ایک ملاقات
Al-Risala, April 2021, pp. 29–31
By Maulana Wahiduddin Khan
[ماہنامہ صراط مستقیم انٹرنیشنل، پاکستان کے لیے دیا گیا مولانا وحید الدین خاں صاحب کا انٹرویو] س: تاریخ پیدائش اور خاندانی پس منظر؟
ج: میری پیدائش سرکاری ریکارڈ کے مطابق، یکم جنوری 1925 کو اعظم گڑھ (اتر پردیش) کے ایک گاؤں بڑھریا میں ہوئی۔ میرے جد اعلیٰ کا نام حسن خاں تھا۔ وہ ریاست سوات (Swat) کے رہنے سوات چترال میں واقع ہے، جو اس زمانہ میں افغانستان کا حصہ تھا۔ اب یہ پاکستان کا ایک حصہ ہے۔ حسن خاں کے ایک اور بھائی تھے جن کا نام حسین خاں تھا۔ دونوں بھائیوں کے درمیان کسی بات پر نزاع پیدا ہو گیا۔ چنانچہ حسن خاں اپنے بھائی حسین خاں سے نہ صرف علیحدہ ہو گئے، بلکہ اُنھوں نے سوات سے ہجرت بھی کر ڈالی، اور انڈیا کے ایک صوبہ اتر پردیش کے علاقے جون پور میں پہنچ گئے۔ اس وقت یہاں سلطان خاں کی حکومت تھی۔ پہلے ہمارا خاندان جون پور میں بسا، پھر کچھ لوگ اعظم گڑھ کے علاقے میں جا کر بس گئے۔ یہیں میری پیدائش ہوئی۔ س: تعلیمی مراحل ؟
ج: بچپن میں میرا حال یہ تھا کہ اکثر میں گھر سے نکل کر کھیتوں اور باغوں کی طرف چلا جاتا تھا۔ باہر ندی پر ایک پل تھا۔ میں وہاں جا کر بیٹھ جاتا، اور دیر تک دریا کی روانی اور کائنات کے مناظر کو دیکھتا رہتا تھا۔ فطرت کو دیکھنا میرا پسندیدہ کام تھا۔ کچھ شعور ہوا تو ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک مکتب میں اس کے بعد 1938 میں عربی تعلیم کے لیے میں نے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں داخلہ لیا۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد جب میں نے دیکھا کہ میں سماج میں ارریلیونٹ ہوں، یعنی میری تعلیم اس لائق نہیں جو مجھے موجودہ سماج میں مفید بنا سکے تو میں نے دوبارہ تفاسیر و حدیث وغیرہ کا مطالعہ کیا، انگریزی زبان سیکھی، پھر سیکولر علوم اور سائنس وغیرہ کا مطالعہ کیا۔ طرح میں نے زمانی شعور حاصل کیا، اور پورے یقین کے ساتھ اسلام کو از سر نو دریافت کیا۔
س: فہمِ قرآن کے بنیادی اصول؟
ج: ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ کے ساتھ قرآن میں تدبر کرنا، اور تقویٰ کے ساتھ اللہ سے دعا کرنا۔ س: کھانے اور پہننے میں کیا پسند ہے؟
ج: لائف اسٹائل کے معاملے میں میرا اصول یہ ہے— سادہ زندگی، اونچی سوچ: simple living, high thinking س: ہندوستان میں اسلام کی دعوت اور اس پر عمل کتنا دشوار ہے؟
انداز میں حکمت کے ساتھ دعوت کا کام کیا جائے۔
س: ایک داعی کو کن اوصاف سے متصف ہونا چاہیے؟
ج: داعی کے دل میں مدعو کے لیے مکمل طور پر خیر خواہی (نصح) کا جذبہ ہونا چاہیے۔ مدعو کی کوئی بھی اشتهال انگیز بات داعی کو خیر خواہی کے جذبے سے دور نہ کرے۔
س: حقوق مسلم کے لیے آپ کی جدوجہد کی چند جھلکیاں؟
ج : میں نے مسلمانوں کو ہمیشہ یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ حقوق طلبی کی مہم ترک کریں، اور لوگوں کے لیے نافع (giver) بن کر زندگی گزاریں۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ الید العلیا بنیں، الید السفلیٰ نہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1427)۔ یعنی وہ دینے والے (giver) بنیں، نہ کہ لینے والے۔ س : غیر مسلم کس کس رکاوٹ کی وجہ سے نعمتِ اسلام سے محروم ہیں؟ ج : دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلمان ہیں۔ مسلم مفکرین کی یہ غلطی ہے کہ انھوں نے سیاسی میدان میں مغلوب ہونے کی وجہ سے جدید فکر یا جدید تہذیب کو اسلام کا مخالف سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کے اور جدید ذہن کے درمیان غیر ضروری ٹکراؤ پیدا ہو گیا ہے۔ چنانچہ موجودہ دور میں دعوت کا کام نارمل انداز میں جاری نہیں ہے۔ میری ان کو نصیحت ہے کہ وہ جدید فکر کے خلاف اپنی منفی مہم بند اس کے بعد غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام بالکل فطری انداز میں جاری ہو جائے گا۔
س: فرقہ وارانہ تشدد (مذہبی، مسلکی، سیاسی، لسانی وغیرہ) کے اسباب و وجوہات؟ ج: اختلاف کو بینچ کرنے کا فقدان۔ اختلاف (difference) کے معاملے میں ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں ۔ غلو کا طریقہ اور ٹالرنس کا طریقہ۔ غلو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ مختلف مسالک فکر کے درمیان ایک ہی طریقہ صحیح ہے، دوسرے تمام طریقے غلط ہیں، ان کو ختم ہو جانا چاہیے۔ برعکس، دوسرا طریقہ رواداری یا وسعتِ نظری کا طریقہ ہے، یعنی یہ سمجھنا کہ جو اختلاف ہے، وہ تنوع (diversity) کا معاملہ ہے۔ جس کا عملی فارمولا اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ۔ ایک کی پیروی، (diversity) کا معاملہ ہے۔ یہ بھی فارمولا اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ سب کا احترام: