Al-Risala · April 2021

چلینج کا مقابلہ

Al-Risala, April 2021, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں کوئی انسان اکیلا نہیں ہے۔ بلکہ یہاں بہت سے انسان آباد ہیں۔ ہر ایک کا نشانہ ہر ایک کی سوچ مختلف ہے۔ ہر ایک آزاد ہے کہ وہ اپنے لیے جس منزل کا چاہے انتخاب زندگی کی اس نوعیت نے انسانی سماج کو ایک ایسی دنیا بنا دیا ہے، جہاں مسابقت اور چیلنج کا ایک سمندر ہے۔ یہاں مسلسل طور پر افراد اور قوموں کے درمیان مسابقت (competition) جاری رہتی ہے۔ ہر آدمی مجبور ہے کہ وہ اس سمندر کو پار کر کے اپنے آپ کو ساحل تک پہنچائے۔ اس راز کو نہ جانے، وہ اس سمندر میں عملاً غرق ہو جائے گا۔ اس کو زندگی کے تجربے سے شکایت کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔ البتہ جو آدمی زندگی کی اس نوعیت کو جانے، اور اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی کی مطلوب پلانگ کر سکے، وہ ضرور کامیابی کے ساحل تک پہنچے گا۔ کوئی روکننے والا نہیں ہے۔ اس کے برعکس، شکایت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی درست پلاننگ میں ناکام رہا۔

زندگی کے بارے میں یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کے لیے جو چوائس ہے، وہ دوسروں سے لڑنا نہیں ہے، بلکہ دوسروں سے ایڈجسٹ کرتے ہوئے اپنے معاملات کو مینج (manage) کرنا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی مطابق واقعہ منصوبہ بندی ( reality based planning) کا نام ہے، اور ناکامی یہ ہے کہ آدمی مطابق واقعہ منصوبہ بندی میں فیل ہو جائے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ پرامن انداز میں پیش آمدہ چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے سفر طے وہ مواقع (opportunities) کو دریافت کرکے منصوبہ بند انداز میں ان کو اویل (avail) کرنے کی کوشش کرے۔ زندگی ناکامی کے واقعات کے ایک تسلسل کا نام ہے۔ کامیاب وہ ہے، جو اپنی ناکامی کو اپنی کامیابی میں کنورٹ (convert) کر سکے۔ یہ زندگی کا سب سے بڑا راز ہے۔ کامیاب وہ ہے، جو اس راز کو جانے، اور اس کو جانتے ہوئے اپنی زندگی کی پلاننگ کر سکے۔

Printed page