Al-Risala · April 2021

فیمینزم اور دعوت

Al-Risala, April 2021, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانے سے عورتوں کے تعلق سے یہ رواج تھا کہ ان کو دبا کر رکھا جاتا تھا۔ زمانے میں، انیسویں صدی سے حقوق نسواں کی تحریک شروع ہوئی، جس کو فیمینزم(feminism) کا نام دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو سماجی مساوات اور قانونی تحفظ فراہم کرنا۔ میں مساوات، حق میراث، آزادی رائے، خود کفیلی، آزاد خیالی، گھریلو تشدد سے تحفظ وغیرہ شامل ہیں۔ حقوق نسواں کی تحریک ابتدا میں محدود مطالبات کے لیے چلی تھی لیکن بالآخر وہ خواتین کے عمومی آزادی کی تحریک بن گئی۔ اب جو آزادی نسواں کا دور آیا تو عورتوں کو لگا کہ ہمارے لیے بھی پوری آزادی کے ساتھ کام کا موقع پیدا ہوا ہے۔ اس سے ایک ماحول بنا۔ اس ماحول کو عام طور پر مسلمانوں نے پسندیدگی کے ساتھ نہیں دیکھا۔ حالاں کہ اس تحریک میں بظاہر نقصان ہے تو اس میں فائدے کا پہلو بھی آزادی نسواں کے اس ماحول سے ہماری ٹیم کے لوگ بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دعوتی مشن کو اس سے فائدہ مل رہا ہے۔ مثلاً دہلی میں ایک پروگرام میں ہماری ٹیم شرکت کرنے گئی، اور ساتھ میں ترجمہ قرآن بھی لے گئی تا کہ وہ وہاں اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کرے ۔ تاکہ لوگ براہ راست خدا کے پیغام کو پڑھیں۔ اس پروگرام میں انڈیا کے ایک سینٹرل منسٹر بھی آئے ہوئے تھے۔ جب وہ باہر نکلے تو اس کے اردگرد بہت بھیڑ اکٹھی ہو گئی۔ اس موقع پر ہماری ٹیم کے لوگوں کے لیے ان کو قرآن کا ترجمہ دینے کی بظاہر کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس وقت ایک خاتون، مس سعدیہ خان دوڑ کر ان کے پاس گئیں، اور زور سے آواز لگایا، سر! یہ سن کرو وہ منسٹر جواب کار میں بیٹھنے جا رہے تھے، ایک خاتون کی آواز سن کو رک گئے، اور شکریہ کے ساتھ ان سے قرآن کا ترجمہ لیا، اور کار میں سوار ہو کر چلے گئے۔ یہ دعوتی موقع صرف ایک خاتون کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ جدید دور میں ایک نارم (norm) بنا ہے، یعنی لیڈیز فرسٹ۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرے تو اس کو غیر مہذب سمجھا جاتا اسی نارم (norm) کے تحت وہ منسٹر رک گیا، اور ایک خاتون سے ترجمہ قرآن لیا، جس صنف

کو قدیم زمانے میں بے حقیقت سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ دور میں یہ مانا جاتا ہے کہ عورتوں کو ایمپاور کرنا کسی بھی ملک کے تمام گوشوں کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے:

Women’s empowerment is the most crucial point to be noted for the overall development of a country. اسی طرح ایک خاتون کا واقعہ ہے، جب وہ شادی کے بعد اپنے سسرال گئیں تو ان کو وہاں بہت ستایا گیا۔ اس سے ان کو اپنے بارے میں یہ تصور پیدا ہو گیا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتیں ۔ ایک مرتبہ ان سے ملاقات کی، اور ان کو یہ سمجھایا کہ وہ دعوت الی اللہ کا کام کر سکتی ہیں۔ دھیرے ان کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ وہ دعوت کا کام کر سکتی ہیں۔ چنانچہ انھوں نے سی پی ایس کی لیڈیز کے ساتھ مل کر دعوتی پلیٹ فارم قائم کیا۔ اس گروپ میں تمام دنیا کی سی پی ایس لیڈیز موجود ہیں، وہ دعوتی کام کو نئے انداز میں اور بہت ہی منظم طریقے سے کر رہی ہیں۔

ایک اور خاتون اپنا تاثر ان الفاظ میں لکھتی ہیں : مجھے ہر بار یہ ریلیز ہوتا ہے کہ میں نے اس (سی پی ایس لیڈیز) گروپ کو جوائن کر کے اپنے اوپر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے میں بہت زیادہ اسٹریس میں تھی، اور سائنالوجسٹ سے کنسلط کرنا چاہتی تھی، مگر یہ گروپ میرے لیے اللہ کی طرف سے ایک رہنمائی ہے۔ اس سے میں بہت کچھ سیکھ رہی ہوں، میرا اسٹریس بھی ختم ہو گیا ہے، اور امید کرتی ہوں کہ میری پرسنالٹی نکھرے گی، ان شاء اللہ (مہر راضیہ خان، غازی آباد)۔ فیمینزم کے دور میں عورتوں کے ذریعے دعوت کا کام اس حدیث کا وسیع تر انطباق ہے، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کی ہے: لَتُرْکَبَنَّ الظَّعِينَةُ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیرَةِ، حَتَّى تَطُوْفَ بِالْکَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا الله (صحیح البخاری ، حدیث نمبر (3595)۔ یعنی تم ضرور دیکھو گے کہ اونٹ پر سوار ایک عورت حیرہ سے (تنہا) آئے گی، یہاں تک کہ کعبہ کا طواف کرے گی، اس کو صرف اللہ کا ڈر ہوگا۔ اس واقعے میں سبق ہے کہ مسلمان اپنے ماضی (past) کی بنیاد پر اپنی خواتین کو میدانِ عمل سے دور نہ رکھیں، بلکہ حال (present) میں خواتین کے لیے موجود عملی مواقع کی بنیاد پر ان کے لیے دینی اور دعوتی عمل کی پلاننگ کریں۔

Printed page