(William Crookes, 1832-1919) ك ک سال
Al-Risala, May 2021, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
حالانکہ اس سے پہلے یہ کروکس (1823-1919 ,William Crookes) کے مشاہدہ میں مگر اس نے اس کو بے معنی (nonsense) قرار دے کر نظر انداز کردیا، وغیرہ۔ نئی چیز دریافت کرنے کے لیے سب سے اہم چیزیں دو ہیں۔ ایک، تجسس (curiosity)، دوسرے یہ کہ آدمی وہ ضروری معلومات رکھتا ہو جس کے بعد وہ ایک چیز کو دوسری چیز سے وابستہ روز نامہ یہ کہ اس کی رہنمائی اور سر پرستی کے بغیر د ور و نز دیک اور پیر و مر کر سکے )link(۔
(Thomas Shadwell 1642-1692) انگ ر یز شاعر اور ڈراما نگار ٹامس شڈول قول ہے کہ بے وقوف کی جلد بازی دنیا میں سب سے زیادہ سست رفتار چیز ہے : آج کل کے لوگوں کے حالات کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی یہ سوچ کر لکھے یا بولے کہ رضائے خداوندی کیا ہے۔ ہر ایک بس یہ سوچ کر لکھتا ہے اور بولتا ہے کہ رضائے قوم کیا بہت سے موضوعات ہیں، جیسے: ہدایت کیا ہے؟ یہ ہے کہ نہیں؟ باب دوم، رضا کے موضوعات، ہے، رضائے مفاد کیا ہے، رضائے مصلحت کیا ہے، وغیرہ۔
ایک مفاد کا لفظ ہے، مگر اس کے معنی "مقابل ہلیہ" ہیں۔ باء، ماء، داد، ت ایک مفکر کا قول نظر سے گزرا کہ ” جہاں تلوار چلتی ہے وہاں سے حل غائب ہوجاتے ہیں “۔ نہایت درست بات ہے۔ اور پوری تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ جنگ اور تعمیر دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں ہو سکتا۔ سچے قائد کی پہچان یہ ہے کہ وہ جنگ اور ٹکراؤ سے آخری حد تک اعراض کرے۔ تا کہ اس کا لوہا تلوار بننے میں ضائع نہ ہو، بلکہ وہ ہل بنانے کے کام میں آسکے۔ ایک صاحب ایک مسلم قائد کی عظمت کے بہت زیادہ قائل تھے۔ انھوں نے قائدِ موصوف کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے پرجوش طور پر کہا: وہ سو بار غلطی کر سکتے تھے مگر وہ ایک بار بھی کسی
کے ہاتھ بک نہیں سکتے تھے‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’سو بار‘‘، غلطی کرنا خود بھی بکنے ہی کی ایک صورت یہ خود اپنے ہاتھ بکنا ہے، یہ اپنے نفس کے ہاتھ فروخت ہونا ہے۔
جب بھی آدمی کوئی غلط بات کہتا ہے یا کوئی غلط اقدام کرتا ہے تو بہت جلد مختلف طریقوں سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو جاتی ہے۔ اگر آدمی اپنے نفس کے ہاتھ بکا ہوا نہ ہو تو وہ اپنی غلطی کا علیٰ الاعلان اعتراف کرے گا۔ حتیٰ کہ اگر وہ قائد ہوتے ہوئے بار بار غلطی کیے چلا جا رہا ہے تو وہ اعلان کر دے گا کہ میں قیادت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میری فہم و بصیرت اس سے کم ہے کہ میں قوم کی قیادت کر سکوں۔ اس لیے میں قیادت کے کام سے مستعفی ہو رہا ہوں۔
کوئی شخص غلطی پر غلطی کرے اور پھر بھی قیادت کے میدان سے واپس نہ ہو تو یہ واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے اوپر اس کا نفس چھایا ہوا ہے۔ ساکھ اور عزت نفس کا سوال اس کو علیٰ الاعلان اپنی قیادت کی نااہلی کا اعتراف کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ اس سے زیادہ بکا ہوا انسان اور کون ہو سکتا ہے، جو پرجوش الفاظ اور حقیقت واقعہ میں فرق نہ کر سکے۔