Al-Risala · May 2021

26 اگست 1985

Al-Risala, May 2021, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

بہت سے لوگوں سے میں نے پوچھا کہ آپ کی زندگی کی خاص دریافت کیا ہے۔ میں نے زیادہ تر ان لوگوں سے پوچھے جو صاحب علم تھے اور جنھوں نے زندگی کا لمبا تجربہ اٹھایا تھا۔ عجیب بات ہے کہ اکثر لوگوں نے میرے سوال کا جواب اس انداز میں دیا جیسے کہ ان کی کوئی دریافت ہی نہ ہو، جیسے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کوئی نئی چیز پائی ہی نہ ہو۔ اس کا سبب کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر لوگ روایتی طریقے میں جیتے ہیں۔ دوسرے لوگ کر رہے ہیں، وہی وہ بھی کرنے لگتے ہیں، اور اگر کوئی شخص دوسرے کے مقابلہ میں اپنا راستہ بدلتا ہے تو محض ظاہری اور جزئی معنوں میں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو کوئی نئی دریافت کیوں کر

اسلامی اصطلاح میں ہجرت کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ، داخلی ہجرت ( الهجرة الداخلية ) دوسری ، خارجی ہجرت ( الهجرة الخارجية ) ۔ داخلی ہجرت بڑی ہجرت ( الهجرة الكبرى ) ہے، اور خارجی ہجرت چھوٹی ہجرت ( الهجرة الصغرى ) ہے۔

داخلی ہجرت کو مختلف احادیث رسول سے سمجھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: المُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 6484)۔ یعنی مہاجر وہ ہے، جو اس کو چھوڑ دے جس سے خدا نے منع کیا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ایک بار پوچھا گیا : أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 19435)۔ یعنی سب سے افضل ہجرت کون سی ہے؟ آپ نے جواب دیا: یہ کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کو

یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ داخلی ہجرت اور داخلی جہاد کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ بیان کیا گیا ہے: وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذَّنُوبَ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23967)۔ یعنی مہاجر وہ ہے جو غلطیوں اور گناہوں کو ترک کردے، اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے لڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مواقع پر داخلی جہاد کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔

سے بعض روایات درج ذیل ہیں:

المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ (جامع الترمذی، حدیث نمبر (1621)۔ یعنی مجاہد وہ ہے، جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔

المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر (23951)۔ یعنی مجاہد وہ ہے، جو اللہ کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے۔ یہ ایک مہم تھی جس میں کوئی جنگ

پیش نہیں آئی۔ واپسی کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے روایت کے الفاظ یہ ہیں: قَدِمْتُمْ مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ . قَالُوا: وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ ( تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، جلد 13، صفحہ 498، البیہقی، الزہد الکبیر، حدیث نمبر 373)۔ تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہو۔ لوگوں نے کہا: جہاد اکبر کیا ہے، اے خدا کے رسول، آپ نے کہا: بندے کا اپنے نفس سے جہاد کرنا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ ہر آدمی ’’چھوٹی ہجرت‘‘ اور ’’چھوٹے جہاد‘‘ کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے۔ مگر بڑی ہجرت اور بڑے جہاد کی کسی کو خبر نہیں۔ 28 اگست 1985 سائنس کی تاریخ میں اکثر بڑی دریافتیں اتفاق (chance) کے ذریعہ پیش آئی ہیں۔ سائنس دانوں نے اس کے لیے ایک خاص لفظ وضع کیا ہے، جس کو سرینڈیپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ سرندیپ کی ایک کہانی سے لیا گیا ہے۔ بہت سے لوگ سائنسی دریافتوں کو خوش گوار واقعات (happy accidents) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اکسرے (X-rays) کی دریافت اتفاقی طور پر ہوئی۔

تاہم یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اتفاق بذات خود دریافت تک پہنچاتا ہے۔ ہندوستانی سائنس داں سی وی رمن (1970-1888 ,Chandrasekhara Venkata Raman) نے صحیح کہا ــــ ایسا اتفاق صرف سائنس داں کو پیش آتا ہے۔ یعنی ایک شخص جو باتوں کو جانتا ہو اور وہ تحقیق میں لگا ہوا ہو، وہی بوقت اتفاق کسی بات کو پکڑ سکتا ہے۔ اسی بات کو پاسچر (1895-1822 ,Louis Pasteur) نے ان الفاظ میں کہا تھا ــــ مشاہدات کے میدان میں اتفاق صرف تیار ذہن کے لیے کارآمد ہوتا ہے: In the field of observation, chance favours only the prepared mind. اکسرے کا موجد رائنجن (1923-1845 ,Wilhelm Conrad Röntgen) قرار

Printed page