ڈی لنکنگ ــــ ایک سنتِ رسول
Al-Risala, June 2021, pp. 11–12
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت وہ ہے، جس کو پالیسی آف ڈی لنکنگ ( policy of delinking) کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر مکہ میں آپ نے اپنا مشن شروع کیا۔ مکہ اہل شرک کے قبضے میں تھا۔ انھوں نے کعبہ کو 360 بتوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ رسول اللہ نے یہ کیا کہ کعبہ میں آنے والے زائرین اور اس میں موجود بتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ بت پرستی اور کعبہ کے قریب بت پرستوں کے اجتماع میں فرق کرنا۔ اس طرح ڈی لنکنگ پالیسی اختیار کرنے کی بنا پر آپ کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مکمل طور پر مثبت ذہن کے ساتھ اپنا مشن، دعوت الی اللہ کا عمل انجام دے سکیں۔ اگر آپ ڈی لنکنگ پالیسی اختیار نہ کرتے تو یہ فائدہ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کو صحابی رسول عمرو بن العاص (وفات 43 ھ) کے قول سے سمجھا جاسکتا ان کا قول یہ ہے: لَيْسَ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنَ الشَّرِّ، وَلَكِنِ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْنِ (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر (670)۔ یعنی عقل مند وہ نہیں ہے، جو خیر کے مقابلے میں شرکو پہچانے۔ بلکہ عقل مند وہ ہے، جو یہ جانے کہ دو شر کے درمیان خیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ شر کے مختلف پہلوؤں کو ڈی لنک کر کے دیکھا جائے تو شر کے اندر بھی خیر کا پہلو مل جائے گا۔ آپ نے کعبہ میں بت اور بت پرستوں کے معاملے میں جو طریقہ اختیار کیا، وہ کیا تھا۔ ان بتوں کا ظاہری پہلو یہ تھا کہ وہ شرک کا ذریعہ تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انھی بتوں کی وجہ سے وہاں لوگ جمع ہوتے تھے، اور اس کی وجہ سے وہاں ایک آڈینس بنتا تھا۔ رسول اللہ نے یہ کیا کہ بتوں کے مشرکانہ پہلو کو الگ کر دیا، اور بتوں کی وجہ سے وہاں آنے والے لوگوں کو اپنے لیے بطور آڈینس استعمال کیا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر عسر کے ساتھ یسر کا پہلو موجود ہوتا انسان اگر مثبت ذہن کے ساتھ معاملے میں غور کرےتو ہرعسر میں اس کو یسر کا پہلو مل جائے گا۔ انیسویں صدی میں انگریز جب انڈیا میں آئے تو انھوں نے مسلمانوں کو بہت سی چیزیں دیں۔
مثلاً انگریزی ایجوکیشن، جس کی وجہ سے مسلمان اس قابل ہوئے کہ وہ انڈیا کے باہر کی دنیا کو دیکھ سکیں۔ لیکن سارے مسلمانوں نے انڈیا میں اینٹی برٹش تحریک چلادی۔ اسی طرح آزادی کے بعد جو حکومت آئی اس نے بھی مسلمانوں کو بہت کچھ دیا۔ لیکن دوبارہ مسلمانوں کو حکومت سے شکایت پیدا ہوگئی، وغیرہ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم لیڈران زندگی کے ایک اصول کو نہیں جانتے ہیں۔ مسلم قائدین اس فطری قانون کو نہیں جانتے کہ ہر عسر کے ساتھ یسر موجود ہوتا ہے (الانشراح ، 6-94:5)۔ مطلب ہے پرابلم، اور یسر کا مطلب موقع (opportunity)۔ یعنی پرابلم کے درمیان موجود مواقع کو جاننا، اور منصوبہ بند انداز میں ان کو اویل (avail) کرنا، یہی زندگی کا اصول ہے۔ لیڈروں نے اس اصول کو نہ پہلے جانا، اور نہ وہ اب اس کو جانتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ ایک کام کیا وہ ہے اویلیبل مواقع کو نظر انداز کرنا، اور جو چیز اویلیبل نہیں ہے، اس کے اوپر تحریک یہی غیر حقیقی طریق کار ہر دور میں مسلمانوں پر غالب رہا ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے ہر دور میں صرف کھویا، کسی بھی دور میں وہ پانے والی چیز کو پانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ قرآن کی سورہ البقرہ میں زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو (2:155)۔ توسعی اعتبار سے حکومت کا ملنا، اور اس کا ہاتھ سے نکلنا، وغیرہ بھی اس میں شامل ہے۔ اور صبر کا مطلب ہے پرابلم کو اگنور کرنا، مواقع کو اویل (avail) کرنا۔ انسان پر زندگی کے جو مختلف مرحلے پیش آتے ہیں، وہ ایک موقع کے طور پر پیش آتے ہیں۔ زندگی کو جاننے والا شخص وہ ہے، جو زندگی کو ایک موقع کی صورت میں دریافت کرے، اور پھر منصوبہ بند انداز میں اس موقع کو استعمال کرے۔ مشکل حالات منفی چیز نہیں۔ مشکل حالات یا چیلنج کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ جب کسی گروہ کے اندر ایسی حالت پیدا ہو، تو انسان اس کو فطرت کا تحفہ سمجھے، اور ڈی لنکنگ کا طریقہ اختیار کر کے وہ اس کو بطور موقع اویل کرے ۔ اس طرح نان کریٹو گروہ کریٹیو (creative) گروہ بن جائے گا۔