17 اکتوبر 1985
Al-Risala, May 2021, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے حکم سے کئی مؤذنوں کی تقرریاں ہوئی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت بلال ان مؤذنوں کے صدر تھے۔ جب کوئی حکم ہوتا تو حضرت بلال کے واسطے سے تمام دوسرے لوگوں کو اس سے آگاہ کر دیا جاتا۔ مثلاً ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: أَمَرَ بِلالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ (سنن النسائی، حدیث نمبر 627)۔ یعنی آپ نے بلال کو حکم دیا کہ وہ اذان میں تشفیع کرے اور اقامت میں ایثار کرے۔
اس قسم کی روایتوں کا مطلب احناف اس طرح بتاتے ہیں: أن يكون المراد من أن يشفع الأذان: بالصوت، فيأتي بصوتين صوتين، ويوتر الإقامة في الصوت ( تجرید القدوری، جلد 1، صفحہ 419)۔ یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اذان میں شفع کرے، اس کو دو دو (اونچی) آواز میں
ادا کرے، اور اقامت کو کہرے (پنچی) آواز میں ادا کرے۔ فمحمول علی إيتار صوتہا بأن يحدر فيها ... لا إيتار ألفاظها (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 447)۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ اس کی آواز میں ایثار ہو، یعنی وہ اقامت میں جلدی جلدی پڑھے، نہ کہ الفاظ میں ایثار (ایک ایک اس کے برعکس شوافع وغیرہ کا کہنا ہے کہ یہاں تشفیع اور ایثار کا مطلب یہ ہے کہ اذان کے کلمات دوبار ادا کیے جائیں اور اقامت کے کلمات ایک بار ۔ حدیث میں تعمق اور تدقیق ساس اور باب کے مانے اور ایک بات ہ (hair-splitting) نے کیسے عجیب اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔
جناب پر وفیسر جی این جی ائی صا جب حجرہ میں " مت ہیں، ان کا قدیم طریقہ یونہی تھا ۔ جناب فرید الوحیدی صاحب جدہ میں رہتے ہیں۔ ان کا قدیم وطن دیوبند تھا۔ اب وہ سعودی شہری ہو چکے ہیں اور وہاں کے ایک کامیاب تاجر ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کا تجربہ ان الفاظ میں ہاروں روپے ہیں اور وہاں سے ایک نایاب کتاب ملتی ہے۔ اس میں سے چند نسخوں کا پتہ بڑھا اس
جو چیونٹی بن کر رہتا ہے وہ شکر کھاتا ہے جو شیر بن کر رہتا ہے وہ گولی کھاتا ہے ایک شعر ہے کہ ملتا ہے مولا کا پتہ مسجد میں یا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول مبارک ہے کہ ایک عرب سے ملاقات ہوئی۔ ان کو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول سنایا : اِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يُمِيتُونَ الْبَاطِلَ بِهَجْرِهِ (حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ (55)۔ یعنی بے شک اللہ کے کچھ بندے ہیں، جو باطل کو مٹاتے ہیں، اس کو ترک کر کے۔
انھوں نے اس کو پسند کرتے ہوئے کہا کہ اسی مفہوم کا ایک مقولہ عربوں میں رایج ہے جو کہ اس طرح ہے : لَوْ أَنَّ الْكَلَامَ مِنْ فِضَّةٍ لَكَانَ السُّكُوتُ مِنْ ذَهَبٍ (الزہد لابن ابی عاصم، اثر یں ہی ہے! وہ سہی ہے (مگر) آدمی کو خود اس میں تامل کرنا چاہیے۔
یعنی بولنا اگر چاندی ہو تو چپ رہنا سونا (gold) ہے۔
ہے (de La Bruyere ) ساتھ ہو رہی ہے۔ کہ فرنچ رائٹر اور مفکر جن کی رائے یہ ہے سترھویں صدی کے فرنچ رائٹر اور مفکر جین دی لا بروویئر (Jean de La Bruyère, 1696-1645) کا قول ہے کہ اس دنیا میں صرف دو طریقے ہیں جن کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو ،ناردوں ہے کہ اس دیس میں (روپ میں نے روپ میں ) پ
اوپراٹھا سکتا ہے۔ یا تو اپنی ذاتی محنت سے یا دوسروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر: In the world there are only two ways of raising one self, either by one's own industry or by the weakness of others. اس کی ایک مثال ہندوستان ہے، اور دوسری مثال جاپان کی جدید تاریخ ہے۔ 1947 میں جو آزادی حاصل کی، وہ دراصل دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان نے زبردست ترقی حاصل کی۔ اس کا راز جاپانی قوم کی وہ محنت تھی جو اس نے جنگ میں شکست کے بعد مسلسل انجام دی۔