Al-Risala · April 2021

حقیقتِ انسانی کی دریافت

Al-Risala, April 2021, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک ضعیف بچہ کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ ضعف انسان کی اصل حالت کو بتاتا ہے، یعنی انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے عاجز مطلق (all-powerless) لیکن اس دور ضعف میں انسان کو زندہ شعور حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے بچپن کے دور میں انسان اپنی حالت ضعف (powerlessness) کو شعوری طور پر دریافت نہیں کر پاتا۔ اس کے بعد انسان کے اوپر جوانی کا دور آتا ہے۔ جوانی کے دور میں انسان کو شعور کی قوت حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن اس وقت وہ اپنے شعور کو استعمال نہیں کر پاتا کہ وہ اپنے عجز کو دریافت کر سکے۔ اس لیے زندہ شعور کے باوجود وہ حالتِ ضعف سے بے خبر رہتا ہے۔ یہ صرف بڑھاپے کا دور ہے، جب کہ انسان اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ حالت ضعف کا ادراک کر سکے۔

بڑھاپے کی عمر کیا ہے۔ ایک لفظ میں بڑھاپا عجز (powerlessness) کا تجربہ ہے۔ بڑھاپا کئی پہلوؤں سے زندگی کا ایک سخت ترین مرحلہ ہے۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ آدمی طبعی زندگی کے آخری ایام میں ہوتا ہے، اور موت سے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ دوسری وجہ، تیزی کے ساتھ جسمانی قوت کا جاتے رہنا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی بڑھاپے کا دور انسان کی زندگی کا سب سے زیادہ قیمتی دور ہے۔ یہ دور کسی انسان کے لیے اس کی اصل حقیقت کا جبری ادراک ہے۔ سے پہلے انسان اپنے پہلے دو ادوار (بچپن اور جوانی) کو پانے کے باوجود غفلت کی وجہ سے کھو چکا ہوتا اس لیے کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے دور طفولیت (childhood) یا اپنے دور جوانی میں اپنی حقیقت واقعی کا ادراک کر سکے۔

انسان کا خالق یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو جانے۔ وہ اسی ادراک کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے ۔ لیکن ہر انسان یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ اپنے بچپن اور اپنی جوانی کے دور میں اپنی حقیقت واقعی کو دریافت کرنے سے بے خبر رہتا ہے۔ اس لیے خالق کی یہ منشا ہوتی ہے کہ وہ

بڑھاپے کے دور میں انسان کو عجز کا احساس دلائے ، یعنی یہ کہ وہ اللہ رب العالمین کے مقابلے میں ایک عاجز مخلوق ہے ۔ اس کے لیے اس زمین پر صحیح روش صرف یہ ہے کہ وہ اپنے عجز کو جانے، اور احساس عجز کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ بوڑھے انسانوں کا گویا یہ مشن ہے کہ وہ غیر بوڑھوں کو اس حقیقت انسانی سے باخبر کرے۔

اللہ رب العالمین کی دریافت کے بعد انسان کے لیے سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اپنے عجز کو دریافت کرے ۔ حقیقت انسانی کی دریافت اپنی عجز کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔ انسان اپنی حقیقت کو دریافت کرتا ہے، جو اپنے عجز کو دریافت کر سکے۔ قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں، جن کی منشا یہ ہے کہ انسان کو حقیقت کی دریافت کرائی جائے (الفتح، 48:11)۔ یہ حقیقت کہ انسان عاجز مطلق ہے، اور خداوند رب العالمین قادر مطلق (all-powerful )۔ اسی حقیقت کا شعوری ادراک معرفت (realization) کی اصل ہے۔

معرفت کی اصل حقیقت عجز ہے۔ کوئی انسان جب خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے تو وہ یہ دریافت کرتا ہے کہ انسان خدا کے مقابلے میں عاجز مطلق ہے۔ اس وقت وہ قدرتِ خداوندی کے مقابلے میں عجزِ انسانی کی دوسری حد (extent) بناتا ہے۔ یہی دریافت معرفت کا نقطۂ انتہا عبدیت کی اسی دریافت پر کسی کے لیے جنت کا تحقق ہوتا ہے۔ اس دریافت سے محروم رہ جائے، اس کے لیے اندیشہ ہے کہ وہ جنت سے بھی محروم رہ جائے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ انسان بچپن اور جوانی کے ابتدائی ادوار سے گزر کر بڑھاپے کی عمر کو پہنچے ۔ خالق نے مقدر کیا ہے کہ جو لوگ بڑھاپے کے دور تک پہنچیں، وہ جاننے والے کی حیثیت سے ان لوگوں کے معلم بن جائیں، جو زندگی کے اس آخری دور تک ابھی نہیں وہ ان لوگوں کو باخبر کریں، جو اس حقیقت کو جاننے سے محروم رہے۔ یہ تیسرے دور تک پہنچنے والے لوگ گویا انسانیت کے معلم ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو اس حقیقت سے باخبر کریں، جو زندگی کے اس آخری دور تک نہیں پہنچ سکے۔

Printed page