Al-Risala · April 2021

کوئی مصیبت ، مصیبت نہیں

Al-Risala, April 2021, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

غزوہ احد 3ھ میں پیش آیا۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ غزوہ احد کے ذیل میں کتابوں میں بہت سے واقعات آئے ہیں ، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے : مَرَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي دِيْنَارٍ ، وَقَدْ أُصِيبَ زَوْجُهَا وَأَخُوهَا وَأَبُوهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُحُدٍ، فَلَمَّا نُعُوا لَهَا، قَالَتْ: فَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ قَالُوا: خَيْرًا يَا أُمَّ فُلَانٍ، هُوَ بِحَمْدِ اللهِ كَمَا تُحِبِّينَ، قَالَتْ: أُرُونِيهِ حَتَّى أَنْظُرَ قَالَ: فَأُشِيرَ لَهَا إِلَيْهِ، حَتَّى إِذَا رَأَتْهُ قَالَتْ: كُلُّ مُصِيبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلٌ ! ہشام، جلد 2، صفحہ 99)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے قبیلہ بنو دینار کی ایک عورت کے پاس سے گزرے، جس کے شوہر اور بھائی، اور باپ احد کے دن رسول اللہ کی طرف سے قتل ہو گئے جب اس عورت کو ان لوگوں کے موت کی خبر پہنچی تو اس نے کہا: رسول اللہ کا کیا ہوا۔ نے کہا کہ الحمدللہ، وہ اچھے ہیں اے ام فلاں، جیسا کہ تم پسند کرتی ہو۔ اس عورت نے کہا: مجھے دکھاؤ، تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں۔ لوگوں نے اس عورت کو آپ کی طرف اشارہ کیا، یہاں تک کہ اس نے آپ کو دیکھا، اور کہا: آپ کے بعد ہر مصیبت چھوٹی ہے۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ کسی مصیبت کو بڑا درجہ نہ دے۔ کی زندگی میں کچھ مصیبتیں پیش آئیں تو اس کو دیکھنا چاہیے کہ وہ مصیبت چھوٹی ہے یا بڑی، یعنی اس کی مصیبت کریپلنگ (crippling) ہے یا نان کریپلنگ (non-crippling)۔ اگر وہ کریپلنگ مصیبت سے بچا ہوا ہے، اور اس کو صرف نان کریپلنگ مصیبت پیش آئی ہے تو اس کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور آہ و واویلا چھوڑ دینا چاہیے ۔

اس دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ یہی واحد فارمولا ہے، جس کے ذریعے کوئی شخص اپنے کو بچا سکتا ہے، اور زندگی کو اپنے لیے قابل برداشت بنا سکتا ہے۔

قرآن میں زوجین کے تعلق سے ایک نصیحت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (19: 4)۔ ان کے ساتھ اچھی طرح رہو، اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔

یہ رہنمائی صرف زوجین کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ یہ زندگی کا اصول ہے۔ کیسے ایسا ہوتا ہے کہ ایک واقعہ جو انسان کے لیے ناپسندیدہ واقعہ ہو، وہ اس کے لیے خیر کثیر کا ذریعہ بن جائے۔ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے، جو مسائل کو اگنور کر کے مواقع کو اوویل کرنا جانتے ہوں۔ آیت میں یہ بات ازدواجی پارٹنر کے بارے میں کہی گئی ہے۔ یعنی لائف پارٹنر کے ناپسندیدہ پہلو کو اگنور کر کے اس کے پسندیدہ پہلو کو تاویل کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آدمی کی شادی ہو، اور اس کو ناپسندیدہ یا مس میچ لائف پارٹنر مل جائے تو وہ اس کے لیے خیر کثیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

وہ اس طرح کہ خواہ میچنگ پارٹنر ہوں یا مس میچ پارٹنر دونوں اللہ کی تخلیق ہیں۔ اگر آدمی کو مس میچ لائف پارٹنر مل جائے، اور وہ اس کو رضائے الہی سمجھ کر دل سے قبول کرلے تو اللہ اس کے لیے ایک ایسے خیر کثیر کا فیصلہ کر دیتا ہے، جو کسی میچنگ پارٹنر سے بھی زیادہ اہم ہو۔ خدا کے پاس میچنگ پارٹنر سے بہت زیادہ عظیم خیر کی صورتیں ہیں۔ مفسر القرطبی نے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ابو محمد بن ابی زید دین، علم اور معرفت میں بڑا مرتبہ رکھتے تھے۔ لیکن ان کی بیوی بڑی بد سلوک تھی، اور بد زبان بھی۔ صاحب سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت دی، اپنی معرفت دی، اور میرے اوپر دوسری دنیوی نعمتیں مکمل کی ہیں۔ ہو سکتا شاید میرے کسی گناہ کی سزا اس صورت میں دی گئی ہو، مجھے اندیشہ ہے کہ میں اس کو جدا کروں تو مجھ پر اس سے سخت سزا اور عقوبت روات میں نازل ہوئی اور مدنیہ میں ہے، اور بعض روشوں پر نازل ہو (تفسیر القرطبی، جلد 5، صفحه 98) ۔

Printed page