زبردست امکانات ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے یورپ جائیں، اور اس امکان کو استعمال کریں۔
دلچسپی کی بنا پر میں نے چاہا کہ اس خطبے کو اصل انگریزی زبان میں حاصل کر کے پڑھوں۔ چنانچہ میں علی گڑھ گیا اور وہاں کی یونی ورسٹی لائبریری میں اس کو تلاش کیا۔ مگر یونی ورسٹی کے کتابی ذخیرہ میں یہ خطبہ موجود نہ تھا۔ بالآخر میں سرسید روم میں گیا کہ شاید وہاں مل جائے مگر وہاں بھی نہیں ملا۔
سرسید روم کے ذمہ دار نے بتایا کہ اس خطبے کی اصل کی ہمیں بھی تلاش تھی۔ ہم نے یونیورسٹی کے ہر شعبے میں اس کو ڈھونڈ اگرمعلوم ہوا کہ وہ یونیورسٹی کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ مجھے یونی ورسٹی کی اس بے انتظامی پر بے حد افسوس ہوا۔ تاہم اس سے میں نے ایک سبق وہ یہ کہ جب میں اپنے اردو مضامین میں انگریزی یا کسی دوسری زبان کا کوئی اقتباس نقل کروں تو اس کے ترجمے کے ساتھ اس کا ضروری حصہ بھی اصل زبان میں نقل کردوں۔ چنانچہ الرسالہ کے اکثر مضامین میں میں نے وہی انداز اختیار کیا ہے۔
ایک عرب پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی جو عربی کتابیں یا مضامین میں نے پڑھے ہیں، ان میں الاسلام - تحدی (اردو ورژن مذہب اور جدید چیلنج) فائق ہے، باقی سب اس کے تحت ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے مشن کا اصل اظہار الاسلام - تحدی میں نہیں ہوا ہے، بلکہ دوسری کتابوں میں ہوا ہے۔ الاسلام - تحدی صرف اس مشن کی اعتباریت (credibility) ثابت کرنے کے لیے ہے، وہ خود مشن کا تعارف نہیں۔
میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے لاٹھی کو سانپ بنا دیا۔ اب کوئی شخص کہے کہ حضرت موسیٰ نے نبوت ملنے کے بعد جو کچھ پیش کیا، ان میں عصا کا معجزہ سب پر فائق ہے، تو رات اس کے تحت ہے، تو یہ صحیح نہیں۔ کیوں کہ آپ کی دعوت میں تو رات اصل ہے اور عصا کا معجزہ ایک ضمنی (relative) حیثیت رکھتا ہے۔
الاسلام - تحدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہمارے مشن کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے ہے، نہ کہ خود یہی ہمارا مشن ہے۔ مولانا عبدالباری ندوی (1976-1886) اس طرح کی چیزوں کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ ”رکانہ کی کشتی“ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکانہ ( بن عبد یزید) پہلوان نے چیلنج کیا اور آپ نے کشتی لڑکر اس کو ہرا دیا (الاصابة فی تمييز الصحابة لابن حجر العسقلانی، جلد 2، صفحہ 413)۔ مگر رکانہ کی کشتی بظاہر ایک نمایاں واقعہ ہونے کے باوجود آپ کے
مشن کا اصل یا اس کا فوق (central aspect) نہیں۔ وہ آپ کے مشن کی ایک ضمنی ضرورت ہے، نہ کہ خود وہی آپ کا مشن ہے۔
حقیقتِ واقعہ کو نہ ماننا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ واقعہ اپنی جگہ پر بدستور باقی رہے، اور آدمی خود واقعات کی دنیا سے بہت دور ہو جائے ۔ روس میں 1917 میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو امریکا نے سولہ سال تک اس کو تسلیم نہیں کیا۔ مگر اس کا کوئی فائدہ امریکہ کو نہ مل سکا۔ کلائڈ سینگر (Clyde Sanger) نے لکھا ہے کہ امریکا کو سوویت یونین کے تسلیم کرنے میں سولہ سال لگ گئے۔ اسٹالن کو یہ موقع ملا کہ وہ روسی عوام کے درمیان مغربی دنیا کے خلاف نفرت پیدا کرے اور ان کے گرد آہنی پردہ کھڑا کر سکے :
It took the United States 16 years to recognize the Soviet کلائڈ سینگر نے مزید لکھا ہے کہ اگر اس زمین پر شیطان کی ایک سلطنت ہوتی تو وہ اپنے نوجوان لوگوں میں سے ایک بہترین شخص کو اس کا سفیر نامزد کرتا تا کہ وہ اس کے اوپر پوری نظر رکھ سکے۔ کلائڈ سینگر کا یہ تبصرہ نہایت سخت ہے۔ میں پسند نہیں کروں گا کہ میں ایسا سخت تبصرہ کروں۔ تاہم میری پوری زندگی کا مطالعہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی کی سب سے اہم شرط حقیقتِ واقعہ کا اعتراف ہے۔ جو شخص اپنے اندر یہ حوصلہ رکھتا ہو کہ وہ حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف، وہی موجودہ دنیا میں کامیاب ہوگا۔ اور جو شخص حقیقتِ واقعہ کے اعتراف پر راضی نہ ہو اس کو اس سے زیادہ بُرے چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، اور وہ یہ کہ وہ کبھی اپنی منزل کو نہ پہنچ سکے۔
ڈاکٹر جان ڈُن (Dr. John Donne) سترھویں صدی عیسوی کا ایک ممتاز انگریزی شاعر
وہ 1572 میں پیدا ہوا اور 1631 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی قبر لندن میں ہے۔ انگریزی شاعری کا ایک دبستان فکر ہے، جس کو مابعد الطبیعاتی اسکول (Metaphysical school of poetry) کہا جاتا ہے۔ جان ڈن اسی دبستان فکر کا ممتاز شاعر شمار کیا جاتا ہے۔ صوفیانہ مزاج کا آدمی تھا۔ اس کا ایک شعر ہے: