Al-Risala · May 2021

امام باقر: مرد کا

Al-Risala, May 2021, pp. 43–46

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو حنیفہ : اگر میں قیاس لگاتا تو کہتا کہ عورت کو زیادہ حصہ دیا جائے۔ کیوں کہ ظاہرِ قیاس کی بنا پر ضعیف کو زیادہ ملنا چاہیے ۔

امام باقر اس گفتگو کو سن کر بہت خوش ہوئے اور اٹھ کر ان کی پیشانی چومی ۔ نقدِ داخلی بتا رہا ہے کہ یہ ایک بناوٹی قصہ ہے۔ امام باقر نے امام ابو حنیفہ پر جو الزام لگایا وہ حدیث کو رد کرنے کا تھا، نہ کہ قرآن کو رد کرنے کا۔ جب کہ مذکورہ گفتگو کے مطابق امام ابو حنیفہ نے جو مسئلہ بیان کیا، وہ قرآن سے ثابت ہے۔ اس کا انحصار حدیث پر نہیں۔ امام ابو حنیفہ جیسا ذہین آدمی یہ

نہیں کر سکتا کہ سوال حدیث کے بارے میں کیا جائے اور وہ جواب قرآن کے بار ے میں دینے لگے۔

اس قسم کے جھوٹے قصے کہانیوں نے ہمارے بیشتر لٹریچر کو غیر سائنٹفک بنا دیا ہے۔ سے عقیدت مندی کا مزاج رکھنے والا آدمی تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر علمی ذوق رکھنے والے آدمی کے یوٹ نہیں ہوتی ، اس میں دیسی مواد ہوتا ہے ، جو اس لیے اس کی افادیت بہت کم ہے۔

خارجہ کا ہوتا تھا ۔ خلاف یہ کسی قوم یا قبیلہ کے ساتھ خاص نہیں شخصیت خانه ۲ خوارج کا یہ کہنا تھا کہ خلافت کسی قوم یا قبیلے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر وہ شخص خلیفہ بن سکتا ہے جس کے اندر خلافت کی شرطیں پائی جائیں۔ بظاہر یہ ایک صحیح بات معلوم ہوتی ہے۔ صحابی رسول علی ابن ابی طالب کے الفاظ میں کَلِمَةُ حَقٍّ أُرِیدَ بِهَا بَاطِلُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (1066 کی مثال ہے، یعنی ایک حق بات جس سے باطل مطلوب ہے۔

اصل یہ ہے کہ عرب دو بڑے قبائلی گروہوں میں منقسم تھے__ مُضَر اور ربیعہ۔ قریش کا تعلق مضر سے تھا، اور خوارج زیادہ تر قبیلہ ربیعہ سے تعلق رکھتے تھے۔ قبیلہ مضر اور قبیلہ ربیعہ میں جاہلیت کے زمانے سے عداوت چلی آرہی تھی۔ صحابہ کرام نے جب عرب کے حالات کی رعایت کرتے ہوئے قریش میں سے خلیفہ کا انتخاب کیا تو قبیلہ ربیعہ کے لوگ بگڑ گئے۔ کیوں کہ قریش کا تعلق قبیلہ مضر سے ایسی حالت میں خوارج جو اصول پیش کرتے تھے، اس کا مقصد اپنے قبیلے کے حق میں خلافت کا استحقاق ثابت کرنا تھا ، نہ کہ اہل تر شخص کے حق میں اس کا استحقاق ثابت کرنا ۔ عہد وسطی میں شہنشاہ اور پوپ کے درمیان جو جھگڑا ہو رہا تھا ، اس میں باریاری بجھتی اس رتی تھی عہدِ وسطیٰ میں شہنشاہ اور پوپ کے درمیان جو جھگڑے ہوئے، ان میں ساری بحث اس پر تھی کہ حضرت عیسیٰ (یا خدا) نے دنیا کی حکومت پوپ کے سپرد کی ہے یا شہنشاہ کے، اور اگراِن دونوں میں اختلاف ہو تو قوم کو کس کے حکم پر چلنا چاہیے۔

آج یہ بحث بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ آج حکومت و سیاست کے معاملات میں نہ ”مسیح“ کا دخل ہے اور نہ ”پوپ“ کا۔ آج ان معاملات میں ساری حیثیت عوام کی مانی جاتی ہے یا نہ اس کا نام ہے اور نہ پتا ہے۔ اس اس معاملے میں یہ اس میں کہاں جاں ہے یا

عوام کے منتخب نمائندوں کی۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانی حالات کتنا زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ کی عمومی کامیابی کا انحصار تمام تر اسی پر ہوتا ہے کہ زمانی حالات اس کے موافق ہیں یا اس کے خلاف۔ آدمی اگر حکومت کے نظام میں تبدیلی لانا چاہتا ہے تو اس سے پہلے اس کو لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لانا اس کے بعد ہی وہ حکومت کے نظام میں کوئی حقیقی تبدیلی لانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ 26 اکتوبر 1985 ٹکراؤ کے میدان سے ہٹنا آدمی کو تعمیر کا وقفہ عطا کرتا ہے۔ اور اس دنیا میں وقفہ تعمیر کو پانا ہی کسی آدمی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایک پچھڑے ہوئے گروہ کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے لیے وقفہ تعمیر کو پالے۔ اس وقفہ تعمیر کو حاصل کرنے کی واحد لازمی قیمت یہ ہے کہ پچھڑا ہوا گروہ نزاع کے مقام سے اپنے آپ کو ہٹائے۔

اس دنیا میں آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے— مسائل اور مواقع۔ عقلمند وہ ہے جو مسائل کو مستقبل کے خانے میں ڈال دے اور اپنی ساری طاقت مواقع کو استعمال کرنے میں لگائے۔ مسائل میں الجھ کر وہ دونوں کو کھوئے گا، جب کہ مواقع کو استعمال کر کے وہ بالاخر دونوں کو پالے گا۔ بات ہے جس کو ایک مفکر نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے— مسائل کو بھوکا رکھو، مواقع کو کھلاؤ: Starve the Problems, Feed the Opportunities. 1 نومبر 1985 انسانوں میں کچھ کم صلاحیت کے لوگ ہوتے ہیں اور کچھ اعلیٰ صلاحیت کے لوگ۔ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا (43:32)۔ یعنی اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔

کم تر صلاحیت کے لوگ اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ کسی کے پیچھے چلیں ۔ یہ صرف اعلیٰ

صلاحیت کے افراد ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ اونچی صلاحیت کے افراد کوئی بڑا کام صرف اس وقت کر پاتے ہیں جب کہ وہ’’صبر‘‘ کی سطح پر کام کرنے کے لیے راضی ہوں۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا (32:24) ۔ یعنی اور ہم نے ان میں پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، جب کہ انھوں نے صبر کیا۔ بڑا کام کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی چھوٹا کام کرنے پر اپنے آپ کو راضی کر سکے۔ تعمیر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو گم نامی میں جانا پڑتا ہے۔ اس کو کبھی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ اس کو ایسا کام کرنا پڑتا ہے جس میں اس پر بزدلی اور مصالحت کا الزام لگایا جائے۔ موجودہ زمانے میں بہت سے اعلیٰ صلاحیت کے افراد پیدا ہوئے ۔ مگر ان میں سے ہر شخص کا یہ حال ہوا کہ اس کا اپنا شخصی گنبد تو کھڑا ہو گیا مگر اس کے ذریعہ سے ملت کا محل تعمیر نہ ہو سکا۔ واحد سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی حوصلہ مندی ان کے لیے’’ چھوٹا کام‘‘ کرنے میں مانع ان میں سے ہر شخص ایسے کاموں کے پیچھے دوڑتا رہا جن کو بڑے بڑے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہو—ایسا عمل صرف شخصیتیں بناتا ہے، وہ قوموں کی تعمیر نہیں کرتا۔

Printed page