13 اگست 1985
Al-Risala, May 2021, pp. 10–17
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے۔ اور اگر اس میں بگاڑ آ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ اور یہ قلب ہے (أَلاَ وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً؛ إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 52۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی اصلاح کا دارومدار ”قلب“ کی اصلاح پر ہے۔ یہاں قلب کا لفظ عقل کے معنی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر قسم کی تبدیلیوں کا راز اندرونی تبدیلی میں ہے، یعنی سوچ و فکر کی تبدیلی، نہ کہ بیرونی تبدیلی۔
اس حدیث کی روشنی میں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں غیر فطری قرار کیوں کہ ان تحریکوں کا نشانہ دوسری دوسری چیزوں کی تبدیلیاں تھی، نہ اندرونی تبدیلی۔ نشانہ تبدیلی حکومت تھا، اور کسی کا نشانہ تبدیلی جغرافیہ، کسی کا نشانہ تبدیلی قیادت تھا، اور کسی کا نشانہ موجودہ زمانہ کی وہ تمام ہنگامہ خیز تحریکیں جن پر مسلمان فخر کرتے ہیں، وہ سب اسی قسم کی خارجی تبدیلیوں کا نعرہ لے کر اٹھیں۔ ان میں سے کوئی تحریک ایسی نہیں جو تبدیلی قلب (یا تبدیلی انسان) کے منصوبہ کے تحت اٹھائی گئی ہو۔
خارجی تبدیلی کو نشانہ بنا کر جو انقلاب لایا جائے اس کا انجام ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے— ایک برائی کو ہٹا کر دوسری شدید تر برائی لے آنا۔ کسی شخص نے نہایت صحیح کہا ہے:
سے زیادہ بری حکومت قائم کی جائے ۔
شاہ ولی اللہ اور ان کے رفقاء تحریک کا سکہ اور بہت سا اسلام کو خطرہ ہے میں سکھا، شاہ ولی اللہ اور ان کے پیروؤں نے کہا کہ سکھ اور مرہٹہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ سکھ اور مرہٹہ راستے سے ہٹا دئے گئے۔ مگر اسلام بدستور خطرہ میں باقی رہا۔ شاہ عبدالعزیز اور ان کے پیروؤں نے کہا کہ انگریز سے اسلام کو خطرہ ہے۔ انگریز کا اقتدار ختم ہو گیا مگر اسلام کا جو مسئلہ تھا وہ حل نہ ہوا۔ محمد علی جناح اور دوسرے مسلم لیڈروں نے کہا کہ ہندو فرقہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ سے کٹ کر مسلمانوں کی علیحدہ ریاست قائم ہو گئی۔ مگر اس کے باوجود اسلام مسائل سے گھرا رہا۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کے ہم خیال لوگوں نے کہا کہ ایوب اور بھٹو سے اسلام کو خطرہ ایوب اور بھٹو کا اقتدار ختم ہو گیا مگر اسلام کا خطرہ نہیں ہوا۔ مولانا علی میاں اور ان کے ماننے والوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے شاہ بانو کیس کے فیصلہ سے اسلام کو خطرہ ہے۔ مسلمانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلہ سے آزاد کر دیا۔ مگر اسلام بدستور خطرہ میں گھرا رہا۔ یہ مسلمانان ہند کی تقریباً چار سو سال کی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ ہر وہ طاقت جس کو مسلمانوں نے اسلام کا دشمن قرار دیا وہ راستے سے ہٹائی جاتی رہی۔ مگر اسلام اور مسلمان بدستور خطرات میں گھرے ہندوستان میں بھی، پاکستان میں بھی اور بنگلہ دیش میں بھی۔ یہ طویل تجربہ یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ مسلم قائدین کی نشان دہی غلط تھی۔ مگر مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ ہر اگلا قائد پچھلے قائدین کا صرف مقلد بنا ہوا ہے۔ ماضی کی نادانیوں نے مسلمانوں کو کوئی سبق نہیں دیا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار امام شافعی سے پوچھا خدا کی کتاب
بارے میں آپ کا علم کیا ہے (ما علمك بكتاب الله ) ۔ امام شافعی نے جواب دیا کہ علوم قرآن کی بہت سی قسمیں ہیں۔ آپ کی مراد کس علم سے ہے۔ کیا امثال و اخبار سے، محکمات سے، متشابہات سے، تقدیم و تاخیر سے، ناسخ و منسوخ سے، باعتبار مکان مکی و مدنی سے یا باعتبار زمان لیلی و نہاری ( رات یا دن ) سے، صیفی و شتائی ( گرمی یا سردی) سے، باعتبار قیام اور سفر و حضر سے، اس کے اعراب اور حروف و اس طرح امام شافعی نے قرآن کے 73 علوم گنا دیے ۔
ہارون رشید نے یہ سن کر کہا کہ آپ نے قرآن کے بہت کافی علوم کو جمع کر لیا ہے (لقد أوعيت من القرآن علماً عظيماً ) - مراة الجنان وعبرة اليقظان لليافعي، جلد 2 ، صفحہ 17 بظاہر یہ بڑے کمال کی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب اس اعتبار سے دیکھا جائے کہ صحابہ کرام قرآن کے ان 73 علوم سے واقف نہ تھے تو یہ مہارت اسلام کے بجائے محض ایک فن نظر آنے لگتی ہے۔ کیوں کہ اسلام اگر ان علوم کا نام ہوتا تو صحابہ کرام ضرور ان علوم کے ماہر ہوتے۔ 16 اگست 1985 امریکن رائٹر رالف والڈو ایمرسن (1882-1803, Ralph Waldo Emerson) نے لکھا ہے کہ تم ایک اچھا چوہے دان بناؤ اور دنیا خود ہی چل کر تمھارے دروازے پر آ جائے گی: Build a better mousetrap and the world would beat a path to your door. لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ اہم چیز معیار (quality) ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ جو چیز وہ بازار سے خریدے وہ اعلیٰ معیار کی ہو۔ استعمال کے وقت ہر اعتبار سے وہ بہترین ثابت ہو۔ لوگوں کا یہ مزاج ہی کسی آدمی کے لیے موجودہ دنیا میں ترقی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اور ترقی کا مقام حاصل ہو اس کو صرف ایک کام کرنا چاہیے۔ وہ جو کام بھی کرے اعلیٰ معیار پر کرے اس کے بعد دنیا خود اسے اس کا مطلوبہ مقام دینے پر مجبور ہو جائے گی۔ دہلی میں اس اصول کی ایک زندہ مثال خلیق احمد ٹونکی ( پیدائش 1932) ہیں۔
کہا جا سکتا ہے کہ اس دور میں علومِ جدیدہ کی اشاعت کی جو گنگا بہی، اس نے اردو کتابت کے کام میں ایک طویل عمر صرف کردی۔ یہاں تک کہ وہ دہلی کے سب سے اچھے کاتب بن اب یہ حال ہے کہ انھیں کام تلاش کرنے کی ضرورت ۔ دوسرے کاتبوں کے مقابلہ میں وہ چوگنا اجرت لیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حال ہے کہ ان کے یہاں کام کرانے والوں کی بھیڑ لگی رہتی انھیں کام کی تلاش میں کہیں نہیں جانا نہیں پڑتا۔ کام خود ان کو تلاش کر کے ان کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ میں نے اپنے تجربہ میں یہ پایا ہے کہ خلیق ٹونکی صاحب انتہائی معیار پسند آدمی ہیں۔ وہ جو بھی لکھتے ہیں اس کو آخری حد تک بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواہ کوئی بڑا کام ہو یا چھوٹا کام۔ پیسہ والا ہو یا زیادہ پیسے والا۔ اپنے اس ذوق کی وجہ سے ماضی میں انھوں نے بہت نقصان اٹھایا ہے پیشہ ورانہ میڈیا دیا جائے آپ اس کی وجہ سے بہت آگے نکل سکتے ہیں لیکن مگر انھیں نقصانات کی وجہ سے انھیں یہ موقع ملا کہ وہ ہندوستان کے نمبر ایک کاتب بن گئے۔ کتا بہم قسم کی تربیت ایک جفز کشا کی تسکین کے لیے ہوتی ہے جنہیں کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو فخر کی نفسیات کو تسکین دیں۔ دوسری وہ جو نصیحت کے جذبات کو ابھاریں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بے شمار کتابیں لکھی اور چھاپی ہیں۔ مگر یہ کتابیں زیادہ تر پہلے خانہ میں جاتی ہیں ۔ وہ کسی نہ کسی اعتبار سے مسلمانوں کے فخر کے جذبات کو تسکین دیتی ان سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا کہ آدمی کے اندر نصیحت کی فکر ابھرے ، اس کے دل میں خود احتسابی کا جذبہ بیدار ہو ۔
موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں کو جب ایک مسلمان پڑھتا ہے تو کوئی کتاب اس کے ذہن میں سیاسی قصیدہ بن جاتی ہے اور کوئی کتاب فضائلی قصیدہ ۔ اس قسم کی باتیں آدمی کے اندر پر فخر اہتزاز تو ضرور پیدا کرتی ہیں اور بعض اوقات ان کے زیر اثر وہ بعض ظاہری عمل بھی کرنے لگتا ہے مگر اس کی کوئی گہری بنیاد نہیں ہوتی ۔ ایسے قصائد اس کے دل کو نہیں تڑپاتے، ، وہ اس کے طرزِ فکر کو نہیں بدلتے ، وہ اس کی زندگی میں انقلاب پیدا نہیں کرتے۔
کچھ عباسی خلفاء، معتزلی متکلمین کے اثر سے، قرآن کو مخلوق کہتے تھے۔ چنانچہ جو لوگ قرآن کو ال رسالہ، مئی 2021
غیر مخلوق کہتے ان کو انھوں نے سخت سزائیں دیں۔ مثلاً امام احمد بن حنبل (241-164ھ) وغیرہ۔ اس فتنہ کو ختم کرنے میں جن اسباب کا دخل ہے، ان میں بعض لطائف بھی شمار کیے جاسکتے یہ فتنہ خلیفہ واثق کے زمانہ میں ختم ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ واثق عباسی کے زمانہ میں ایک ظریف شخص تھا۔ وہ دربار میں لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا۔ ایک روز مذکورہ ظریف دربار میں آیا اور سلام کے بعد سنجیدگی کے ساتھ کہا۔ اے امیر المومنین ، قرآن کی موت پر اللہ آپ کو بڑا اجر دے (یا أمیر المؤمنين، أعظم الله أجرك في القرآن)۔
خلیفہ نے حیران ہو کر کہا کہ تمھارا برا ہو، قرآن پر بھی کہیں موت آتی ہے (ويلك، القرآن ظریف نے دوبارہ سادگی کے ساتھ جواب دیا کہ اے امیر المؤمنین ہر مخلوق مرے گی (یا أمير المؤمنين، كل مخلوق يموت)۔
اس کے بعد ظریف نے مزید کہا کہ مجھے بڑی فکر اس بات کی ہے کہ قرآن کی موت پر مسلمانوں کی تراویح کا کیا ہوگا۔ خلیفہ واثق اس کو سن کر بے اختیار ہنس پڑا۔ اس نے کہا کہ ٹھہر، خدا تجھے ہلاک کرے (قاتلك الله، أمسك) الطبقات السنية في تراجم الحنفية، صفحہ 90۔ تاہم یہ لطیفہ خلیفہ واثق پر بہت اثر انداز ہوا۔ وہ سابق خلفا کی طرح اس معاملہ میں زیادہ شدید اب اس کا باقی ماندہ جوش بھی ختم ہو گیا اور خلیفہ کے ٹھنڈا پڑنے سے سارے ملک میں یہ مسئلہ ختم ہو گیا۔ کبھی ایک لطیفہ سے وہ کام ہو جاتا ہے، جو دلائل سے نہ ہو سکا تھا۔ دنیا میں جو چیز سب سے زیادہ ہے، وہ ہے دوسرے کے خلاف سوچنا، اور دنیا میں جو چیز سب سے کم ہے، وہ ہے اپنے خلاف سوچنا۔ دوسرے کے خلاف رائے زنی کرنے کے لیے ہر آدمی ذہانت کی چوٹی پر نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس الفاظ کا اتنا بڑا بھنڈار ہے جو کبھی ختم نہ ہو۔ مگر جب معاملہ اپنے خلاف سوچنے کا ہو تو وہی آدمی ایسا بن جاتا ہے جیسے کہ اس کے اندر کسی بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ جو بات اپنے خلاف ہو، جس میں خود اپنی شخصیت زد میں آرہی ہو،
اس روز نامہ کا ضرورت نہیں تا کہ اس کی نیابت کی اس وجہ سے پاک کے لیے تیار ہوتا ہے۔
چند آدمیوں سے اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ دین کی حقیقت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ دین کی اصل حقیقت اپنے آپ کو خدا کے آگے سرنڈر کرنا ہے۔ یہی دین کا اول بھی ہے اور یہی دین کا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے جس کا سب سے زیادہ طاقت ور جذ بہ انا (ego) کا جذ بہ ہے۔ انسان کی انا اپنی نوعیت کے اعتبار سے خدائی انا کی ہم سطح مگر دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کو کسی بھی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ انسان ، بلا تشبیہہ، ایک مگر وہ ایک ایسا خدا ہے، جو ذاتی اختیار سے مکمل طور پر محروم ہو۔ اس کے تمام اختیارات خدا کی طرف سے عطیہ ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہو رہا ہے۔ گویا کہ مجازی خدا کو حقیقی خدا کا اعتراف یہ بلا شبہ مشکل ترین کام ہے مگر اسی مشکل ترین کام میں انسان کی نجات کا راز چھپا ہوا موجودہ دنیا میں خدا خود سامنے نہیں آتا۔ اس لیے مذکورہ اعتراف براہِ راست خدا کے سامنے نہیں ہوتا، یہ اعتراف عملاً ایک انسان کے سامنے ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی انسان دلیلِ حق کے ساتھ کھڑا ہو تو انسان (یا اس دلیلِ حق ) کی حیثیت مخاطبین کے لیے خدا کے نمائندہ کی حیثیت ہو جاتی اس وقت جو شخص جھک گیا، وہ خدا کے سامنے جھکا۔ اس وقت جو شخص نہیں جھکا، اس نے خدا ہ, اس بات ، یہ بات کی رواداری یا مزاحمت یا ان کی حالتِ زار میں سب کے کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
عربی کا ایک مقولہ ہے: إِذَا تَكَلَّمْتُ بِالْكَلِمَةِ مَلَكَتْنِي وَإِذَا لَمْ أَتَكَلَّمْ بِهَا مَلَكْتُهَا (الدر الفريد وبيت القصيد للمستعصمي، جلد 6، صفحہ (65)۔ یعنی جب میں نے ایک بات کہہ دی تو وہ میرے اوپر اختیار حاصل کر لیتی ہے اور اگر میں بات نہ کہوں تو میں اس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں۔
شیخ سعدی نے یہی بات کسی قدر مختلف انداز میں اس طرح کہی ہے : تا مرد سخن نہ گفتہ باشد، عیب و هنرش نهفته باشد آدمی جب تک بات نہ کہے تو اس کا عیب و ہنر چھپا رہتا ہے اس بات کو انگریزی میں کسی نے اس طرح بڑی خوبصورت کہہ ہے سے الٹانا کہ آگا اِس بات کى ديروں ميں کُھلتى رہتى ہے تِہہ بہ تِہہ چُپ ہیں ، اور ہم اُن الفاظ کے غلام ہیں جو ہم اپنی زبان سے کہہ دیں : مختلف زبانوں میں اس طرح کے مشابہ اقوال کا ایک مظاہرہ ہیں کہ تمام انسان حقیقتًا ایک ڈھنگ پر سوچتے ہیں۔ تمام حقیقتیں آفاقی حقیقتیں ہیں۔ فطرت کی سطح پر سب کا اندازِ فکر فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص اس کو ایک زبان میں بیان کرتا ہے اور کوئی شخص دوسری یہ کہتا ہے کہ یہی تہے دی ہے اس کی رویت وہیں بیان ہوتی ہے زبان میں ۔
حضرت مجمع کے والد بزرگوار کا جو انتقال ہوا ہے، اس میں بڑے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی ایک دعا عربی ماہ نامہ العربی میں پڑھی۔ وہ دعا یہ ہے : اِنّي اَطَعْتُكَ فِي اَحَبِّ الْاَشْيَاءِ اِلَيْكَ، وَهُوَ التَّوْحِيدُ، وَلَمْ اَعْصِكَ فِي اَبْغَضِ الْاَشْيَاءِ اِلَيْكَ وَهُوَ الْكُفْرُ، فََاغْفِرْ لِي مَا بَيْنَهُمَا (الاخبار الموفقيات للزبیر بن بكار، صفحہ 198)۔ خدایا، میں نے تیری سب سے زیادہ محبوب چیز میں تیری اطاعت کی ہے، اور وہ توحید ہے۔ سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز میں تیری نافرمانی نہیں کی اور وہ کفر ہے۔ پس ان دونوں کے درمیان جو ا . . . . . پیدیا ، میری ساری عمر کا حاصل اگر کچھ ہے اس میں تو مجھ کو بخش دے۔
اقبال کا نظریہ عمل شعری“ ایک مختصر کتاب جس کے مصنف اقبال کی نظری و عملی شعریت ایک مختصر کتاب ہے جس کے مصنف پروفیسر مسعود حسین خاں (پیدائش (1919 ہیں ۔ انھوں نے یہ کتاب سری نگر (کشمیر) میں اپنے قیام کے دوران مرتب
کی ہے، اور مکتبہ جامعہ نئی دہلی نے اس کو شائع کیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ایک دیباچہ ’’حرفے چند‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں پروفیسر موصوف لکھتے ہیں:
’’ڈل جھیل کے کنارے نسیم باغ کے چناروں کے سایہ تلے مجھے خدا نہیں تو کم از کم اقبال کو بے نقاب دیکھنے کا موقع ملا‘‘۔
یہ بات جو ایک ادیب نے بے تکلف لکھ دی، یہی ہمارے علما تک کا حال ہے۔ نشانیاں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں، جو اس لیے ہیں تا کہ ان کو دیکھ کر خدا کے بندے خدا کو پائیں۔ مگر نشانیوں کے ہجوم میں بھی کسی کو خدا دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ ’’اقبال‘‘ کو ہر شخص دیکھ لیتا ہے۔ کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی۔ مگر انسانی شخصیتیں لوگوں کو خوب نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر مجلس اور ہر اجتماع میں انسانی شخصیتوں کے چرچے ہیں۔ مگر اُس مجلس اور اس اجتماع سے خدا کی زمین خالی ہے، جہاں واقعی معنوں میں خدا کی یاد کی جائے۔ جہاں لوگ اسی طرح خدا کے کمالات سے سرشار ہو کر خدا کا تذکرہ کریں، جس طرح وہ انسانوں کے کمالات سے سرشار ہو کر ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔