11 اکتوبر 1985
Al-Risala, May 2021, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا خیال یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے پاس قومی حیثیت سے مثبت احساس موجود واحد چیز جوان کے پاس ہے وہ مخالف ہند و احساس (anti-Hindu feeling) اسی پر موجودہ زمانہ کے مسلمان کھڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے اندر کوئی ایسی تحریک اٹھتی ہے جس میں ہندو کے خلاف جذبات کے لیے اپیل ہو تو فوراً مسلمانوں کی بھیڑ کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور دعوت پر ان کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ موجودہ زمانے کے قائدین نے مسلمانوں کے اس احساس کو بھر پور طور پر استعمال کیا ہر وہ مسلم قائد جس نے موجودہ زمانے میں بڑی مقبولیت حاصل کی ہے، اس نے یہ مقبولیت اسی مخالفانہ احساس کو استعمال کر کے حاصل کی ہے۔ مگر میں اس قسم کی قیادت کو سراسر باطل سمجھتا کسی قوم کو مثبت نفسیات پر اٹھانا قیادت ہے، اور کسی قوم کو منفی نفسیات پر اٹھانا ہلاکت۔ 12 اکتوبر 1985 مسلم رہنماؤں نے ملک کی تقسیم (1947) اس لیے کرائی تھی کہ اس سے ہندو مسلم مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ مگر نتیجہ ان کے اندازے کے بالکل برعکس نکلا۔ تقسیم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے اختلافات کو اور بڑھا دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) نے بالکل درست لکھا ہے : After Partition of the Subcontinent into India and Pakistan,
constituted a complication (EB. 8/907)
یعنی انڈیا اور پاکستان کی صورت میں برصغیر کی تقسیم کے بعد دونوں ملکوں میں سیاسی اختلافات پہلے سے بھی زیادہ ہو گئے ۔
اس نتیجہ کو بطورِ واقعہ خود مسلم قائدین بھی تسلیم کرتے ہیں ۔ البتہ اس کی ذمہ داری وہ یک طرفہ طور پر ہندو اکثریت پر ڈالتے ہیں ۔ ان کی یہ روش بھی کس قدر عجیب ہے ۔ جو نتیجہ ان کی اپنی سیاسی فکر کو غلط ثابت کر رہا تھا ، اس کو انھوں نے دوبارہ دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کا ذریعہ بنا لیا۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم کے آپریشن کے باوجود اگر حالات کی باگ ڈور بدستور ’’ہندو‘‘ کے ہاتھ میں ہے تو اس ہولناک آپریشن کی کیا ضرورت۔
کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہو بات کی دردو بدل دو، ہمارا دور تمھارے ہاں ملتا ہے ,, ,, ,, ,, „ کے ” کہ ” الہ آباد میں جنت کے بارے میں قرآن میں ’’عِندَكَ‘‘ اور ’’عِندَ رَبِّهِم‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ میں یہ سمجھا ہوں کہ جنت مجلسِ خداوندی میں جگہ پانے کا دوسرا نام ہے۔ خدا کی صفت خاص یہ ہے کہ وہ پرفیکٹ (perfect) ہے۔ خدا کے قریب جو دنیا ہوگی وہاں ہر چیز پرفیکٹ ہوگی۔ وہاں پرفیکٹ باتیں ہوں گی ۔ پرفیکٹ سلوک ہوگا۔ پرفیکٹ سامان ہوں گے۔ یہ ایک پرفیکٹ ماحول ہوگا، اور پرفیکٹ ماحول میں جینے ہی کا نام جنت ہے۔
یہ پرفیکٹ دنیا(perfect world) اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنی ہی مقدار میں ہو، اس کی قیمت نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنے عمل کی قیمت پر جنت میں جگہ نہیں مل سکتی۔ صرف ایک چیز ہے جو جنت کی قیمت ہے۔ اور وہ ہے پرفیکٹ آدمی عمل کی سطح پر پرفیکٹ نہیں سکتا۔ مگر سوچ (thinking) کی سطح پر وہ پرفیکٹ بن یہی وہ چیز ہے جو موجودہ دنیا میں آدمی کو حاصل کرنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو کسی آدمی کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائے گی۔
میں ان دنوں اس کتاب پر کام کر رہا ہوں۔ پیر بخش تو
عربی زبان میں غیر معمولی طور پر یہ صلاحیت ہے کہ وسیع مضامین کو مختصر لفظوں میں ادا غالباً کسی اور زبان میں یہ صلاحیت اتنی زیادہ نہیں۔
ماہنامہ العربی (کویت) کو اپنی اشاعت اکتوبر 1985 میں صفحہ 32 پر ایک تصویر ہے۔ تصویر میں ایک عرب شیخ اپنے مخصوص حلیہ میں چھڑی لیے ہوئے کھڑا ہے۔ اس کے پیچھے ایک ہرے بھرے فارم کی تصویر ہے جس میں کھیت اور باغ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تصویر کے اوپر (فارمر کی زبان سے) لکھا ہوا ہے ـــ انھوں نے بویا تو ہم نے کھایا، ہم بوتے ہیں تا کہ وہ کھائیں : زرعوا فأكلنا، ونزرع ليأكلوا یعنی ہماری پچھلی نسلوں نے درخت لگائے جن کا پھل ہم کو ملا۔ اب ہم درخت لگا رہے ہیں تاکہ ہمارے بعد کی نسلیں اس کا پھل پاسکیں۔ جولوگ عربی زبان اور اس کے ساتھ دوسری زبانیں جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس تصور کو اتنے کم الفاظ میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ ادا کرنا کسی اور زبان بات میں رہا جات میں اس کی ضرورت نہیں | میں شاید ممکن نہیں۔
ایمان ایک دریافت ہے، اور دعوت اس دریافت کا ایک خارجی اظہار۔ شرعی اعتبار سے دعوت ایک خدائی حکم کی تعمیل ہے۔ اور نفسیاتی اعتبار سے ایک اندرونی تپش کا بے قرارانہ اظہار۔ دعوت کے ایک خدائی حکم ہونے کا شعور نہ ہو تو آدمی استقلال کے ساتھ اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔ دعوت کے پیچھے نفسیاتی انقلاب کی زمین موجود نہ ہو تو اس کے اندر وہ کیفیت اور وہ زور پیدا نہیں ہو سکتا جو سننے والے کو ہلائے اور اس کی سوچ بدلنے پر مجبور کر دے۔
حدیث میں آیا ہے : اَلْدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْکَافِرِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر ـــ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن خدا کے پڑوس میں رہنا چاہتا ہے اور دنیا میں اس کو انسانوں کے پڑوس میں رہنا پڑتا ہے۔ اس کی نظروں میں ” پرفیکٹ “ سمایا ہوا ہوتا ہے اور دنیا میں اس کو ” امپر فیکٹ “ سے نباہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ کامل سچائی کا طلب گار ہوتا ہے اور دنیا میں وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ اور ناانصافی اور دھاندلی کی حکمرانی ہے۔ وہ اصول پسند ہوتا ہے جب کہ دنیا میں اس کو ہر طرف بے اصولی کا راج دکھائی دیتا ہے۔
غیر مومن با اصول یا آئیڈ یلسٹ نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے صرف اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے، خواہ وہ جس طرح بھی ملے۔ وہ ہر صورت حال میں ڈھل کر اپنا مفاد محفوظ کر لیتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کے جھنجھٹ میں نہیں پڑتا اسی لیے اسے کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہوتی۔