Al-Risala · April 2021

شاک ٹریٹمنٹ

Al-Risala, April 2021, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کا نظام اس طرح بنا ہے کہ آدمی کو ہمیشہ طرح طرح کے صدمات (shocks) پیش آتے ہیں (البقرۃ، 155)۔ یہ صدمات بظاہر منفی ہوتے ہیں، لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ مثبت سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ انسان کی سرگرمیوں کو صحیح رخ (right direction) دیتے ہیں۔ برٹش سائنسداں آئزک نیوٹن (1727-1642) سیب کے باغ میں ایک پیڑ کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ اس دوران اوپر سے سیب کا ایک پھل گرا، اور نیوٹن کے سر سے ٹکرا بظاہر یہ تکلیف کا واقعہ تھا۔ لیکن اس واقعہ نے نیوٹن کو سوچنے پر مجبور کیا کہ سیب نیچے کیوں گرا، وہ اوپر کیوں نہیں گیا۔ اس سوچ نے نیوٹن کو اس دریافت تک پہنچایا کہ زمین میں قوت کشش (gravitational pull) ہے، جو بے شمار پہلوؤں سے انسان کے لیے نفع بخش ہے۔ کے گرنے کے اس واقعہ کو ایک نام دینا ہو تو یہ ہوگا - ایپل شاک (apple shock)۔ اس طرح انسان کے ساتھ جو سبق آموز واقعات پیش آتے ہیں، وہ کسی نہ کسی صدمہ کے ذریعہ پیش آتے ہیں۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ انسان کو صدمات کے ذریعہ سبق آموز تجربہ کرایا یہ طریق کار بظاہر تکلیف کا طریقہ ہے، لیکن وہ انسان کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثال کے لیے یہاں اس قسم کے چند عمومی تجربات کا ذکر کیا

(1) فلڈ شاک (flood shock) (2) بھونچال شاک (quake shock)

(3) ڈیتھ شاک (death shock) (4) اولڈ ایج شاک (old age shock)

(5) کووڈ 19 شاک (covid-19 shock)، وغیرہ۔

یہ تجربات انسان کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ اس دنیا کا ماسٹر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اس کو متواضع (modest) انسان بن کر رہنا چاہیے تا کہ وہ ان تجربات سے سبق حاصل کرنے والا بنے۔

Printed page