Al-Risala · April 2021

ری ایکشن، رسپانس

Al-Risala, April 2021, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر کوئی آدمی کسی کی غلطی بتائے، یا اس کی تنقید کرے، تو عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس پر لوگ ری ایکٹ (react) کرتے ہیں، وہ اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا وہ اس کو غلط ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے معاملے میں ری ایکشن کا طریقہ بہت زیادہ عام مگر اس قسم کے معاملے میں یہ ری ایکشن کا طریقہ صحیح نہیں۔

صحیح رویہ یہ ہے کہ آدمی اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے سوچنا شروع کر دے۔ والے کی بات کو ایک قابل غور مسئلہ کے طور پر لے، نہ کہ محض اعتراض کے طور پر۔ جو آدمی آپ کی کسی بات پر تنقید کرتا ہے، وہ آپ کو سوچنے کا ایک پوائنٹ دیتا ہے۔ وہ آپ کو یہ موقع دیتا ہے کہ آپ اس کی بات پر غور و فكر کریں، اور پھر اپنی معلومات میں اضافہ کریں۔ آپ اس کو تجربہ (experience) کے خانے میں ڈالیں۔ آپ اس کی بات کو ایک حریف کی بات نہ سمجھیں، بلکہ سادہ طور پر ایک انسان کی بات سمجھیں۔ آپ اس کی بات سے کچھ سیکھ (learning) لینے کی

دوسرے کی بات کو اگر آپ مثبت (positive) طور پر لیں، تو اس سے آپ کو غور و فکر کا ایک میدان ملے گا، وہ آپ کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بن اس کے برعکس، اگر آپ اس کی بات کو منفی (negative) انداز سے لیں تو آپ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ آپ کے ذہن میں سوچنے کا عمل جاری نہیں ہوگا۔ زندگی ایک سفر ہے، زندگی کو ایک مثبت تجربہ (positive experience) بنائیے۔ آپ ہر ایک سے کچھ سیکھنے کی کوشش کیجیے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر ایک سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے تھے (كان يتعلم من كل احد)۔ ایسا صرف اس وقت ہو سکتا ہے، جب کہ آپ مثبت ذہن کے ساتھ جینے کا آرٹ سیکھ لیں۔

Printed page