Al-Risala · May 2021

19 اکتوبر 1985

Al-Risala, May 2021, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت صبر کے اُس پار ہے، مگر اکثر لوگ جنت کو صبر کے اس پار تلاش کرنے لگتے ہیں۔ 21 اکتوبر 1985 ایک صاحب تھے۔ وہ کسی سابق نواب کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ نوابی تو ختم ہو چکی تھی، مگر’’پدرم سلطان بود‘‘ (میں بھی بادشاہ تھا) کی نفسیات ان کے اندر پوری طرح باقی تھیں۔ ان کی ایک اس کا رشتہ کئی جگہ سے آیا مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ کیوں کہ یہ رشتے ان کے خیال سے ان کے شایان شان نہ تھے، اور جس رشتہ کو وہ اپنے شایان شان سمجھتے تھے، وہ انھیں مل نہ سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی لڑکی کی شادی نہ ہوسکی۔

یہی کیس زیادہ بڑی شکل میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ہے۔ مسلمانوں کی گزری ہوئی تاریخ نے ان کو ایک قسم کے احساسِ فخر میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس احساس فخر کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی چھوٹا کام انھیں اپنے شایان شان نظر نہیں آتا۔ ہمیشہ بڑے کام کی طرف دوڑتے ہیں، کیوں کہ وہی کام ان کو اپنے شایان شان نظر آتا ہے جس کو بڑے بڑے لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہو۔

اسی احساسِ فخر کی نفسیات نے موجودہ زمانے کے تمام مسلم رہنماؤں کی کوششوں کو بے نتیجہ موجودہ زمانے میں جو بھی مسلم رہنما اٹھا، اس نے ہمیشہ کسی بڑے کام کا نعرہ لگایا—ہر آدمی نے مینار پر کھڑا ہونا چاہا، کوئی بھی زمین پر کھڑا ہونے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ بے شمار ہنگامہ خیز تحریکوں کے باوجود موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی ملی تعمیر واقعہ نہ بن سکی۔ حقیقی تعمیر کے لیے ہمیشہ چھوٹی سطح سے آغاز کرنا پڑتا ہے، مسلم رہنماؤں نے اپنی پر فخر نفسیات کی بنا پر چھوٹی سطح کے کام کو اپنے شایان شان نہ سمجھا، اس لیے وہ کوئی حقیقی تعمیری کام بھی انجام نہ دے سکے۔

زندگی دو متضاد پہلوؤں کے درمیان نباہ کرنے کا نام ہے۔ زندگی کا سفر ایک اعتبار سے تنی ہوئی رسی پر چلنے (tight-rope walking) کی مانند ہے۔ آدمی کو بیک وقت دو سمتوں کی رعایت کرتے ہوئے چلنا پڑتا ہے۔ اس دو طرفہ توازن میں اگر فرق آ جائے تو زندگی کا سارا معاملہ بگڑ کر رہ جائے گا۔ قدیم زمانے میں اپنی محبوب شخصیت کو بڑھانے اور اپنی ناپسندیدہ شخصیت کو گھٹانے کے لیے بہت سے قصے گھڑے گئے۔ ایک مثال یہ ہے :

کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ (80-150ھ) تحصیلِ علم کے لیے مدینہ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات امام باقر (114-57ھ) سے ہوئی۔ تعارف کے بعد امام باقر نے کہا۔ کیا تم ہی قیاس کی بنا پر ہمارے دادا کی حدیثوں کی مخالفت کرتے ہو۔ ابو حنیفہ نے کہا عیاذ باللہ، حدیث کی کون مخالفت کر سکتا ہے۔ پھر مختصر گفتگو کے بعد دونوں میں حسب ذیل مکالمہ ہوا:

ابو حنیفہ : مرد ضعیف ہے یا عورت امام باقر: عورت ابو حنیفہ : وراثت میں مرد کا حصہ زیادہ ہے یا عورت کا۔

Printed page