follow one, respect all
Al-Risala, April 2021, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
س: فرقہ وارانہ تشدد کی فضا کو ختم کرنے کے لیے کون کیا کردار ادا کرے؟ ج: نفرت کی فضا کو ختم کرنے کا صرف ایک اصول ہے کہ ایک طرف تو صلح کی ایک ہی پیروی ہے لہٰذا خدا ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔
س: پوری دنیا میں ”مسلمان ہی مظلوم“ کیوں ہیں؟
ج: مسلمان مظلوم نہیں ہیں، وہ اپنی غیر حکیمانہ پلاننگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ ص: دینی مدارس کی اصلاح کے لیے کیا تجاویز دیں گے؟
ج: حدیث کے الفاظ میں، وہ بصیر زمانہ بنیں ( صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ ل میں رچ بس جاے ، اور یہ بصیر زمانہ ہونے کا ن: حدیث کے الفاظ میں، وہ بصیر زمانہ ہیں ( صحیح ابن حبان، حدیث نمبر (361) ۔ بصیر زمانہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اہل مدارس زمانے کے مطابق، اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی (right planning) کریں ۔ زمانے سے باخبری کے بغیر اسلامی عمل کی درست منصوبہ بندی نہیں ہو سکتی اس بنا پر اہل مدارس کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے حالات سے پوری طرح باخبر ہوں، ورنہ ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔ مثلاً ہم ایسے زمانے میں ہیں جو امن کا ایسے زمانے میں صرف پر امن منصوبہ بندی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی آج کے رشا ہے، یہ پرداس میں رہ رہا ہے (یہ پیرس میں یہ رہا ہے
زمانے سے بے خبر ہو، اور وہ امن کے زمانے میں جنگ کی تیاری کرے، اور پھر اپنے زمانے کے لوگوں کے خلاف لڑائی چھیڑ دے تو بلاشبہ اس کا منصوبہ غلط ہو جائے گا۔ اپنے جان و مال کو قربان کرنے کے باوجود وہ کوئی مثبت نتیجہ (positive result) حاصل نہ کر سکے گا۔ مدارس کے تعلق سے مزید تفصیل میری کتاب "علماء اور دور جدید"، اور "دین و شریعت" میں دیکھی جاسکتی ہے۔ س: آپ بصیر زمانہ بننے پر بہت زور دیتے ہیں، کیا آپ سے پہلے کسی عالم نے ایسا کہا ہے؟ ج: قدیم علما کے یہاں اس کی مثالیں ملتی ہے۔ مثلاً وہب بن منبہ (وفات 114ھ) نے کہا ہے کہ آل داؤد کی حکمتوں میں ایک یہ ہے: حَقٌّ عَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ عَارِفًا بِزَمَانِهِ (الصمت وآداب اللسان لابن ابی الدنیا، اثر نمبر (31) ۔ یعنی عقلمند انسان (wise person) پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ اسی طرح ابن الحاجب الکردی المالکی (وفات 646ھ) کا قول ہے: وَمِنْ شِيَمِ الْعَالِمِ أَنْ يَكُونَ عَارِفاً بِزَمَانِهِ (جامع الأمهات لابن الحاجب، صفحہ 575) ۔ یعنی عالم کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ یہی بات ابن عبد البر (وفات 463 ھ) نے بھی اپنی کتاب الکافی فی فقہ اہل المدینہ (جلد 2، صفحہ 1132) میں لکھی ہے۔ ابن کثیر (وفات 774ھ) نے اپنے استاد برہان الدین الفزاری کا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: عَارِفًا بِزَمَانِهِ (البدایۃ والنہایۃ، جلد 14، صفحہ 167) ۔ یعنی وہ اپنے زمانے سے باخبر عالم تھے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب در المختار (صفحہ 95) میں اس تعلق سے ایک با معنی قول ان الفاظ میں آیا ہے: مَنْ لَمْ يَكُنْ عَالِماً بِأَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ (جو اپنے زمانے کا عالم نہ ہو، وہ جاہل ہے)۔ مشہور حنفی فقیہ ابن عابدین شامی (وفات 1889) نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں لکھا ہے: وَمَنْ لَمْ يَدْرِ بِعُرْفِ أَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ (الرد المختار، جلد 3، صفحہ 724) ۔ یعنی جو اپنے زمانے والوں کے ٹریڈیشن سے بے خبر ہو، وہ جاہل تو میں نے جو بات کہی ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ میں نے جدید اسلوب میں وہی بات دہرائی ہے، جو قدیم علما کہتے رہے ہیں۔
س: 96 سالہ زندگی کے تجربات کی روشنی میں ہم جاننا چاہیں گے کہ ایک فرد کو کن اصولوں کو مدنظر
رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے؟
ج: پرابلم کو اگنور کرنا اور مواقع کو دریافت کر کے منصوبہ بند طریقے سے اس کو اوویل کرنا۔ س: کبھی پاکستان کا دورہ کیا... اگر نہیں تو کیا خواہش ہے؟
ج : میں نے پاکستان کا تین مرتبہ سفر کیا ہے۔ ان میں ایک سفر تقسیم سے پہلے 1945 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد دوسرا سفر 1971 میں ہوا، پھر تیسرا سفر 1985 میں ہوا۔ ان کی تفصیل میری کتاب سفر نامہ غیر ملکی اسفار جلد اول میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً میں پاکستان کے تعلق سے مضامین بھی لکھتا رہا ہوں۔ اس وقت ہمارے مشن سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم بھی پاکستان میں موجود ہے، جو یقین کر رہا ہوں کہ اس بات کو وقت کے دائرے میں کیسے آگے بڑھنا ہے اس کا پتا چل سکے؟ وہاں ہمارے دعوتی مشن کو یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔
س: اُمت مسلمہ کونشاۃ ثانیہ کے سفر میں کس مرحلہ میں دیکھتے ہیں؟
ج: مسلم مفکر نے سمجھتا ہوں کہ مغربی فکر (modern thought) اور اس کے خلاف ایک چیلنج ج: مسلم مفکرّین یہ سمجھتے ہیں کہ جدید فکر (modern thought) ان کے خلاف ایک چیلنج ہے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو جدید فکر کہا جاتا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام مخالف نہیں ہے، وہ عین موافق اسلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید ذہن اور جدید تہذیب پوری کی پوری اسلام کے موافق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو اسلام اور جدید فکر میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ مسئلہ فکرِ جدید کو بدلنے کا نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کی سوچ کو بدلنے کا ہے۔ اس کے بعد کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کا مزاج ہے ہر نئی چیز کے خلاف ہو جانا۔ مثلاً جب کلونیلزم کا دور آیا تو وہ اس کے خلاف ہو گئے۔ اسی مزاج نے اصل مسئلہ پیدا کیا ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنا ہے۔ س : امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار اور مقام کیسے حاصل کر سکتی ہے؟
ج: ان کو پانچ پوائنٹ فارمولا اختیار کرنا چاہیے۔ وہ پانچ پوائنٹ فارمولا درج ذیل ہے: (1) معرفت خداوندی (realization of God)
(2) مثبت سوچ (positive thinking)