Al-Risala · May 2021

15 اکتوبر 1985

Al-Risala, May 2021, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے سلسلہ میں ایک مسئلہ اختلافِ قرأت کا ہے۔ مگر اختلافِ قرأت کا مطلب اختلافِ متن نہیں ہے۔ قرآن میں جو اختلافِ قرأت ہے وہ دو قسم کا ہے۔ ایک وہ اختلافِ لہجہ (accent) کے فرق کا نتیجہ ہے۔ چوں کہ عرب کے مختلف قبائل میں الفاظ کی ادائیگی میں بعض فرق پایا جاتا تھا، اسی بنا پر قرآن کی قرأت میں بھی بعض مقامات پر فرق ہو گیا۔ مثلاً مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ (1:4) کے بجائے مَلِكَ يَوْمِ الدِّينِ (میم کے بعد الف کے بغیر) یا قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (114:1) کی جگہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وغیرہ۔ اس قسم کا فرق صرف پڑھنے کا فرق ہے، ان میں کتابت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔

اختلافِ قرأت کی دوسری صورت وہ ہے جس میں لفظ کا فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے: أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ (17:93)۔ یعنی یا تمہارے پاس سونے کا کوئی گھر ہو جائے۔ اس آیت کو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے پڑھا: أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ ذَهَبٍ (تفسیر ابن کثیر،

جلد 5، صفحہ 120)۔ یا مثلاً سورہ الجمعہ میں ہے: فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ (62:9) یعنی اللہ کی یاد کی طرف چل پڑو۔ اس کو بعض صحابہ نے اس طرح پڑھا: فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 120)۔ یا مثلاً سور البقرۃ میں ہے: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ اس کو ابن عباس نے اس طرح پڑھا ہے: لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ (فضائل القرآن للقاسم بن سلام، صفحہ 325)۔ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو حج کے زمانے میں۔

اختلاف قرآت کی یہ دوسری مثالیں قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ تفسیر کی قبيل سے ہیں۔ صحابی نے آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک نیا لفظ استعمال کیا تا کہ مخاطب اس کو سمجھ سکے۔ دنیا میں ایسا کوئی قرآن موجود نہیں جس میں متن کی کتابت اس دوسرے طریقے سے کی گئی ہو۔ کسی عبارت کے مفہوم کو کھو لنے کے لیے اس کے لفظ کو بدلنا پڑتا ہے۔ اختلاف قرآت کی دوسری قسم کا مطلب یہی ہے، صحابہ نے تفہیم کے مقصد سے لفظ بدل کر پڑھا۔

Printed page