Al-Risala · May 2021

18 ستمبر 1985

Al-Risala, May 2021, pp. 27–35

By Maulana Wahiduddin Khan

جولائی 1402ء میں انگورہ (Angora) کے میدان میں دو مسلم بادشاہوں کی لڑائی ہوئی۔ ایک طرف تیموری سلطنت کا بانی سلطان تیمور (1405-1336ء) تھا، دوسری طرف عثمانی سلطان بایزید اول (1403-1360ء)۔ یہ ایک نہایت خوف ناک جنگ تھی۔ اس میں تیمور کی فوج کے ایک لاکھ آدمی قتل ہوئے اور بایزید کی فوج کے صرف پچاس ہزار آدمی مارے گئے۔ اس کے باوجود شکست سلطان بایزید کے حصہ میں آئی۔

اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی سادہ وجہ یہ تھی کہ سلطان تیمور کی فوج میں پانچ لاکھ سپاہی تھے۔ کہ سلطان بایزید کی فوج میں کل ایک لاکھ سپاہی تھے۔ اس طرح سلطان تیمور کی فوج کے ایک لاکھ آدمی قتل ہونے کے بعد بھی اس میں چار لاکھ آدمی باقی تھے، اور سلطان بایزید کی فوج میں کل ایک لاکھ آدمی چنانچہ پچاس ہزار آدمیوں کے قتل ہو جانے کے بعد اس میں صرف پچاس ہزار آدمی باقی رہ گئے۔ سلطان بایزید بے حد بہادر آدمی تھا۔ مگر کیفیت (quality) کی زیادتی کمیت (quantity) کی کمی کو ایک حد تک ہی پورا کر سکتی ہے۔ اگر فریقین کے درمیان کمیت کے تناسب میں غیر معمولی فرق واقع ہو جائے تو کیفیت کی زیادتی کمیت کی کمی کی تلافی کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔ موجودہ زمانے کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو

وائسرائے کا ایک سفارتی وفد کل شام یہاں پہنچا، ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ پارٹیکل ہیں، وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے، مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری درو غضب ، ماہِ تمام کی حیثیت، برکت کے ساتھ یہ ہیں کہ وہ اس طرح ظہور میں آسکیں۔

اناتول فرانس (Anatole France, 1844-1924) کا قول ہے کہ یہ آدمی کی فطرت ہے کہ وہ دانش مندانہ طور پر سوچتا ہے، مگر بیوقوفی کے ساتھ عمل کرتا ہے : یہ بات بذاتِ خود صحیح ہے۔ مگر اس کی وجہ انسانی فطرت نہیں، بلکہ انسانی عادت ہے۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ معاملات میں دانش مندانہ طور پر سوچ سکے۔ عمل کرتے وقت وہ بے وقوف بن جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ سوچ کے وقت تو غیر جانب دار رہتا ہے۔ مگر عمل کے وقت اپنی غیر جانب داری کو باقی نہیں رکھ پاتا۔ صحیح عمل اکثر اپنی ذات کی نفی پر ہوتا آدمی اپنی ذات کی نفی پر راضی نہیں ہوتا، اس لیے وہ صحیح عمل بھی نہیں کرتا۔ اجتماع زندگی میں کوئی روح افزا چیز اتنی قیمتی نہیں ہوتی جتنا باشعور انسان کسی مشن کے ساتھ اجتماعی زندگی میں وہ انسان بہت قیمتی ہوتا ہے جو بلاشرط کسی مشن کا ساتھ دے۔ جو ساتھ دینے کے بعد مسائل کا جنگل نہ کھڑا کرے۔ صحابہ کرام نے تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا۔ تحریکی صفات کو اگر ایک لفظ میں بتانا ہو تو کہا جا سکتا ہے — وہ بے مسئلہ لوگ (no-problem person ) تھے۔ وہ اختلاف کو بھول کر مشن سے وابستہ رہتے تھے۔ وہ ذاتی شکایت کو نظر انداز کر کے قیادت کے حکم کی پابندی کرتے تھے۔ وہ انفرادی احساسات کو کچل کر اجتماعی تقاضوں کو پورا

کہ اس کے اندر کچھ حقائق کو اجاگر کیا گیا ہے، ان کا مطالعہ کیاجائے کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بے مسئلہ انسان ہوں، وہی دنیا کا مسئلہ حل کرتے ہیں ۔ جو لوگ خود مسائل میں مبتلا ہو جائیں ، وہ صرف دنیا کے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں ، وہ کسی بھی درجے میں دنیا کے مسائل کو کم نہیں کرتے۔

شو کا تعصب اتنا اہم اس لیے کرتا ہے مظاہرہ کو دیکھ کے میں کہ میں نہ اُس سنسگال ٴٴ ان ال اور کریغ شھر کی تعمیرات اور اس تمدنی مظاہر کو دیکھ کر میری زبان سے نکلا: ” انسان کے بغیر یہ تمدن نہیں ، اسی طرح خدا کے بغیر یہ کائنات نہیں ۔ (1747-1688) تان شاہ افشار (1726 - 1747 تک اس کا شاہی دور)

نادر شاہ افشار (1747-1688) ایران کا بادشاہ تھا۔ وہ 1736 سے 1747 تک ایران کا ایک مرتبہ اس کو یہ شبہ ہوا کہ اس کا لڑکا یہ سازش کر رہا ہے کہ وہ باپ کو ہٹا کر خود تخت پر بیٹھ نادر شاہ نے اپنے جوان لڑکے کو گرفتار کیا اور اس کی آنکھیں نکال کر اس کو اندھا کر دیا۔ نادر شاہ کی یہ بے رحمی اس کو اقتدار پر باقی رکھنے میں معاون نہ ہوسکی۔ جلد ہی اس کی فوج میں اس کے مخالفین پیدا ہو گئے، اور نادر شاہ خوداپنے فوجیوں کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ اس طرح کے بے شمار واقعات تاریخ میں موجود ہیں۔ مگر کوئی ان سے سبق نہیں لیتا۔ اپنے دائرے میں دوبارہ وہی کرتا ہے، جو نادر شاہ نے اپنے دائرے میں کیا تھا۔ ایک صاحب نے الرسالہ کے مشن سے پورا اتفاق کیا۔ میں نے کہا کہ جب آپ کو الرسالہ سے اتفاق ہے تو اس کی ایجنسی لے کر اس کو پھیلائیے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تو میں صرف پڑھتا آئندہ ایسا بھی کروں گا کہ ایجنسی لے کر اس کو دوسروں تک پہنچاؤں ۔ میں نے کہا کہ کرنے کا کام آج کیا جاتا ہے، کل نہیں کیا جاتا۔ جس شخص نے معاملے کو کل میں ایک حد تک درست رہتا۔ اس نے یہ بات کی کہ "یہی بات ہے"۔

(tomorrow) کے خانے میں ڈالا، اس نے معاملہ کو نہیں کے خانے میں ڈال دیا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6412)۔ عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: دو نعمتیں ہیں جن میں انسانوں میں سے بہت سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں — تندرستی اور فرصت۔

یعنی آدمی ایک کام کو کرنے کا کام سمجھتا ہے۔ مگر وہ سوچتا رہتا ہے کہ جب تندرستی ہوگی تو کرلوں گا یا جب فرصت ہوگی کرلوں گا۔ حالاں کہ یہ زبر دست بھول ہے۔ جو آدمی عذر کے فریب میں رہے وہ کبھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ عذر کو نظر انداز کر کے کام کیا جائے۔ ایک انگریزی مقولہ اس حدیث کی بہترین تشریح ہے۔ وہ مقولہ یہ ہے کہ اگر تمھارے پاس ایک اچھا عذر ہے تب بھی اس کو استعمال نہ کرو:

If you have a good excuse, don't use it. 27 ستمبر 1985 مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں بنی اسرائیل کا جو حال تھا، وہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان اب ایک مردہ قوم بن چکے ہیں، وہ کسی گہرے تعمیری کام کا حامل بننے کی طاقت نہیں رکھتے۔

بنی اسرائیل کا یہی حال ہو گیا تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ان کو صحرائے سینا میں لے گئے۔ ان کی ابتدائی نسل ختم ہوگئی اور نئی نسل صحرا کے ماحول میں پرورش پا کر تیار ہوئی تو اسی نے دوبارہ کام مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہندوستان مسلمانوں کا ’’صحرائے سینا‘‘ ہے۔ ہندوستان وہ مقام ہے جہاں وہ عمل جاری ہے، جو بنی اسرائیل کے ساتھ صحرائے سینا میں انجام پایا اس بنا پر مجھے صرف ہندوستان سے یہ امید معلوم ہوتی ہے کہ آئندہ کسی وقت یہاں کے مسلمان کسی زندہ اسلامی دعوت کے علم بردار بن سکیں۔ ہندوستان میں بہت بڑے پیمانہ پر یہ عمل جاری ہے کہ

یہاں کے لوگوں کو تربیت کے سخت کورس سے گزارا جارہا ہے یہ کورس جب مکمل ہوگا تو وہاں کے یہاں کے لوگوں کے لوربیت کے سخت کورس سے گزرا جارہا ہے۔ یہ کورس جب مکمل ہوگا تو یہاں کے مسلم افراد میں، ان شاء اللہ، وہ سنجیدگی اور حقیقت پسندی آچکی ہوگی، جو اسلام کی دعوت کا حامل بننے کے لیے ضروری ہے۔

کے لیے ضروری ہے۔

پر خرچ کر نے کے سلسلے میں قرآن مجید میں انفاق کا حکم اب انو رُوکّھ اس دُرث مالی اب پیسہ خرچ کرنے کے سلسلے میں قرآن میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے : وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا (17:29)۔ یعنی اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اس کو بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔ حدیث میں آیا ہے : مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ (مسند احمد، حدیث نمبر 4269)۔ یعنی جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا۔ اکثر پریشانیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اخراجات میں اعتدال کی حد پر قائم نہیں رہتا۔ شادی کرنا، گھر بنانا، اور اس طرح کے دوسرے اخراجات کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو وہ اپنی طاقت سے زیادہ خرچ کر ڈالتا ہے۔ اگر ایسے مواقع پر اپنی وسعت کو دیکھا جائے، نہ کہ کسی مفروضہ معیار کو، تو زیاوہ ن ان دور ماہے ، روایت پاس پرپس ا کبھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اینڈریو کارنیگی (1919-1835) ز اسٹیل کا صنحہ لٹ نہ سکی، رخنہ پڑ گیا میں مکالمہ تحریر کیا، 1889ء میں (۳۱)

اینڈریو کارنیگی (1919-1835) نے اسٹیل کی صنعت میں کافی ترقی کی۔ 1889ء میں اس نے ایک مقالہ شائع کیا جس کا نام تھا دولت کی بائبل (The Gospel of Wealth)۔ مقالہ میں اس نے بتایا کہ دولت مند آدمی جب دولت حاصل کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دولت کو رفاہ عام کے کام میں لگائے:

A rich man should, after acquiring his wealth, distribute the surplus for the general welfare. (Andrew Carnegie)

یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔ اینڈریو کارنیگی نے جو بات سماجی اصطلاح میں کہی وہی بات پیغمبر اسلام نے مذہبی اصطلاح میں اس طرح کہی ہے کہ خدا تمھیں دولت دے تو تم دائیں بائیں بات براے راست | میں کی نری ہیں ہی ادب کی باتیں

اور آگے پیچھے خرچ کرو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 990)۔

یہ اصول نہ صرف آخرت کی فلاح کا ضامن ہے بلکہ دنیا کی ترقی بھی اسی سے ملتی ہے۔ زمانے میں کئی ملکوں میں بیرونی افراد کے خلاف سخت ناراضگی پیدا ہوئی۔ مثلاً افریقن ملک یوگنڈا میں ایشیائی لوگوں کے خلاف، سری لنکا میں تامل والوں کے خلاف، پاکستان میں مہاجرین کے خلاف، اس کی وجہ یہی تھی کہ ان لوگوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کو صرف اپنی ذات پر خرچ کیا، مقامی آبادی پر خرچ نہیں کیا۔

جو تجارتی قومیں اس راز سے واقف ہیں وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ مستقل طور پر مقامی آبادی کی فلاح پر خرچ کرتی ہیں ۔ چنانچہ وہ نہایت کامیاب ہیں۔ مثال کے طور پر ہندستان میں جینی فرقہ اور یہ لوگ بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ اس کے باوجود ملک کی دولت کا بڑا حصہ ان کے قبضہ میں مگر آج تک ان کے خلاف کوئی ردِ عمل نہیں ہوا۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ ہر سال دوسروں کے اوپر خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً اسکول، اسپتال، تعلیمی وظائف وغیرہ وغیرہ۔ 1 اکتوبر 1985 علمائے تفسیر کا کہنا ہے کہ قرآن کی تفسیر کا مصدر اول خود قرآن ہے۔ اور قرآن کی تفسیر کا مصدر دوم وہ حدیث کو قرار دیتے ہیں۔

مثلاً سورہ فاتحہ میں ہے، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (1:7)۔ یعنی ان کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو راستے سے بھٹک گئے۔ یہاں سوال ہے کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں۔ حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ مغضوب علیہم سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ (مسند احمد، حدیث نمبر 19381)۔

اسی طرح قرآن میں ہے، وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60)۔ یعنی اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھوقوت۔ یہاں قوت سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلہ میں حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ

اَلْقُوَّةُ الرَّمْيُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1917)۔ جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے، جان لو کہ قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔

تاہم ان مصادر (sources) کے ساتھ ایک اور چیز انتہائی ضروری ہے، اور وہ ہے فقہ (حکمت و بصیرت)۔ اگر فقہ نہ ہو تو آدمی فرسٹ مصدر اور سیکنڈ مصدر کا ماہر ہونے کے باوجود قرآن کی درست تفسیر نہ کر سکے گا۔ مثلاً پہلی آیت (الفاتحه، 1:7) کی تفسیر میں مذکور حدیث میں صرف آدھی مکمل بات ایک دوسری حدیث کو ملانے سے سمجھ میں آتی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں امت مسلمہ کے بارے میں آیا ہے: لَتَتْبَعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7320)۔ یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کی پیروی کرو گے، قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی ضرور اس میں داخل ہو جاؤ گے، ہم نے کہا: اے خدا کے رسول، یہود و نصاری، آپ نے کہا: اور کون۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری نے بگاڑ پیدا ہونے کے بعد جو کچھ کیا وہی سب مسلمان بھی بعد کے زمانے میں کریں گے۔ ان دونوں حدیثوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں مغضوب اور ضالین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے زوال یافتہ ذہنیت کی وجہ سے خدا کی ناراضگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قدیم زمانے میں یہود و نصاری نے ایسا کیا تھا، بعد کے زمانے میں امت محمدی پر ایسا وقت آ سکتا ہے۔

اسی طرح دوسری آیت (الانفال، 60: کی تفسیر میں مذکور حدیث کو بھی بالکل لفظی معنی میں لے لیا جائے تو اسلام ایسی سائیکل کی مانند بن جائے گا، جس کا ہینڈل کس دیا گیا ہو، اور وہ سائیکل دائیں بائیں گھوم نہیں سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری آیت کی یہ تفسیر ایک زمانی تفسیر ہے، نہ کہ ابدی اگر اس تفسیر کو ابدی تفسیر قرار دیا جائے تو بعد کے ادوار میں مسلمانوں نے فوجی قوت کے لیے جو نئے نئے اضافے کیے، وہ سب غیر اسلامی قرار پائیں گے۔ یا کم از کم یہ کہ بدلتے ہوئے زمانہ کے

لحاظ سے دفاعی قوت کی فراہمی کے لیے قرآن سے انحراف ضروری ہوگا۔ ورنہ ہم اپنے دور کے لحاظ سے اپنے کو طاقت ور نہیں بنا سکتے۔

مسز انیس جنگ کی ایک انگریزی کتاب 1985میں پنگوئن بکس کے تحت چھپی ہے، جس کا نام ہے "ہندوستان بے نقاب" (Unveiling India)۔ مصنفہ نے ہندوستان میں عورتوں کے حالات کی تحقیق کے لیے ملک کے مختلف حصوں کے سفر کیے ۔ بیدر میں ان کی ملاقات جلال الدین چنگیزی سے ہوئی۔ مصنفہ کے بیان کے مطابق، جلال الدین چنگیزی نے کہا کہ قرآن میں عورت کو فتنہ بتایا گیا ہے، وہ جو مرد کو بہکائے اور اس کو مصیبت میں مبتلا کرے : In the Koran she is described as a fitna, one who tempts man and brings trouble (p. 30)

یہ حوالہ صحیح نہیں۔ کیوں کہ قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں جس میں عورت کو فتنہ کہا گیا ہو۔ البتہ ایک حدیث ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5096)۔ یعنی اپنے بعد میں نے سب سے زیادہ مضر فتنہ جو مردوں کے اوپر چھوڑا ہے وہ عورتیں ہیں۔

حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس میں مستقبل کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی اور وہ یہ کہ آئندہ آنے والے دور میں انسانی سماج میں سب سے زیادہ ضرر کا سبب عورتیں بنیں اس دور میں عورتیں مردوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جائیں گی۔ جس زمانے میں محترمہ انیس جنگ نے اپنی کتاب لکھی ہے، اس زمانے میں یہ پیشین گوئی اپنی کامل صورت میں سامنے آچکی ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جدید دنیا کے معاشرتی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب "جدید عورت" ہے۔ آج آزادی نسواں کے نام پر عورت کا جو حال کیا گیا ہے اس نے جدید معاشرہ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ عورت باعتبار تخلیق کوئی بری چیز ہے۔ اس میں صرف عورت کے اس غلط استعمال کا ذکر ہے جس کے نتیجہ میں عورت سماج کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ مولانا امیر اللہ خاں قاسمی ایک عربی مدرسہ چلاتے ہیں۔ انھوں نے اپنا ایک دلچسپ واقعہ ایک سفر میں ان کی ملاقات ایک عرب سے ہوئی۔ عرب نے گفتگو کے دوران کہا: مولانا امیر اللہ صاحب اس جملہ کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے عرب سے دوبارہ پوچھا کہ ’’چنسک‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ اس نے کاغذ پر لکھ کر بتایا تو معلوم ہوا کہ وہ کہہ رہا ہے: تمھارا چانس (chance) بہت اچھا ہے۔ عربوں میں انگریزی الفاظ کتنے زیادہ عام ہو گئے ہیں، اس کی یہ ایک دلچسپ مثال ہے۔

Printed page