3 ستمبر 1985
Al-Risala, May 2021, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ طائف (8ھ) کی روایات میں سے ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : ثُمَّ سَلَکَ فِي طَرِيقِ يُقَالُ لَهَا الضَّيِّقَةُ، فَلَمَّا تَوَجَّهَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا، فَقَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الطَّرِيقِ؟ فَقِيلَ لَهُ الضَّيِّقَةُ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ الْيُسْرَى (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 482)۔ یعنی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے پر چلے جس کو ’’تنگ‘‘ کہا جاتا تھا۔ جب آپ اس راستہ پر آئے تو آپ نے اس کے نام کے بارے میں پوچھا۔ کہا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے۔ کہا گیا کہ ’’تنگ‘‘ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ یہ آسان ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کا مزاج مثبت مزاج ہونا چاہیے۔ مومن تاریکی میں روشنی کو دیکھتا ہے، وہ ڈس ایڈوانٹج میں ایڈوانٹج کو دریافت کرتا ہے۔ وہ مشکل کو آسانی کے روپ میں ڈھال دیتا جس چیز کو عام لوگ الضَّیْقَة کہتے ہیں وہ مومن کے ذہن میں آ کر الْیُسْرَی بن جاتی ہے۔
یہی وہ چیز ہے، جس کو ٹائن بی نے برتر حل (superior solution) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ ابو سعید خدری ﷺ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله (جامع الترمذی، حدیث نمبر 1955) ۔ یعنی جو شخص انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتا۔
احسان کیے جانے پر احسان مند ہونا اور محسن کا شکر ادا کرنا ایک مزاج اور قلبی کیفیت کی بات ایک شخص کے اندر یہ مزاج حقیقی معنوں میں پیدا ہو جائے تو وہ دونوں معاملات میں شکر ادا کرنے لگے گا۔ جو شخص بندوں کے سلوک پر ان کا شکر گزار ہو وہ خدا کی نعمتوں پر بھی ضرور اس کا شکر اسی طرح جب ایک شخص خدا کی نعمتوں کا حقیقی معنوں میں شکر گزار ہو جائے تو بندوں کے سلوک پر بھی وہ ان کا شکر ادا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔