کسٹم میڈ یونیورس
Al-Risala, June 2021, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بَدَنِهِ، آمِنًا فِي سِرْبِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيْزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِيرِهَا (حليۃ الاولیاء، جلد 5، صفحہ 249)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ جسمانی طور پر صحت والا ہو، اپنے مسکن میں مامون ہو، اور اس کے پاس اس دن کی روزی ہو، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا جمع کردی گئی۔
میں روزانہ صبح کو جب اپنے آفس سے نکل کر باہر بیٹھتا ہوں، تو سچ مچ واقعہ محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا میرے لیے پیدا کی گئی ہے۔ ہر چیز میری خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ غذا، پانی، آکسیجن، وغیرہ تمام چیزیں مکمل طور پر میری خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ گویا یہ یونیورس انسان کے لیے ایک کسٹم میڈ وہ انسان کی ضرورت کے عین مطابق ہے۔ اس حقیقت پر اگر انسان غور کرے تو وہ کبھی نیگیٹیو تھنکنگ کا شکار نہ ہو۔ وہ ہمیشہ نعمتوں کے احساس میں جینے لگے۔ اس کی زبان پر ہمیشہ شکر کا کلمہ حتی کہ انسان ایک گلاس پانی پیتا ہے، اور وہ جسمانی نظام کے تحت ہضم ہو کر باہر نکل جاتا ہے تو اس پر اس کو شکر ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح ہر چیز جو اس دنیا میں انسان کو ملتی ہے اس پر شکر کا جذبہ پیدا ہونا بالکل نیچرل بات ہے۔ مثلا غذا، ہوا کے ذریعے آکسیجن کا ملنا، پانی کی مسلسل سپلائی کا جاری اگر انسان سوچے تو یہ تمام چیزیں ہر وقت اللہ رب العالمین کی نعمت کو یاد دلاتی ہیں۔ اسی طرح مذکورہ حدیث میں ہے کہ وہ اپنے سرب (گھر) میں مامون ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پر امن سوچ یا مثبت سوچ کے ساتھ اپنے دن کی ابتدا کرے۔ اس دنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کے لیے جو چوائس ہے، وہ دوسروں سے ایڈجسٹ کرتے ہوئے اپنے معاملات کو مینج (manage) کرنا ہے۔ اس کو یہ کرنا ہے کہ وہ پر امن انداز میں پیش آنے والے چیلنج کا مقابلہ اسی حقیقت کو مذکورہ حدیث میں "مسکن میں مامون ہونا" کہا گیا ہے۔