ڈر، پست ہمتی
Al-Risala, June 2021, pp. 15–22
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیں: میرے ایک ساتھی ہیں جو جنوبی ہند میں دعوتی کام کرتے ہیں۔ آج کل وہ بیمار ہیں، میں ان کی عیادت کے لیے گیا تھا۔ دوران گفتگو انھوں نے اپنا تاثر بتایا کہ جب ہم ٹیم کی شکل میں 1998 میں شمالی ہند کے دعوتی دورے پر گئے۔ تو اس وقت مختلف شخصیات اور اداروں میں جانے کا موقعہ ملا تا کہ دعوتی کام کا تعارف ہو، اور ہمیں اچھا مشورہ اور حوصلہ ملے۔ نے بتایا کہ اس سفر میں تقریباً سارے ہی افراد نے ہمیں ڈرایا، اور پست ہمت کیا، اور کہا کہ دعوتی کام کے لیے حالات ناسازگار ہیں۔ اس میں صرف ایک شخصیت کا استثنا تھا، وہ مولانا وحید الدین خاں صاحب ہیں۔ انھوں نے ہماری ہمت افزائی کی، اور ہمیں مفید مشورے سے نوازا۔ ہمارے یہ ساتھی بہت ہی ایکٹیو داعی ہیں، انھوں نے کہا کہ میں آج کل بیماری کے ایام میں خود احتسابی (self-introspection) کی زندگی گزار رہا ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں کنفیوزن کا شکار ہوں، اور اس کی وجہ کیا ہے، اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ جب میں ان سے مل کر واپس آگیا تو انھوں نے یہ پیغام بھیجا: "آپ میری عیادت کے لیے آئے، اور مجھے دعاؤں کے ساتھ بہت کچھ دے گئے۔ جب سے میں بیمار ہوا ہوں، اپنے اور اپنی دعوتی ٹیم کے سلسلے میں بہت سوچتا رہتا ہوں کہ ہم نے بیس سال کا عرصہ لگا کر کیا حاصل کیا؟ ہمارا رخ کدھر کیا ہم دعوت اور بینڈ زندگی گزار رہے ہیں، دعوت کے نام پر ہم کیا کیا کام کر رہے ہیں، وغیرہ، اس طرح کے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ میں ان کے جوابات کی تلاش میں ہوں، کسی سوال کا کچھ جواب ملتا ہے، کسی کا نہیں، خیر ساری چیزیں اپنی ڈائری میں لکھ رہا ہوں، کیا پتہ میرے رب کی طرف سے دوبارہ موقع ملے تو میں اپنی اصلاح کروں۔ " مولانا جب انھوں نے آپ کی شخصیت کا اعتراف بطور داعی کے کیا، پھر بھی اپنے مقصد اور مشن کو لے کر کنفیوزن کا شکار ہیں، اس کی وجہ کیا ہو سکتی میرا خیال یہ ہے کہ کچھ علما اعتدال فکری کے نام پر کنفیوزن کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے وہ "دعوت
بھی کرے گا اور عدوات (دشمنی) بھی کرے گا" کہتے ہیں۔ اس کے برعکس، متعین رہنمائی پر اگر کوئی چلے تو اس کو شخصیت پرستی کا نام دیتے ہیں، یہی ان کا ذہنی انتشار ہے۔ اس پر کچھ رہنمائی فرمائیں۔ پچھلے سو سال سے زیادہ مدت کے اندر مسلمانوں میں بہت سی تحریکیں اٹھی ہیں۔ کے نام مختلف ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے سب کا محرک ایک تھا، اور وہ تھا ردِ عمل۔ تحریکیں ردعمل (reaction) کی تحریکیں تھیں۔ دورِ جدید کی مختلف تحریکوں کو انھوں نے اسلام کے لیے اور مسلمانوں کے لیے خطرہ سمجھا، اور وہ اس کے خلاف بطور دفاع اٹھ کھڑے ہوئے۔ کے مطابق ان میں سے کوئی تحریک حقیقی معنوں میں اللہ اور آخرت اور جنت کے لیے نہیں اٹھی۔ وجہ ہے کہ ان میں کہیں نہ کہیں منفی نفسیات موجود تھی۔ اسی منفی نفسیات کا سبب ہے کہ بظاہر وہ کوئی بھی نام لیں، مثلاً دعوت یا تبلیغ۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ردِ عمل کی تحریکیں تھیں، اور جو تحریک بطور ردعمل کے اٹھے، اس کے اندر وہی کمی پائی جائے گی، جس کی نشاندہی آپ کے ساتھی نے کی ہے۔ قرآن کی تعلیمات کے مطابق، مسلمان کی حیثیت شاہد کی ہے، اور دوسرے اقوام کی حیثیت مشہود کی (85:3)۔ یعنی دوسرے الفاظ میں مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہو، تو لوگوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پروان چڑھے اس کے برعکس، اگر حریف اور رقیب کا تعلق ہو، تو مسلمان منفی ذہنیت کا شکار ہو جائیں گے، دوسری قوموں کے بارے میں وہ خیر خواہی کے انداز میں نہیں سوچ پائیں گے۔ جب کہ پیغمبر اپنی مدعو قوم سے کہتے تھے: وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ (7:68)۔ یعنی میں تمھارا امانت دار خیر خواہ ہوں۔ پیغمبر شعیب نے کہا تھا: وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ (7:79)۔ یعنی میں نے تمھاری خیر خواہی کی مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بھلائی چاہنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہو، اس کے باوجود میں نے یک طرفہ طور پر تمھارے ساتھ خیر خواہی کی۔ اس منفی مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں مختلف قسم کی بے راہ روی پیدا ہوئی۔ اسی بنا پر یہ تحریکیں
مسلمانوں کے اندر صحت مند مزاج بنانے میں بری طرح فیل ثابت ہوئی ہیں۔ حتی کہ تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ بظاہر خواہ مختلف قسم کے داعیانہ الفاظ بولیں، لیکن ان کے اندر سے داعیانہ جذبہ تقریباً ختم ہو چکا اس لیے ان تحریکوں سے وابستہ افراد سے ملیے تو بہت جلد وہ ظلم اور سازش کے الفاظ بولنے لگتے ہیں، جس کو مذکورہ ملاقات میں ڈرا اور پست ہمتی کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے محفوظ رہنے کا راستہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ ہے کہ پچھلی غلطیوں کا اعتراف کیا جائے، اور دوبارہ مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کی منصوبہ بندی کی جائے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ان کو احساس ہوتا ہے کہ ماضی میں غلطی ہوئی، تب بھی وہ کھل کر اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ غلطی کا اعتراف کیے بغیر کچھ نیا کام کیا جائے۔ مگر اس قسم کا کام کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ غلط سرگرمیوں کے زمانے میں جو ذہن بنا ہے، اس کو اعلان کے ساتھ ترک کرنا ضروری ہے۔ اگر اعلان کے ساتھ ترک نہ کیا جائے، تو ممکن ہے کہ اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہیں۔
نیز یہ کہ آپ کے دوست نے کچھ افراد کے حوالے سے جو یہ بات کہی ہے کہ انھوں نے ہمیں ڈرایا، اور پست ہمت کیا، اور کہا کہ دعوتی کام کے لیے حالات ناسازگار ہیں۔ ایسے لوگوں پر حضرت عائشہ کا یہ قول ثابت آتا ہے کہ انھوں نے قرآن و حدیث پڑھا، مگر انھوں نے قرآن و حدیث نہیں پڑھا (أُولَئِكَ قَرَءُوا، وَلَمْ یَقْرَءُوا)مسند مسند احمد، حدیث نمبر 24609۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث سے عام طور پر صرف کچھ چھوٹے چھوٹے مسئلے نکالے جاتے ہیں، جن کو جزئی (فروعی) مسائل کہا جاتا اس کے برعکس، حدیث میں ابدی رہنمائی کا جو پہلو تھا وہ امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ یہ حدیث کی تصغیر (underestimation) ہے۔ حدیث یا سنتِ رسول سے سب سے بڑی چیز دریافت کرنے کی یہ ہے کہ رسول اللہ نے مسائل کو مواقع میں کنورٹ کیا۔ حدیث کو پڑھنے والے حدیث سے سب کچھ نکالتے ہیں، مگر اس قسم کی ابدی حکمت ابھی تک نہیں نکال پائے۔ ان کے موجودہ منفی ذہن کا یہی اصل سبب ہے۔
The Prophet of Peace پیغمبر اسلام، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (وفات 632ء) کے متعلق ہسٹورین نے عام طور پر اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی۔ مثال کے طور پر برٹش مؤرخ ایڈورڈ گبن (1737-1794 Edward Gibbon) نے اپنی کتاب "روما کا (The History of the Decline and Fall of the Roman "عروج و زوال Empire) میں پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اُن کے لائے ہوئے انقلاب کو تاریخ کا سب سے زیادہ قابل ذکر واقعہ بتایا ہے :
The rise and expansion of Islam was one of the most memorable revolutions which has impressed a new and lasting character on the nations of the globe. رائے (M.N. Roy) ایک انڈین لیڈر تھے۔ وہ بنگال میں 1887 میں پیدا ہوئے اور 1954 میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کی کتاب "ہسٹاریکل رول آف اسلام" (Historical (Role of Islam پہلی بار دہلی سے 1939 میں چھپی۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں : محمد کو تمام پیغمبروں میں سب سے بڑا پیغمبر ماننا چاہیے۔ اسلام کی توسیع تمام معجزوں سے زیادہ بڑا معجزہ ہے : Mohammad must be recognised as by far the greatest of all prophets. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (p. 4)
امریکا کے ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) کی کتاب "دی ہنڈریڈ" (The 100 نیو یارک سے 1978 میں چھپی۔ اس کتاب میں انہوں نے پوری انسانی تاریخ سے ایک سو ایسے افراد کی فہرست بنائی ہے جنہوں نے اُن کے مطابق، اعلیٰ کامیابیاں حاصل کیں۔ میں انہوں نے ٹاپ پر پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کا نام رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ وہ تاریخ کے تنہا شخص
ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے۔ مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی‘۔ یہاں یہ سوال ہے کہ پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ کی اس عظیم کامیابی کا راز کیا تھا۔ اس کا راز ایک لفظ میں امن تھا۔ یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام تاریخ کے سب سے بڑے پیسیفسٹ انہوں نے پر امن طریقہ (peaceful method) کو ایک کامیاب ترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: الصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ اختلافی معاملات میں پرامن طریقہ زیادہ نتیجہ خیز طریقہ ہے۔
اسی طرح خود پیغمبر اسلام نے فرمایا: يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی خدا نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے امن کو ایک مکمل آئیڈیالوجی کے طور پر دریافت کیا۔ آپ نے امن کو ایک ایسے طریقہ کار کے طور پر دریافت کیا جو ہر صورت حال کے لیے سب سے مؤثر (effective) تدبیر کی حیثیت رکھتا تھا۔
ایک مفکر نے لکھا ہے کہ ’’تاریخ کے تمام انقلابات صرف حکمرانوں کی تبدیلی (coup) کے واقعات تھے، وہ حقیقی معنوں میں انقلاب نہ تھے۔ ‘‘ یہ بات اگر صحیح ہو تو پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ کا نام اس معاملے میں ایک استثنا مانا جائے گا۔ کیوں کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعے وہ تمام انفرادی (individual)، سماجی اور سیاسی تبدیلیاں وقوع میں آئیں، جن کے مجموعے کو انقلاب (revolution) کہا جاتا ہے۔
اپنے مطالعے کی بنیاد پر میرا احساس یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا انسانی تاریخ میں جو کنٹری بیوشن
اُس کے لحاظ سے اُن کا سب سے زیادہ مناسب نام یہی ہو سکتا ہے کہ اُن کو امن کا پیغمبر (Prophet of Peace) کہا جائے۔
تاریخ ایک ایسا ڈسپلن ہے جس میں یہ امکان رہتا ہے کہ مطالعہ کرنے والا ایک سے زیادہ رایوں تک پہنچ جائے۔ تاہم مصنف کا یہ خیال ہے کہ ایسا زیادہ تر محدود مطالعے کی بنا پر ہوتا ہے۔ مطالعہ زیادہ وسیع اور جامع ہو تو تعدد آراء کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں کچھ دفاعی لڑائیاں پیش ان میں سے ایک دفاعی لڑائی وہ تھی جس کو جنگ بدر کہا جاتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جس وقت جنگ کا واقعہ ہوا، پیغمبر اسلام میدان جنگ سے باہر ایک عریش میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یا لکڑی سے آپ ریت پر کچھ لکیریں کھینچتے نظر آئے۔ اس واقعے کو لے کر ایک مستشرق نے بطور خود اس کو جنگ سے منسوب کیا، اور لکھا کہ قائدِ اسلام اُس وقت اپنی اگلی جنگ کا منصوبہ بنا رہے تھے‘‘: The leader of Islam was making his next war plan. مستشرق (Orientalist) نے یہ بات کسی حوالے کے بغیر صرف اپنے قیاس کی بنیاد پر لکھ حالاں کہ دوسری روایات کو دیکھا جائے تو خود روایت کی بنیاد پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام اُس وقت کیا کر رہے تھے۔ وہ دراصل یہ نقشہ بنا رہے تھے کہ آئندہ کس طرح امن قائم کیا جائے: چنانچہ دوسری روایت میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت بدر کی یہ دفاعی جنگ ہو رہی تھی، عین اُسی وقت خدا کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ خدا نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام نے فرمایا: هُوَ السَّّلامُ وَمِنْهُ السَّلَامُ وَإِلَيْهِ السَّلَامُ (البداية والنهاية، جلد 3، صفحہ 267)۔ سلامتی ہے اور اُسی سے سلامتی ہے، اور اسی کی طرف سلامتی ہے۔
اس دوسری روایت کے مطابق درست طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر پیغمبر اسلام اپنا اگلا منصوبۂ امن بنا رہے تھے:
The leader of Islam was making his next peace plan.
پیغمبرِ اسلام کو قرآن (21:107) میں پیغمبرِ رحمت کہا گیا ہے (وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِين) یعنی پرافٹ آف مرسی۔ پرافٹ آف مرسی ہی کا دوسرا نام پرافٹ آف پیس ہے۔ ایک ہی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے دو مختلف انداز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
پیغمبرِ اسلام کا مشن کوئی پولیٹیکل مشن نہیں تھا۔ آپ کے مشن کو دوسرے الفاظ میں اسپرچول مشن کہا جا سکتا ہے۔ قرآن (2:129) میں اس کو تزکیہ نفس (purification of the soul) بتایا گیا ہے۔ یعنی انسان کو کامل انسان بنانا۔ دوسری جگہ قرآن (89:27) میں اس کے لیے النفس المطمئنہ (complex-free soul) کے الفاظ آئے ہیں۔
اس قسم کا مقصد صرف نصیحت اور تذکیر (persuasion) کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ذہن کی تشکیلِ نو (re-engineering of the mind) کا طالب ہے۔ یہ مقصد صرف انسان کی تھنکنگ قوت کو بیدار کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے حصول کا ذریعہ سیاسی انقلاب نہیں ہے، بلکہ ذہنی انقلاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات تمام تر امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ پیغمبرِ اسلام کی لائی ہوئی کتاب قرآن میں تقریباً 6236 آیتیں ہیں۔ ان آیتوں میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جن میں قتال یا جنگ کا ذکر ہے۔ یعنی کل آیتوں کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ۔ قرآن کی 99 فیصد سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جن میں انسان کی قوتِ فکر کو بیدار کیا گیا ہے۔ اس لیے قرآن میں بار بار تدبر و تفکر پر ابھارا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن گویا آرٹ آف تھنکنگ کے موضوع پر ایک کتاب ہے، وہ کسی بھی درجے میں آرٹ آف فائٹنگ کی کتاب نہیں۔ پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات اور آپ کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے نہ صرف نظریہ امن پیش کیا بلکہ آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ پر امن زندگی کے لیے ایک مکمل طریقِ کار
He was able to develop a complete methodology of peaceful activism.
اسلام کے بعد کی سیاسی تاریخ نے پیغمبرِ اسلام کے اس پہلو پر ایک پردہ ڈال دیا تھا۔ ضرورت ہے کہ اس پردے کو ہٹایا جائے۔ یہ ہٹانا گویا پیغمبرِ اسلام کی دریافتِ نو (re-discovery of the Prophet of Islam) ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے نہ صرف امن کی ایک آئیڈیالوجی پیش کی، بلکہ امن کو عمل میں لانے کے لیے وہ ایک مکمل میتھا ڈولوجی آف پیس ڈیویلپ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ گویا کہ آپ نظریۂ امن کے آئیڈیالاگ بھی تھے، اور نظریۂ امن کو عملی انقلاب کی صورت دینے والے بھی۔