ابتدائی حالات
Al-Risala, June 2021, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
عرب ایک جزیرہ نما ہے۔ وہ ایشیا کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ یہ ایک صحرائی ملک ہے، اور انتہائی قدیم زمانے سے آباد ہے۔ قدیم زمانے سے یہاں مختلف قبائل اپنے اپنے علاقوں میں رہتے تھے۔ ہر قبیلے کا سردار اُن کے اوپر حاکم ہوا کرتا تھا۔ چار ہزار سال پہلے پیغمبرِ ابراہیم نے اپنے خاندان کو مکہ کے علاقے میں آباد کیا۔ یہ لوگ ایک خدا کو مانتے تھے اور ایک خدا کی پرستش کرتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ باہر کے اثرات سے یہ لوگ بتوں کو پوجنے والے بن گئے۔ اب بھی وہ سماجی روایت کے طور پر ایک خدا کو مانتے تھے مگر اسی کے ساتھ عملی طور پر وہ بہت سے بتوں کو پوجتے تھے۔ چھٹی صدی عیسوی میں پورا عرب ایک بت پرست ملک بن چکا تھا۔ عرب کے یہی حالات تھے جب کہ پیغمبرِ اسلام وہاں پیدا ہوئے۔ پیغمبرِ اسلام محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب عرب کے شہر مکہ میں 570 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 610 عیسوی میں مکے میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا۔ 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی۔ اس طرح آپ کی کُل عمر 63 سال تھی، اور آپ کی پیغمبرانہ عمر 23 سال۔
آپ پیدا ہوئے تو آپ کے والد عبداللہ بن عبد المطلب کا انتقال ہو چکا تھا۔ آپ کی عمر چھ سال تھی تو آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب بھی انتقال کر گئیں۔ اس کے بعد آپ اپنے دادا عبدالمطلب
اور اپنے چچا ابو طالب کی سر پرستی میں رہے۔ قرآن میں خدا نے پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی کے بارے میں فرمایا: اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۔ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی (6-7: 93)۔ یعنی کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں پایا، پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا۔ اور تم کو متلاشی پایا تو اس نے تم کو راہ دکھائی۔ قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کو اپنی ابتدائی زندگی میں جب یتیمی کا تجربہ ہوا تو اس تجربے نے آپ کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ کوئی چیز آپ سے کھوئی گئی ہے۔ یہ احساس آخر کار حق کی تلاش کی صورت میں ابھرا۔ آپ حق کی تلاش میں اتنا زیادہ سرگرداں ہوئے کہ اکثر آپ مکے کے باہر چلے جاتے اور قریبی پہاڑ حرا کے ایک کھوہ میں تنہائی کی حالت میں زندگی کی حقیقت کے بارے میں سوچتے رہتے اور دعا کرتے رہتے۔ آپ حق کی تلاش میں سرگرداں تھے کہ خدا نے 610 عیسوی کی ایک رات کو آپ کے پاس فرشتہ فرشتے نے آپ کو بتایا کہ خدا نے آپ کو اپنے پیغمبر کی حیثیت سے چن لیا ہے۔ اس کے بعد آپ پر قرآن وقفے وقفے سے اترتا رہا۔ 23 سال کی مدت میں وہ مکمل ہوا۔
پیغمبر اسلام کو خدا کی طرف سے یہ مشن دیا گیا کہ وہ لوگوں کو توحید کا پیغام پہنچائیں۔ کہ خدا صرف ایک ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ ہر اعتبار سے خدا رخی زندگی (God-oriented یہی انسان کی نجات کا راستہ ہے۔ پیغمبر اسلام اپنی ابتدائی زندگی میں ایک تاجر تاجر کی حیثیت سے ان کی تصویر ایسی بنی کہ لوگ اُن کو الامین (honest person) کہنے اس طرح آپ مکے میں ایک باعزت شخص بن گئے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ پیغمبری ملنے کے بعد جب آپ نے مکہ کے ایک ٹیلے صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا تو لوگ آپ کی بات سننے کے لیے وہاں جمع ہوگئے۔
یہ نبوت کی حیثیت سے آپ کا پہلا خطاب تھا۔ اس خطاب میں آپ نے لوگوں کو بتایا کہ موت کے بعد ہر ایک کو یا تو جنت ملے گی یا جہنم۔ اس لیے تم لوگ موت سے پہلے کے زمانے میں موت کے بعد کے زمانے کی تیاری کرو۔
مکہ میں اُس وقت بت پرستی کا رواج تھا۔ لوگ بت پرستی میں کنڈیشنڈ ہو چکے تھے۔ لیے ابتدائی زمانے کی اس تقریر کا لوگوں کے اوپر کوئی اثر نہیں ہوا۔ لوگ اثر لیے بغیر واپس چلے آپ کے چچا عبد العزیٰ (ابو لہب) نے منفی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا : ”تمہارا بُرا ہو، کیا تم نے یہی کہنے کے لیے ہم کو بلایا تھا (تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِهَذَا) مستخرج ابی عوانہ، حدیث نمبر 262 مکہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔ یہاں قبیلہ قریش کے لوگ رہتے تھے۔ قریش کو کعبہ کی تولیت حاصل تھی، جو کہ پورے عرب کا مذہبی مرکز تھا۔ اس بنا پر قریش کو پورے ملک میں سرداری کا مقام حاصل ہو گیا تھا۔ قریش نے مکہ میں دار الندوہ قائم کر رکھا تھا۔ دار الندوہ گویا قبائلی پارلیمنٹ تھی۔ قریش کے سینئر افراد دار الندوہ کے ممبر ہوتے تھے۔ یہاں تمام اہم اُمور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبر اسلام کے دادا عبد المطلب دار الندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔ عام رواج کے مطابق ، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگیٹ یہ تھا کہ وہ دار الندوہ کا رُکن بننے کی کوشش کرے ۔ جو گویا اُس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا بظاہر اس کے بغیر عرب یا مکہ میں کوئی بڑا کام نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے دار الندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبد المطلب کی خالی سیٹ اُنہیں دی جائے۔
دار الندوہ کے معاملے میں پیغمبر اسلام نے وہ پر امن طریقہ اختیار کیا جس کو اسٹیٹس کو ازم (status quoism) کہا جاتا ہے۔ یعنی صورتِ موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا ، بلکہ جو صورتِ موجودہ ہے اس کو علیٰ حالہ قبول کر لینا۔ مگر پیغمبر اسلام کا اسٹیٹس کو ازم سادہ طور پر صرف اسٹیٹس کو ازم نہ تھا ، بلکہ وہ مثبت اسٹیٹس کو ازم (positive-status quoism) تھا۔ مثبت اسٹیٹس کو ازم یہ ہے کہ آدمی وقت کے نظام سے ٹکراؤ نہ کرے ، بلکہ وہ یہ کرے کہ وقت کے نظام میں موجودہ مواقع کو دریافت کر کے اُسے استعمال کرے۔ اس طریق کار کو فارمولا کی زبان میں اس طرح کہا جا سکتا ہے :