Al-Risala · May 2021

18 اکتوبر 1985

Al-Risala, May 2021, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

خواجہ غلام الثقلین نے بیرونی ملکوں میں مسلمانوں کا تبلیغی مشن بھیجنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا تھا:

فرض کیجیے کہ کچھ حضرات یہ مشن لے کر جاتے ہیں اور دوسرے مذاہب کے پیروؤں کے سامنے اسلامی تعلیمات کو پیش کرتے ہیں کہ اسلام ہمیں سچائی ، انصاف، کاروبار میں دیانت داری ، روز مرہ زندگی میں باہمی تعاون، غریبوں کی مدد کرنا، شراب نوشی اور سود خواری سے دور رہنا سکھاتا تب ممکن ہے کہ وہ لوگ یہ دریافت کریں کہ کیوں صاحب، ہندوستان کے مسلمان تو عام طور پر دیانت دار ہوں گے۔ آپ کے معاشرہ میں اقتصادی مساوات ہوں گی۔ اور وہاں نہ کوئی مسلمان شراب پیتا ہوگا اور نہ سود کھاتا ہوگا۔ اگر ہمارے مبلغین نے راست گوئی سے کام لیا تو انھیں کہنا پڑے گا کہ نہیں بھائی، ہمارے یہاں بھی یہ انفرادی و اجتماعی خرابیاں موجود ہیں۔ تو پھر وہ ضرور کہیں گے کہ آپ اپنے ملک واپس جاکر مسلمانوں میں اسلام کی تبلیغ کریں۔ اور جب وہ صحیح معنی میں مسلمان بن جائیں تو پھر آپ ہمارے پاس آ کر تلقین کریں۔ چنانچہ مسلمان کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کرے۔

خواجہ صاحب کی یہ تنقید صحیح نہیں۔ کیوں کہ تبلیغ کا مقصد لوگوں کو مسلم معاشرہ‘ کی طرف بلانا نہیں ہے، بلکہ خدا کی طرف بلانا ہے۔ تبلیغ کا مقصد لوگوں کو حقیقت آخرت سے باخبر کرنا ہے، نہ کہ کسی دنیوی سماج سے باخبر کرنا۔

Printed page