Ignore the problem, avail the opportunities.
Al-Risala, June 2021, pp. 25–28
By Maulana Wahiduddin Khan
پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کا یہ طریقہ ایک انتہائی حکیمانہ طریقہ تھا۔ اس کی طرف رہنمائی پیغمبر اسلام کو خود قرآن کی ابتدائی آیتوں میں ان الفاظ میں دی گئی: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً یعنی ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس طرح پیغمبر اسلام کو بتایا گیا کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی گلی معنوں میں مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر مسئلہ کے ساتھ ہمیشہ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اس لیے آدمی کو یہ حکمت اختیار کرنا چاہیے کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرے اور مواقع کو استعمال کرے۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ طریقہ ایک حکیمانہ آغاز کی حیثیت رکھتا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ آج جو ممکن ہے، اُس سے اپنے عمل کا آغاز کرو۔ اس طرح کل وہ چیز ممکن ہو جائے گی جو بظاہر آج ممکن نظر نہیں آتی۔
پیغمبر اسلام کا مشن توحید (oneness of God) کا قیام تھا۔ اس لحاظ سے آپ کے لیے اُس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مکہ کے مقدس عبادتی مرکز کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ عرب کے مختلف قبائل کے بت تھے۔ اور مکہ کے سرداروں نے ان بتوں کو کعبہ میں اس لیے رکھا تھا تا کہ وہ مکہ کو مرکزی مقام کا درجہ دے سکیں۔ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت کا ہونا ایک پرابلم تھا، مگر اسی کے ساتھ اُس میں ایک موقع (opportunity) بھی چھپی ہوئی تھی۔ ان بتوں کی وجہ سے ایسا ہوتا تھا کہ مکہ کے لوگ اور مکہ کے باہر کے لوگ وہاں ہر روز جمع ہوتے اس طرح کعبہ لوگوں کے لیے اجتماع کا ایک فطری مقام بن گیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا، اور ان بتوں کی وجہ سے وہاں لوگوں کے اجتماع کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا۔ اب آپ نے یہ کیا کہ آپ روزانہ وہاں جاتے اور لوگوں سے ملاقات کرتے اور ان کو قرآن کی آیتیں سناتے۔
قدیم مکہ میں پیغمبر اسلام نے دعوت کا جو مذکورہ طریقہ اختیار کیا، وہ پرابلم سے خالی نہ تھا۔ کے طور پر قرآن کی سورہ النجم اتری تو حسب معمول آپ نے یہ کیا کہ کعبہ کے اجتماع میں جا کر لوگوں کو
اُسے پڑھ کر سنایا۔ اس سورہ میں عرب کے بڑے بڑے بتوں کو بے حقیقت بتاتے ہوئے یہ الفاظ تھے : أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ. وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى (53:19-20)۔ یعنی بھلا تم نے لات اور عزّیٰ پر غور کیا ہے ۔ اور تیسرے ایک اور منات پر۔
اس آیت میں لات ، عزّیٰ اور منات کے نام آئے ہیں۔ یہ تینوں بت قدیم عرب کے بڑے بڑے بت تھے۔ قدیم عربوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب کسی مجلس میں ان بتوں کا نام آتا تو وہ اُن کے اعتراف کے لیے کچھ تعظیمی الفاظ بولتے ۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ جب پیغمبرِ اسلام نے قرآن پڑھتے ہوئے لات و عزّیٰ اور منات کے نام لیے تو وہاں کے مشرک حاضرین نے اپنے رواج کے مطابق ، بلند آواز سے کہا: تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى. وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجَىٰ پیغمبر اسلام کی آواز میں حاضرین کی مذکورہ آواز مل گئی۔ انہوں نے سمجھا کہ خود رسول اللہ نے یہ الفاظ کہے ہیں۔ یہ خبر نہایت تیزی سے پھیل گئی ، یہاں تک کہ یہ خبر حبش تک پھیل گئی ۔ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبرِ اسلام نے مشرک عربوں کے اس مطالبے کو مان لیا ہے کہ اُن کے جو بت ہیں وہ بھی خدا کی خدائی میں شریک ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف ایک غلط فہمی تھی ، نہ کہ کوئی حقیقی واقعہ۔ اس طرح مکہ میں پیغمبرِ اسلام لوگوں کو مسلسل عقیدۂ توحید کی طرف بلاتے رہے۔ کے لیے وہ لوگوں کو خطاب بھی کرتے اور انفرادی طور پر ان سے مل کر اُنہیں اپنا پیغام پہنچاتے اس طرح ایک ایک کرکے لوگ پیغمبرِ اسلام کے دین میں داخل ہوتے رہے۔ خدیجہ ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر ، حضرت عثمان، وغیرہ۔ تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ اپنے مذہبی عقیدے کے بارے میں بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ چنانچہ مکہ میں پیغمبرِ اسلام کی مخالفت شروع ہو گئی۔ ہر تدبیر سے یہ کوشش کرنے لگے کہ آپ کا توحید کا مشن ختم ہو جائے۔ اس مخالفت کا سبب کسی بھی درجے میں سیاسی نہ تھا ، وہ صرف اعتقادی حساسیت کی بنا پر تھا۔ اس مخالفت کا سبب صرف اعتقادی اختلاف تھا ، نہ کہ کوئی سیاسی خطرہ۔
پیغمبرِ اسلام کے اس ابتدائی دور میں آپ کی بیوی خدیجہ اور آپ کے چچا ابو طالب آپ کے
لیے گویا سپورٹ سسٹم بنے ہوئے تھے۔ اعلانِ نبوت کے دسویں سال ان دونوں کا انتقال ہو گیا۔ قدیم قبائلی رواج کے مطابق، اب آپ کو ضرورت تھی کہ آپ کسی اور کو تلاش کریں، جو آپ کو اپنی پناہ میں لے لے۔ تا کہ آپ اپنا مشن بدستور جاری رکھ سکیں۔
پناہ کے حصول کے لیے پہلے آپ نے مکہ میں کوشش کی۔ کعبہ کی زیارت کے لیے جو قبائلی سردار مکہ آتے تھے، اُن سے اس مقصد کے لیے ملاقاتیں کیں۔ مگر اُن میں سے کوئی شخص تیار نہیں آخر کار آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ مکہ سے 75 کلومیٹر دور واقع شہر طائف جائیں۔ اور وہاں کے سرداروں سے پناہ طلب کریں۔ عرب رواج کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ مگر طائف کے سردار جو خود بھی بتوں کے پرستار تھے، وہ توحید کے پیغمبر کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ نے اپنے شہر کے لڑکوں کو اکسایا کہ وہ آپ کو پتھر مار کر شہر کے باہر کر دیں۔ آپ طائف سے باہر ایک باغ میں رات گزارنے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے۔ کے مطابق، اُس وقت، خدا نے پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) کو آپ کے پاس بھیجا۔ نے آپ سے کہا کہ طائف والوں نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کو خدا نے دیکھا۔ آپ اجازت دیں تو میں طائف کے اطراف میں واقع پہاڑوں کو ایک دوسرے میں ملا دوں۔ طائف کے لوگ اِس میں دب کر ختم ہو جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام نے کہا کہ نہیں۔ طائف کی موجودہ نسل نے اگر چہ میری بات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ طائف کی اگلی نسلیں میری بات کو مانیں گی اور خدا کے راستے پر چلیں گی (بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لَا يُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231۔ پیغمبر اسلام طائف سے واپس ہو کر دوبارہ مکہ پہنچے تو قریش کا ظلم اور زیادہ بڑھ گیا۔ نے دار الندوہ میں مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو قتل کر دیں۔ اس فیصلے میں مکہ کے تمام قبائل شریک ہو گئے۔ اُس وقت مکہ اور اطرافِ مکہ میں تقریباً دو سو آدمی پیغمبر اسلام کے پیغام کو مان کر اُن کے ساتھی بن چکے تھے، مگر یہ تعداد قریش کے مقابلے میں آپ کی حمایت کے لیے ناکافی تھی۔
آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے جائیں، جو مکہ سے تقریباً تین سومیل کے فاصلے پر واقع تھا۔