Al-Risala · April 2021

سوال و جواب

Al-Risala, April 2021, pp. 36–38

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ایک آیت ہے: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (4:159)۔ یعنی اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے۔ میں بِهِ ضمیر کا مرجع کس کی طرف ہے۔ (ایک قاری الرساله، ممبئی)

مذکورہ آیت میں پہلی ضمیر کا مرجع قرآن (کی بیان کردہ حقیقت) ہے، اور دوسری ضمیر کا مرجع افراد اہل کتاب۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب کا ہر فرد اپنی موت سے پہلے اس معاملے میں قرآن کی بیان کردہ حقیقت کو یقین کے ساتھ مان لیتا ہے۔ یعنی منصوبہ تخلیق کی حقیقت کو مان لیتا ہے، اگر چہ وہ اسلام اور قرآن کا نام نہ لے۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی آخری عمر میں پہنچ کر میں کٹ ٹوسائز (man cut to size) بن جاتا ہے۔ اس وقت وہ یہ ریلائز (realize) کرنے لگتا ہے کہ وہ اس دنیا میں عاجز مطلق ہے۔ یہ واقعہ مخصوص طور پر اہل کتاب سے متعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عام قانون ہے جس کا اطلاق اہل کتاب پر بھی ہوتا ہے۔

عبداللہ بن عباس (وفات 68ھ) کے شاگرد عکرمہ تابعی (وفات 105ھ) اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم )

تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 386۔

یہود و نصاریٰ کے پاس آسمانی علم تھا ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انہوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آ جاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کر لیتا ہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ یہ بات جو یہاں اہل کتاب کی نسبت سے کہی گئی ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر انسان کی نسبت سے ہے۔ اللہ کے قانون کے مطابق، ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ اپنی موت سے کچھ لمحہ پہلے ذہنی اعتبار سے موجودہ دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے، اس کو آخرت کی حقیقتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ وقت وہی ہوتا ہے جس کو حدیث میں غرقہ (مسند احمد، حدیث نمبر 6160) کہا گیا یہی واقعہ ہر اہل کتاب کے ساتھ موت کے وقت پیش آئے گا۔ یعنی جس حقیقت کو وہ موت سے پہلے کے دور میں ماننے کے لیے تیار نہ تھا، موت کے وقت، جب کہ موت کا فرشتہ اس کے پاس آ چکا ہوگا، اس پر حقیقت واقعہ منکشف ہو جائے گا۔ اگر چہ وہ اس انکشاف کا اعلان دنیا والوں کے سامنے نہ کر سکے گا، لیکن خود اپنے علم کے مطابق، وہ اس کو بخوبی طور پر جان لے گا۔ یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلام وغیرہ، پیغمبر اسلام پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ جو لوگ دین میں انسانی اضافوں سے گزر کر اصل آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آ کر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔

میرا تعلق پاکستان سے ہے، میرا سوال یہ ہے کہ میں شادی شدہ ہوں، اور اپنے سسرال میں رہتی ہوں۔ میری شادی شدہ زندگی میں کچھ مسائل ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب سسرال کا کوئی فرد آپ کے لیے پرابلم پرسن (problem person) بن جائے، وہ مختلف طریقے سے آپ کو پریشان کرنے لگے، لیکن آپ کا شوہر اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہ کرے تو ایسے موقع پر کیا کرنا پريماں رکھا، چھاپا، ہوائی جہاز، چاپ براہِ کرم آپ اس کا جواب دیں۔ (مز نادیہ اسلم)

جواب کا آج تک کوئی متعين مثال نہیں دی۔ مل گیا نہ نوع ، سمجھ میں آ یا، چوں کہ آپ نے کوئی متعین مثال نہیں دی ہے، جس سے معاملے کی نوعیت سمجھ میں آئے۔ اس لیے میں جنرل صورتِ حال کے مطابق، اس کا جواب دوں گا۔ اس قسم کے مسئلے کا حل میرے تجربے کے مطابق، صرف ایک ہے، اور وہ ہے، یک طرفہ صبر۔ اس فارمولے کے سوا کوئی اور فارمولا اس معاملے میں قابلِ عمل نہیں ہے۔ شادی شدہ زندگی کے مسائل کی جڑ یہ ہے کہ شادی عام طور پر نان بلڈ ریلیشن شپ (non-blood relationship) کے درمیان ہوتی ہے۔ شوہر کو اپنے خونی رشتے داروں سے ایموشنل تعلق ہوتا ہے۔ اسی طرح بیوی کو بھی اپنے خونی رشتہ داروں سے ایموشنل تعلق ہوتا ہے۔ لیکن شادی کے بعد شوہر اور بیوی، جو پہلے الگ الگ تھے، یکجا ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ یہ یکجائی دو متضاد تعلق کے درمیان ہوتی ہے۔ اس بنا پر شادی کے بعد دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کا ہونا بالکل فطری ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ دونوں فریق اس فطری حقیقت کو جانیں، اور اپنے آپ کو پہلے سے اس صورتِ حال کے لیے تیار کرلیں، جس کو میں دومَتضاد کے درمیان ہم آہنگی کہوں دومَتضاد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا فارمولا ایک لفظ میں صرف ایڈجسٹ منٹ ہے۔ کے سوا اس مسئلے کا اور کوئی قابلِ عمل حل نہیں۔ آپ کے لیے یہ مشورہ ہے کہ آپ میری کتاب خاندانی ے کی زبان سے، دوسروں کی زبان میں، پتا نہیں یہ زندگی (انگریزی ورژن:Family Life) کا مطالعہ کریں۔

Printed page