Al-Risala · April 2021

عافیت کا راز

Al-Risala, April 2021, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

پر عافیت زندگی کا راز صرف ایک ہے — آدمی حقیقت پسند (realist) بن جائے۔ معاملے میں یہی ایک وکیل فارمولا (workable formula) ہے، دوسرا کوئی فارمولا اور کھیل آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ زندگی کے معاملے میں کچھ امیدیں قائم کر لیتا ہے، کبھی دنیا سے اور کبھی اپنے تعلق والوں سے اور کبھی سماج سے۔ یہ امیدیں پوری نہیں ہوتیں۔ جب یہ امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو وہ اپنے اندر شکایت کا مزاج بنا لیتا ہے۔ یہ معاملہ حقیقت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ ہمارے یہاں ایک بزرگ تھے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بل تو اپنا بل۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی زندگی کا حقیقت پسندانہ فارمولا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اپنی طاقت سے جو کچھ کر سکے اس پر جو چیز اس کی ذاتی طاقت سے باہر ہو، اس پر اپنی دیوار کھڑی نہ کرے۔ کو دریافت کرنے کا نام پر عافیت زندگی ہے۔ یہ اصول خاندانی زندگی کے لیے بھی ہے، اور سماجی زندگی کے لیے بھی، حتیٰ کہ قومی زندگی کے لیے بھی۔ اگر چہ کلی معنوں میں حقیقت پسند بننا بہت مشکل لیکن یہ تو ممکن ہے کہ جب آدمی کے اندازے پورے نہ ہوں، تو وہ برداشت کا طریقہ اختیار کرے، وہ شکایت کا طریقہ اختیار نہ کرے۔

جب آدمی کسی کے ساتھ کوئی معاملہ کرتا ہے تو وہ کچھ امیدوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ چاہیے کہ وہ اس معاملے میں مشہور مثل کے مطابق عمل کرے — نیکی کر دریا میں ڈال۔ اگر آپ کسی سے کوئی اچھا سلوک کریں، تو تقریباًنانوے فیصد کیسوں میں فریق ثانی آپ کی امیدوں پر پورا نہیں اس لیے عافیت کا طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں آدمی یہ اصول اختیار کرے کہ یا تو وہ کسی کے ساتھ کوئی سلوک ہی نہ کرے، یا وہ ایسا کرے کہ سلوک کرتے ہی اس کو بھلا دے۔ ایسا انسان دراصل صابر انسان ہے۔ جس آدمی کے اندر صبر کا مزاج ہو، وہ کریم انسان ہوگا، یعنی شریف اور سنجیدہ انسان، وہ اعلیٰ سوچ کا مالک ہوگا، وہ بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کو بہتر سمجھے گا، وہ ردِ عمل (reaction) کی نفسیات سے خالی ہوگا۔

Printed page