5 ستمبر 1985
Al-Risala, May 2021, pp. 22–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوْفًا فَكَافِئُوْهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوْنَهُ، فَادْعُوْا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوْهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 1672) ۔ یعنی کوئی شخص تمہارے اوپر احسان کرے تو اس کا بدلہ دو۔ اور اگر تمہارے پاس بدلہ پورا کرنے والی کوئی چیز نہ ہو تو محسن کے لیے دعا کرو۔ اور اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک تم کو خیال ہو کہ تم نے بدلہ پورا کر دیا۔
بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو دے۔ اگر اس کے پاس کوئی مادی چیز دینے کے لیے نہیں ہے تو وہ اس کے حق میں دعائے خیر کا ہدیہ پیش کرے ۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ سماج میں لوگ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ اور اگر لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے دعا کرنے کا مزاج پیدا ہو جائے تو ایسے سماج میں یقیناً خیر خواہی کا جذبہ پرورش پائے گا۔ کیوں کہ کسی کے حق میں سچی دعا اس کے بغیر نہیں نکل سکتی کہ اس کے لیے دعا گو کے دل میں سچی خیر خواہی کی کیفیت موجود ہو۔
ڈان Donn Piatt) کا قول ہے کہ بڑا آدمی وہ ہے جو اپنے کی انجام دہی کے لیے دوسروں کا دماغ استعمال کر سکے :
خود کرنا آسانی ہے مگر دوسروں سے کروانا بہت مشکل ہے۔ مگر صرف بل پر آدمی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ بہت سے دماغوں کو اس میں مصروف مگر بہت سے دماغوں کو کسی ایک کام میں مصروف کرنے کے لیے زبردست حکمت اور ذہانت درکار ہے۔ جو آدمی اس حکمت اور ذہانت کا ثبوت دے سکے یقیناً وہ اس قابل ہے کہ اس کو بڑا آدمی کہا جائے۔
مینڈک اگر ہاتھی کو نگلنا چاہے تو ہاتھی کا کچھ نہیں بگڑے گا، البتہ مینڈک کا پیٹ پھٹ جا۔ میںڈک اور ہنسی لوہانی کا پچھناں ہی بلڑے گا، البتہ میںڈک کا پیٹ پھٹ جائے گا۔ رچرڈ کشنگ (Richard James Cushing, 1895-1970) کا قول ہے کہ مذہبی شخصیتوں کے ساتھ جنت میں رہنا بہت عظیم ہے، مگر ان کے ساتھ زمین پر رہنا ایک مصیبت ہے: It is great to live with saints in heaven, but it is hell to live with them on earth. یہ دراصل مذہبی شخصیتوں پر طنز ہے۔ مذہبی لوگ وعظ کہتے ہیں کہ ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلو تو تم کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ مگر خود ان مذہبی شخصیتوں کا کردار اکثر نہایت برا ہوتا ہے۔ گویا کہ دنیا میں ان کے ساتھ رہنا جہنم میں رہنا ہے۔ جب کہ ان کے قول کے مطابق ان کے طریقے پر چلنا اگلی زندگی میں جنت میں داخل ہونا ہے ۔ مذہبی شخصیتوں کے قول و عمل یہ تضاد اکثر مذاہب میں پایا جاتا ہے۔
ایک بے صلاحیت آدمی کے لیے مشہور ہونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ شہید ہو جائے: یہ قول، خاص طور پر موجودہ پریس کے دور میں نہایت درست ہے۔ آج کوئی شخص قوم یا مذہب کے نام پر ایک احمقانہ اقدام کرتا ہے۔ اس کے بعد فورا اس کا نام چھپنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ تیزی سے شہرت حاصل کرلیتا ہے۔ احمقانہ اقدام کر کے شہید ہونا قوم کو تو کچھ نہیں دیتا، البتہ وہ شخص فوراً شہرت کا مقام پا لیتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں اس قسم کی شہرت حاصل کرنے والوں کی تعداد شاید سب سے زیادہ مسلمانوں میں ہے۔ موجودہ زمانہ میں لاکھوں مسلمان ہیں جنھوں نے قوم یا مذہب کے نام پر شہید ہو کر غیر معمولی شہرت پائی۔ حالاں کہ ان کی شہادت سے نہ مذہب کو کچھ ملا اور نہ قوم کو۔ دی اس میں مالتی اور ایک تاش کے پتے جیسی تاش کی طرح کٹ | ذاتی شہرت کا ذریعہ۔
انسان کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز در یافت ہے۔ در یافت ہی سے دنیا کی ترقیاں بھی ملتی ہیں اور در یافت ہی سے آخرت کی ترقیاں بھی۔
قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جو غیب پر ایمان لائے۔ اس سلسلے میں قرآن کے متعلق الفاظ ہیں: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (2:3) ۔ یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ غیب پر ایمان لانا کیا ہے ۔ یہ دوسرے لفظوں میں نا معلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں ) دورسی (discovery) کہا جاتا ہے۔
دنیوی ترقی کے رازوں کو خدا نے زمین و آسمان کے اندر چھپا دیا ہے۔ انھیں رازوں کو قوانین فطرت (laws of nature) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں انھیں رازوں (یا قوانین فطرت) کو دریافت کیا جاتا ہے۔ جو قوم ان رازوں کو دریافت کرے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہم مغربی اقوام کو یا ایشیا میں جاپان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں (developed countries) کو تمام ترقیاں ان کی انھیں دریافتوں کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہیں۔ اسی طرح عالم آخرت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا ہے۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جو چیز غیب میں ہے اس کو شہود میں لانا ہے۔ اسی دریافت یا اکتشاف کا نام جو شخص اس ایمان میں جتنا زیادہ آگے ہوگا وہ آخرت میں اتنا ہی زیادہ ترقی اور کامیابی حاصل کرے گا۔